9/11 کے 25 سال: مرکزی ملزم کو آج تک سزا کیوں نہیں مل سکی؟

اسلام آباد میں ستمبر کی شامیں بہت خوش گوار ہوتی ہیں۔ میں ان دنوں ایک اردو روزنامے میں میگزین ایڈیٹر کے فرائض سرانجام دیا کرتا تھا۔ اس کا دفتر میلوڈی مارکیٹ میں اسی عمارت میں تھا جہاں آج کل انڈپینڈنٹ اردو کا دفتر ہیں۔

کام سے فراغت کے بعد میں اپنے گھر کی قریبی گلی سے گزر رہا تھا کہ وہاں  شور سنائی دیا۔ لوگ کہہ رہے تھے امریکہ پر حملہ ہو گیا ہے۔ میں جلدی سے گھر پہنچا۔ ٹی وی لگایا تو دوسرے طیارے کو اپنی آنکھوں سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکراتے ہوئے دیکھا۔ پھر چند ہی لمحوں میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو دھڑام سے گرتے اور راکھ ہوتے بھی دیکھا۔

اگلی صبح آفس پہنچا تو عرفان صدیقی مرحوم سے جو اس وقت اخبار کے ایگزیکٹو ایڈیٹر تھے، اداریے کے بارے میں مشاورت کی۔ وہ سخت پریشان تھے۔ انہوں نے اداریہ لکھنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ’سجاد! نجانے ہمارے ملک پر کیا افتاد پڑنے والی ہے؟‘

ہمارے دفتر سے کچھ ہی فاصلے پر معروف صحافی حامد میر کے اخبار کا دفتر تھا۔ ان لمحوں سے چند منٹ پہلے جب ابھی ٹوئن ٹاورز سے جہاز بھی نہیں ٹکرائے تھے، اسامہ کا ایک پیغام رساں حامد میر کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ’ٹی وی لگاؤ۔‘ جب اسے سی این این لگا کر دیا گیا تو اس نے کہا کہ ’مجھے دس پندرہ منٹ دے دو، میں نے آرام کر کے کوئی بات بتانی ہے۔‘

حامد میر کے بقول وہ تھوڑی دیر بعد نیوز روم میں چلے گئے تو اسی دوران اس نے مجھے شیشے کے اندر سے پکارا کے اندر آؤ، میں گیا تو سی این این پر ٹوئن ٹاور سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ حامد میر نے یہ واقعہ برسوں بعد ایک ٹی وی پروگرام میں بیان کیا تھا۔

آج اس واقعے کو 25 برس ہو چکے ہیں۔ مجھے جیکسن ہائیٹس نیویارک کی وہ شام بھی یاد ہے جب ایک غیر ملکی سفارت کار نے فون پر اطلاع دی تھی کہ اسامہ بن لادن آپ کے ملک کے اندر مارا گیا ہے۔

ایسے لگتا ہے جو افتاد گیارہ ستمبر کو پاکستان پر پڑی تھی وہ شکلیں بدل بدل کر ہمارے سامنے آ رہی تھی۔ گیارہ ستمبر سے پہلے پاکستان کو خطرہ صرف انڈیا سے تھا آج افغانستان، طالبان اور بلوچ علیحدگی پسند سب پاکستان کی سلامتی کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔

امریکہ کے چار جہازوں کو 19 ہائی جیکرز نے خودکش مشن کے تحت اغوا کیا تھا۔ ان میں سے کوئی بھی پاکستانی باشندہ نہیں تھا لیکن ان کے ماسٹر مائنڈ کا تعلق پاکستان سے بنتا تھا۔ اگرچہ وہ خود کویتی شہری تھا تاہم اس کا باپ بلوچ تھا، جو بطور امام 1950 کی دہائی میں کویت چلا گیا تھا۔ اسامہ کو مرے ہوئے بھی 15 سال گزر چکے ہیں لیکن گیارہ ستمبر کے مرکزی ملزم خالد شیخ محمد کو ابھی تک سزا نہیں سنائی جا سکی۔

خالد شیخ محمد کون ہے؟ اسے پاکستان سے کیسے گرفتار کیا گیا تھا اور آج تک اسے سزا کیوں نہیں مل سکی؟ گیارہ ستمبر کے 25 سال گزرنے کے بعد یہ سوالات نہایت اہم ہیں۔

خالد شیخ محمد کون ہے؟

وہ ایک بلوچ خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش پاکستان میں ہوئی یا کویت میں، اس حوالے سے مختلف آرا ہیں۔ تاہم وہ 70 کی دہائی کے وسط میں اپنے خاندان کے ہمراہ کویت منتقل ہو گیا تھا، جہاں وہ بچپن میں ہی اخوان المسلمین سے متاثر ہوا۔ 1984 سے 1986 کے درمیان اس نے شمالی کیرولینا یونیورسٹی سے مکینیکل انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔

کویت سے واپسی کے بعد وہ افغانستان چلا گیا، جہاں اس دور میں روس کے خلاف جنگ جاری تھی۔ وہاں اس نے عبداللہ عزام کے کیمپ میں تربیت لینی شروع کر دی، یہیں خالد شیخ محمد کی ملاقات اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور رضوان اسام الدین المعروف حمبلی سے ہوئی جو بعد ازاں انڈونیشیا کے عسکریت پسند گروپ جماعتِ اسلامیہ کا سربراہ بنا۔

خالد شیخ محمد نے ایک سال سے بھی کم عرصہ افغانستان میں گزارا، پھر وہ پشاور منتقل ہو گیا جہاں انہوں نے افغان پناہ گزینوں کی سیاسی جماعت اتحادِ اسلامی کے سربراہ عبدالرسول سیاف کی دعوۃ الجہاد نامی یونیورسٹی میں انجینیئرنگ پڑھانی شروع کر دی۔ یہاں افغان پناہ گزینوں کو جنگ کی جانب راغب کیا جاتا تھا۔

1992 میں جب خالد شیخ محمد پاکستان میں تھا، اس نے اپنے بھانجے رمزی یوسف کو جو نیوجرسی میں رہائش پذیر تھا، کچھ رقم بھیجی جس کا مقصد ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر مجوزہ حملے کی معاونت کرنا تھا، جو 26 فروری 1993 کو ایک بم دھماکے کی صورت میں سامنے آیا۔

خالد شیخ محمد کے ایک دوسرے بھانجے عمار البلوچی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فروری 2003 میں ان کی پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی سے شادی ہوئی تھی، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے ہائی جیکروں کے مالی انتظامات کے لیے مدد کی تھی۔

حملے کے بعد رمزی یوسف کراچی پہنچا جہاں اس کی خالد شیخ محمد سے ملاقات ہوئی۔ 1993 کے آخر میں خالد شیخ محمد قطر منتقل ہو گیا جہاں اس نے قطر کی وزارت پانی و بجلی میں بطور انجینیئر ملازمت اختیار کر لی لیکن 1994 کے اوائل میں ہی وہ رمزی یوسف کے ساتھ منیلا چلا گیا، جہاں اس نے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی۔

’بوجنکا منصوبہ‘ جس کے تحت بحرالکاہل کے اوپر 12 امریکی مسافر طیاروں کو بم دھماکوں سے تباہ کیا جانا تھا۔ اس کے علاوہ پوپ جان پال اور امریکی صدر بل کلنٹن بھی 1994 کے آخر میں منیلا آنے والے تھے انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔

رمزی یوسف نے تجربے کے طور پر منیلا کے خالی تھیٹر میں بم دھماکہ کیا۔ اس کے بعد فلپائن ایئر لائن کی ایک فلائٹ میں بم رکھ دیا اور خود فلائی کرنے سے پہلے ہی اتر گیا۔ اگرچہ بم دھماکے سے ایک جاپانی تاجر مارا گیا تاہم پائلٹ جہاز کو بحفاظت اتارنے میں کامیاب ہو گیا۔

دہشت گردی کا یہ منصوبہ اس وقت پکڑا گیا جب بم بنانے کے دوران دھماکہ ہو گیا۔ خالد شیخ محمد فرار ہو کر کویت پہنچا اور رمزی یوسف پاکستان آ گیا۔

فلپائنی حکام یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ خالد شیخ محمد کا اپارٹمنٹ بم فیکٹری بنا ہوا تھا۔ رمزی یوسف کو پاکستان میں اگلے ماہ گرفتار کر لیا گیا۔

1996 میں نیویارک کی ایک عدالت نے خفیہ طور پر خالد شیخ محمد پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر دھماکے میں مالی معاونت فراہم کرنے اور بوجنکا منصوبے کی منصوبہ بندی کرنے پر فرد جرم عائد کر دی۔ امریکی حکام نے اسے قطر میں گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ پہلے ہی پاکستان فرار ہو گیا۔

کراچی میں کچھ عرصہ قیام کے بعد وہ مشرقی افغانستان میں تورا بورا میں اسامہ بن لادن سے ملا، جہاں اس نے درخواست کی کہ اسے امریکہ پر ایک بڑے حملے کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔

خالد شیخ محمد نے کہا کہ وہ ایک جہاز اغوا کر کے اسے لینگلے میں سی آئی اے ہیڈ کوارٹر سے ٹکرائے گا جسے ابتدائی طور پر اسامہ بن لادن نے مسترد کر دیا تاہم اس نے کہا اگر خالد شیخ محمد القاعدہ میں شامل ہو جائے تو وہ اسے فنڈز فراہم کرے گا۔

خالد شیخ محمد 1996 کے آخر میں انڈیا، ملائیشیا اور انڈونیشیا گیا، جہاں اس کی ملاقات جماعت اسلامیہ کے سربراہ رضوان اسام المعروف حمبلی سے ہوئی۔ خالد شیخ نے حمبلی کو افغانستان آنے اور اسامہ سے ملاقات کی دعوت دی جو اس نے قبول کر لی۔

امریکی حکام کے مطابق خالد شیخ محمد نے جماعت اسلامیہ کو فنڈز فراہم کیے تاکہ وہ انڈونیشیا میں امریکہ اہداف پر حملے کر سکیں۔ 2003 میں میریٹ ہوٹل جکارتہ اور 2004 میں آسٹریلوی سفارت خانے پر حملے جماعت اسلامیہ اور القاعدہ کی مشترکہ کارروائیوں کا نتیجہ تھا۔

خالد شیخ محمد کو اس وقت کامیابی ملی جب اسامہ بن لادن نے 1998 کے آخر اور 1999 کے شروع میں طیاروں کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے انہیں امریکی عمارتوں سے ٹکرانے کا منصوبہ منظور کر لیا۔ 1999 میں خالد شیخ محمد نے قندھار منتقل ہو کر منصوبے پر کام شروع کر دیا۔ 2000 کے آغاز میں خالد شیخ محمد کو القاعدہ کی میڈیا کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا۔ اسی دوران اس نے پاکستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے بھی قائم کیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گیارہ ستمبر کے حملوں کا مشاہدہ اس نے کراچی کے ایک انٹرنیٹ کیفے میں بیٹھ کر کیا۔ نومبر2001 میں القاعدہ کے فوجی سربراہ محمد عاطف کی موت کے بعد خالد شیخ محمد نے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک سیل شروع کیا جس میں انتھراکس پر تجربات کیے گئے۔

12 اکتوبر 2001 کو خالد شیخ محمد کا نام امریکہ نے عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ جنوری 2002 میں خالد شیخ محمد نے امریکی صحافی ڈینیل پرل کا سر قلم کرتے ہوئے اس کی ویڈیو بھی ریلیز کی۔

بعد ازاں اس نے یہ بات امریکی حکام کو بتائی تھی کہ اس نے یہ خود کیا تھا۔ خالد شیخ محمد نے امریکہ پر مزید حملوں کی منصوبہ بندی جاری رکھی۔ 2002 میں اسے القاعدہ کے بیرونی تعلقات کے شعبے کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

 خالد شیخ محمد کی پاکستان سے گرفتاری کیسے ہوئی؟

نامور امریکی صحافی پیٹر برگن نے جنہیں 1997 میں اسامہ بن لادن کا پہلا ٹی وی انٹریو کرنے کا موقع ملا تھا، اپنی 2012 میں شائع ہونے والی کتاب ’Man Hunt‘ میں اسامہ بن لادن تک پہنچنے کے موضوع پر کافی تفصیلات بتائی ہیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ خالد شیخ محمد اور رمزی بن الشبا نے جو گیارہ ستمبر کے حملے کے بنیادی منصوبہ ساز تھے، 2002 میں کراچی کے ایک سیف ہاؤس میں الجزیرہ کو ایک انٹرویو دیا تھا، جس میں انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کی تفصیلات بتائی تھیں۔

اس انٹرویو کے کچھ ماہ بعد رمزی بن الشبا کو کراچی میں گرفتار کر کیا گیا، جن سے اسامہ بن لادن کے حوالے سے اہم دستاویزات برآمد ہوئی تھیں، جن میں ان کے بیوی بچوں کے پاسپورٹ بھی شامل تھے۔

خالد شیخ محمد نے کراچی سے ہی اسامہ کو اس وقت پیسے بھجوائے تھے جب وہ تورا بورا میں پھنسے ہوئے تھے اور انہوں نے بالی بم دھماکوں کی فنڈنگ بھی یہیں بیٹھ کر کی تھی۔

ہیتھرو ایئر پورٹ پر طیارے کو بم سے اڑانے اور القاعدہ کے لیے انتھراکس ہتھیاروں کی تیاری کی منصوبہ بندی بھی کراچی میں بیٹھ کر ہی کی گئی تھی۔ تاہم ان کے تمام منصوبے اس وقت دھرے کے دھرے رہ گئے جب انہیں یکم مارچ 2003 کو رات تین بجے راولپنڈی سے گرفتار کر لیا گیا۔

ان کی گرفتاری ایک ایسے ذریعے سے ہوئی تھی، جو اس وقت اسی مکان میں موجود تھا جس میں خالد شیخ محمد تھا۔ اس نے وہاں ایک غسل خانے سے پیغام دیا تھا کہ وہ خالد شیخ محمد کے ساتھ موجود ہے۔ اسی رات خالد شیخ محمد کو گرفتار کر لیا گیا۔

خالد شیخ محمد سے اسامہ بن لادن کے تین خطوط بھی ملے تھے۔ ایک ایران میں ان کے بیوی بچوں کے نام تھا۔ اس کے علاوہ اہم دستاویزات بھی ملی تھیں جن میں القاعدہ کے 129 اراکین اور ان کی ماہانہ تنخواہوں کی تفصیلات بھی درج تھیں۔

تاہم سی آئی اے کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسامہ اس وقت کہاں ہیں۔ خالد شیخ سے اتنا ہی معلوم ہو سکا کہ اسامہ سے جب اس کا آخری رابطہ ہوا تھا تب وہ کنڑ صوبے میں تھا۔ اس کے بقول جب بھی اسامہ سے رابطہ ہوتا ہے تو اس کا وسیلہ الکویتی بنتا ہے، جو ان کا پیغام رساں تھا۔

 شروع میں جب خالد شیخ محمد کو گرفتار کیا گیا تو امریکی یہی سمجھے کہ وہ بہت جلد اسامہ تک پہنچ جائیں گے لیکن یہ مائیکل شوئر تھا جو سی آئی اے میں اسامہ یونٹ کا اس وقت سے انچارج تھا، جب 1995 میں وہ یونٹ قائم ہوا تھا۔

ان کے مطابق اسامہ اپنی سکیورٹی کے حوالے سے خالد شیخ محمد سے کہیں زیادہ حساس ہوگا۔ جب خالد شیخ محمد سے ملنے والی دستاویزات کو جانچا گیا تب بھی ان سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسامہ بن لادن کہاں ہے۔

خالد شیخ محمد پر بگرام ایئر پورٹ، جہاں اسے گرفتاری کے بعد لایا گیا، پھر سی آئی اے کے حراستی مرکز پولینڈ میں اور پھر امریکہ میں تفتیش کاروں نے تمام حربے آزمائے لیکن وہ خالد شیخ محمد سے یہ نہیں اگلوا سکے کہ الکویتی کون ہے اور کہاں ہے۔

تاہم جب خالد شیخ محمد کی معلومات پر القاعدہ کا ایک رہنما حمبلی تھائی لینڈ سے پکڑا گیا تو اس نے اتنا بتایا کہ جب افغانستان میں طالبان کے زوال کے بعد وہ کراچی آیا تو جس سیف ہاؤس میں وہ ٹھہرا تھا، اس کا انتظام الکویتی کے پاس تھا۔

خالد شیخ محمد کے بعد ابو فراج اللیبی کو القاعدہ کا آپریشنل کمانڈر بنایا گیا تھا جس نے دسمبر 2003 میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف پر بھی دو قاتلانہ حملے کیے تھے۔ اسے جب 2 مئی 2005 کو مردان سے گرفتار کیا گیا تو پاکستانی حکام نے ایک ماہ کی تفتیش کے بعد اسے امریکی حکام کے حوالے کر دیا۔

اس نے بتایا کہ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد اسامہ کے پیغام رساں الکویتی نے اس تک پیغام پہنچایا تھا کہ خالد شیخ محمد کی جگہ اسے تعینات کیا جا رہا ہے۔ جب اسے القاعدہ کے تیسرے اہم عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، تب وہ ایبٹ آباد میں رہائش پزیر تھا تاہم سی آئی اے کو ایبٹ آباد پر فوکس کرنے میں مزید سات سال لگ گئے۔

دراصل خالد شیخ محمد اور فراج اللیبی دونوں نے سی آئی اے کو یہ نہیں بتایا کہ اسامہ کا پیغام رساں الکویتی کون ہے۔ وہ ہمیشہ غلط معلومات دیتے رہے، تاہم 2010 میں سی آئی اے الکویتی تک پہنچ گیا، جس کی معلومات ایک تیسرے ملک نے دی تھیں اور بالآخر اسی ذریعے سے وہ ایبٹ آباد میں اسامہ تک پہنچے تھے۔

خالد شیخ محمد کو سزا کیوں نہیں ہو سکی؟

خالد شیخ محمد کو گرفتاری کے بعد بگرام لے جایا گیا، جہاں سے اسے پولینڈ میں سی آئی اے کے خصوصی حراستی مرکز میں رکھا گیا، جس کا مقصد اس سے ایسی معلومات حاصل کرنا تھا جن کے ذریعے وہ اسامہ بن لادن تک پہنچ سکیں۔

پھر 2006 میں اسے گوانتانامو بے منتقل کیا گیا۔ یعنی اس کی گرفتاری کے ساڑھے تین سال تک اسے ایسے حراستی مراکز میں رکھا گیا تھا جہاں اس سے معلومات اگلوانے کے لیے واٹر بورڈنگ سمیت کئی پر تشدد طریقے آزمائے گئے جہاں سے عدالتوں میں خالد شیخ محمد کے اعترافات کے بارے میں سوالات پیدا ہو گئے کیونکہ خدشہ تھا کہ اس نے یہ الزامات کسی دباؤ کے تحت تو تسلیم نہیں کیے۔

2008 میں ایک فوجی کمیشن کے ذریعے خالد شیخ محمد اور اس کے ساتھ دیگر چار ملزمان کے خلاف کیس گوانتانامو میں چلانے کی کوشش کی گئی لیکن سوال یہ ہی تھا کہ تشدد کے ذریعے حاصل کیے جانے والے اعترافات کی قانونی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔

5 مئی 2012 کو جب گوانتانامو بے میں ایک فوجی عدالت میں خالد شیخ محمد کو اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ پیش کیا گیا، جہاں ان پر گیارہ ستمبر حملوں کی منصوبہ بندی، قتل و دہشت گردی، طیارہ اغوا جیسے الزامات عائد کیے گئے، جن کی ممکنہ سزا موت ہو سکتی تھی، لیکن یہاں ایک بار پھر سی آئی اے کے حراستی مراکز میں روا رکھے جانے والے تشدد، حکومت کے خفیہ پروگراموں اور ان سے وابستہ اہلکاروں پر سوالات اٹھائے گئے۔

2024 میں ایک درمیانی راستہ چنا گیا کہ خالد شیخ محمد اور ان کے ساتھی اپنے جرم قبول کر لیں گے اور اس کے بدلے میں انہیں سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا دی جائے گی لیکن اس وقت کے وزیر دفاع لائڈ آسٹن نے اسے رد کر دیا۔ پھر امریکی عدالت نے بھی اس کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ اب پھر یہ مقدمہ ٹرائل کے انتظار میں ہے اور فوجی عدالت نے ٹرائل شروع کرنے کی تاریخ 5 جون 2028 مقرر کی ہے۔

آسان لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ خالد شیخ محمد کو سزا اس لیے نہیں مل سکی کیونکہ ابھی تک اس کے خلاف سزا کا مقدمہ ہی شروع نہیں ہو سکا اور معاملہ اس بات پر الجھا ہوا ہے کہ ’ثبوت قابل قبول ہیں یا نہیں‘۔

 دراصل امریکہ کا نظامِ انصاف اتنا طاقتور ہے کہ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ملزم شریک جرم ہے، مگر پھر بھی وہ اقبالِ جرم کو تشدد کا نتیجہ قرار دے کر اپنی تاریخ کے ایک بڑے ملزم کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *