پاکستان میں ایس سی او اجلاس، 30 بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے 6.6 ارب روپے منظور

پاکستان کے اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز ادارے نے آئندہ سال اسلام آباد میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی میزبانی کے لیے 30 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کی خاطر 6.6 ارب روپے (دو کروڑ 38 لاکھ ڈالر) کی گرانٹ منظور کر لی۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک علاقائی اتحاد ہے جس کے 10 رکن ممالک ہیں۔ ان میں چین، روس، انڈیا، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا کے بعض ممالک شامل ہیں۔

تنظیم کے رکن ممالک مجموعی طور پر عالمی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 25 فیصد حصہ رکھتے ہیں اور علاقائی تعاون، اقتصادی ترقی اور پیش رفت کے فروغ کے خواہاں ہیں۔

پاکستان نے رواں ماہ کے آغاز میں بشکیک میں تنظیم کے سربراہ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت کے بعد 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کی چیئرمین شپ سنبھالی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پاکستان آئندہ سال ستمبر میں کونسل آف ہیڈز آف سٹیٹ کے اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہوا، جس میں کابینہ ڈویژن کی پیش کردہ ایک سمری پر غور کیا گیا۔

سمری میں بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 12.6 ارب روپے (چار کروڑ 54 لاکھ ڈالر) کی منظوری طلب کی گئی تھی۔

وزارت خزانہ نے بتایا ’ای سی سی نے تجویز پر تفصیلی غور کیا اور مناسب بحث کے بعد 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے (دو کروڑ 38 لاکھ ڈالر) کے تکنیکی ضمنی گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری دیتے ہوئے کابینہ ڈویژن کو اضافی ضرورت کے ساتھ دوبارہ رجوع کرنے کی ہدایت کی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارتِ خزانہ کے مطابق کمیٹی نے کابینہ ڈویژن کو مزید کسی بھی اضافی طلب کے لیے ضرورت کا تفصیلاً جائزہ لینے اور ضرورت پڑنے کی صورت میں معاملہ دوبارہ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

پاکستان نے 2027 میں 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کا 23واں اجلاس منعقد کیا تھا۔

اجلاس کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور حکومت نے اسلام آباد میں تین روزہ تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ اہم اجلاس سے قبل سکیورٹی خدشات کے باعث سکول اور کاروباری مراکز بند رہے تھے۔

اجلاس میں چین، کرغزستان، تاجکستان، روس، بیلاروس، قازقستان اور ازبکستان کے وزرائے اعظم سمیت انڈیا کے وزیر خارجہ نے شرکت کی تھی۔

گذشتہ چند برسوں سے پاکستان کو سکیورٹی کے حوالے سے مسلسل مسائل کا سامنا ہے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے خودکش حملے بھی ہوتے رہے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *