امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے بین الاقوامی معاملات میں بے لگام قانون شکنی کا دور چھایا ہوا ہے اور پھر وہ ایک زنجیری آری تھامے ننھے بچے کی طرح دنیا بھر میں لڑکھڑاتے پھرے۔ ایسے ماحول میں یہ ناگزیر تھا کہ روس اور ایران جیسی دوسری باغی ریاستیں اس افراتفری میں اپنے لیے مواقع تلاش کرتیں۔
امریکہ کے 47 ویں صدر اتنے نابالغ ذہن کے حامل ہیں اور اسرائیل کی ایک نجات دہندہ سمجھنے والی حکومت کے زیر اثر ہیں کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایران کے شہری تہران کے حکمرانوں کے خلاف امریکی پرچم تلے بغاوت نہیں کریں گے اور یہ کہ ماسکو کبھی امریکہ کا دوست نہیں بنے گا۔
لیکن ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای (اور ان کی گارڈین کونسل)، کریملن اور ولادی میر پوتن امریکہ کو ایک اور طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ میں جکڑ رہے ہیں۔
ان کا طویل المدتی مقصد امریکی طاقت کی موجودہ حد کو نمایاں کرنا اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ کو مزید کمزور کرنا ہے، جہاں واشنگٹن اور اسرائیل کے درمیان قریبی اتحاد ایک بوجھ بن چکا ہے۔
امریکہ، جس نے اس سال 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ کا آغاز کیا، ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے پر اکسانے کا سبب بنا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آیا اور کھاد جیسی تیل پر منحصر ضروری اشیا کی عالمی قلت پیدا ہوئی۔
اگست کے آخر میں، ایک ماہ کی نسبتاً خاموشی کے بعد، امریکی میزائلوں نے جزیرہ لارک پر حملہ کیا۔ پینٹاگون کے مطابق ہدف وہ جہاز تھے جنہیں ایران آبنائے کو بند کرنے کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے میں استعمال کر رہا تھا۔
ایران نے جواباً اردن، بحرین، کویت اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل داغے۔ اس کے بعد ایران نے امریکہ پر الزام لگایا کہ اس نے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب پر حملہ کر کے کم از کم پانچ افراد کو مارا اور 68 کو زخمی کیا جبکہ دو ایرانی آئل ٹینکروں کو بھی نشانہ بنایا۔
ٹرمپ کا یہ وعدہ درست تھا کہ وہ عراق اور افغانستان میں امریکہ کی دیگر ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگوں‘ کا خاتمہ کریں گے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی جمہوریت کو طاقت کے ذریعے نافذ کرنے میں ناکام رہے جبکہ ’اسلامی دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کے نام پر انہوں نے اپنے اوپر عائد قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں سے بھی جان چھڑائی، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کا اگلا قدم، جو زیادہ سمجھ دار انٹیلی جنس اور فوجی حکام کے مشوروں کے برخلاف اٹھایا گیا، ایک کم عمر سوچ رکھنے والے ’مختصر جنگ‘ کے منصوبے پر عمل کرنا تھا، جس کے بارے میں صرف ایک بچہ ہی یقین کر سکتا تھا کہ اسے فضائی حملوں سے جیتا جا سکتا ہے۔
ان کی ناپختگی کا اشارہ تہران اور ماسکو کو خود ٹرمپ نے دیا، جب انہوں نے جزیرہ لارک پر حملے کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کی لیکن جزیرے کا نام غلطی سے ’خارک جزیرہ‘ لکھ دیا۔ جب وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں یا ایران کے خلاف ایک پوری تہذیب کو مٹا دینے جیسی نسل کشی کی دھمکیاں دیتے ہیں تو ان کے اتحادی کانپ اٹھتے ہیں جبکہ دشمن تمسخر اڑاتے ہیں۔ ان کی حماقت ہی ان کے مخالفین کا موقع ہے اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں۔
ایران، جو امریکہ کو ’شیطانِ اعظم‘ سمجھتا ہے اور روس، جو امریکہ کو ہر چیز بشمول ’روسی روح‘ کے لیے مستقل خطرہ تصور کرتا ہے، اس بات کو یقینی بنا چکے ہیں کہ ٹرمپ اب ایک طویل جنگ میں پھنس چکے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی امریکی اتحادی بھی امریکہ کے بہت قریب ہونے کی حماقت کو دیکھ رہے ہیں۔ اب محاذِ اول کی ریاستیں خلیج عرب کے گرد واقع ہیں، جہاں بحرین میں امریکی پانچواں بحری بیڑا تعینات ہے، متحدہ عرب امارات اور قطر میں بڑے فضائی اثاثے موجود ہیں، جبکہ اردن فضائی دفاعی نظام اور خصوصی دستوں کی طویل المدتی تعیناتی کی میزبانی کر رہا ہے۔
دریں اثنا، اسرائیل، جس پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
جنگ کو جاری رکھنے کے لیے روس ایران کو وہ انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے جنہیں خلیج میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ روس شاید رہنمائی یافتہ میزائلوں (جو روس یوکرین میں استعمال کر رہا ہے) کی مشترکہ تیاری میں بھی شامل رہا ہے اور فنانشل ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق تہران کو ریم جیٹ ٹیکنالوجی تیار کرنے میں بھی مدد دے رہا ہے تاکہ تیز رفتار اور کم بلندی پر پرواز کرنے والے کروز میزائل امریکی فضائی دفاعی نظام کو چکما دے سکیں۔
اور ویسے بھی، روس ایران کے ’سویلین‘ جوہری توانائی پروگرام کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔
پوتن کی طاقت اور اس شخصیت سے اب بھی مرعوب ٹرمپ، جو اٹلی سے چھوٹی معیشت رکھنے کے باوجود عالمی سیاست پر اثر انداز ہوتا ہے، نے روس پر نہ تو یوکرین سے نکلنے کے لیے کوئی دباؤ ڈالا ہے اور نہ ہی عرب خطے میں امریکیوں کے قتل میں معاونت روکنے کے لیے۔
بلکہ انہوں نے امریکہ کے دشمنوں کو ایسا موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کو مسلسل کمزور اور تھکا دیں۔


