’پاپا کب آئیں گے؟‘ صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ کا احتجاج

صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانیوں کے اہلخانہ نے ہفتے کو کراچی کی نمائش چورنگی پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے اپنے پیاروں کی جلد اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

اہلخانہ کے مطابق ان کے پیاروں کو یرغمال بنے 136 روز گزر چکے ہیں اور بعض خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں کئی ہفتوں سے اپنے پیاروں سے رابطے کا موقع نہیں ملا، جس کے باعث وہ ان کی خیریت کے حوالے سے شدید پریشان ہیں۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اگست کے آخری ہفتے میں کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد عالمی بحری قوانین کا پابند ہے لہٰذا صومالی بحری قزاقوں کے پاس یرغمال پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا نہیں کیا جا سکتا۔

اسحاق ڈار نے برطانیہ میں آئی ایم او کے سیکریٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز سے ملاقات کی اور اپریل سے صومالی بحری قزاقوں کی قید میں موجود 10 پاکستانی ملاحوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے کہا پاکستان اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کی ہے۔

پاکستان نے ان ملاحوں کی رہائی کے لیے کوششیں شروع کر رکھی ہیں، جو پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 پر سوار تھے۔

پاکستانی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے حکومت سے ملاحوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے کے لیے کوششیں تیز کرنے کی متعدد بار اپیل کی ہے۔

احتجاج میں شریک حمیدہ خاتون نے بتایا کہ ان کا بیٹا عمران علی روزگار کی غرض سے گیا تھا اور اب تقریباً ساڑھے چار ماہ گزر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’کبھی کبھار فون آتا ہے، لیکن ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ان 10 پاکستانیوں کو جلد از جلد رہا کروا کر گھروں تک پہنچائے۔‘

حمیدہ خاتون کے مطابق ان کے بیٹے کے تین بچے ہیں، جن میں چھ اور چار سال کی دو بیٹیاں اور ایک کم عمر بچہ شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بچے اپنے والد کو بہت یاد کرتے ہیں اور انہیں تسلی دینے کے لیے اہلخانہ کہتے ہیں کہ ’پاپا آ جائیں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کے والد بچوں کے لیے کھلونے اور چاکلیٹ لایا کرتے تھے، اس لیے بچے انہیں خاص طور پر یاد کرتے ہیں۔

’ڈیڑھ ماہ سے بھائی سے بات نہیں ہوئی‘

ایک اور مغوی رفیع اللہ کے بھائی عبید اللہ نے بتایا کہ ان کے بھائی کو تقریباً ساڑھے چار ماہ سے قید رکھا گیا ہے اور گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے اہلخانہ کی ان سے بات بھی نہیں کروائی گئی۔

ان کے بقول، ’ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں۔ گھر والے اور بچے سب پریشان ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ یرغمالیوں کو مناسب خوراک اور صاف پانی مل رہا ہے یا نہیں۔

عبید اللہ نے حکومت اور فوجی قیادت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کے حل کے لیے مؤثر مذاکرات کیے جائیں اور مغوی پاکستانیوں کو جلد بازیاب کروایا جائے۔

ان کے مطابق، ’ہم چاہتے ہیں کہ انصار پروین کو آگے کیا جائے تاکہ وہ مذاکرات کر کے معاملہ حل کریں۔‘

’بچوں کو کہتے ہیں پاپا آ جائیں گے‘

عبید اللہ نے بتایا کہ خاندان نے بچوں کو اصل صورت حال سے لاعلم رکھنے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

’ہم بچوں کو کبھی کہتے ہیں پاپا تین دن بعد آ جائیں گے، کبھی کہتے ہیں دس دن بعد آ جائیں گے۔ کبھی ان کی پرانی وائس ریکارڈنگ سنا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاپا کی وائس آئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ خاندان گزشتہ کئی ماہ سے اسی طرح بچوں کو تسلی دے رہا ہے۔

’صرف ایک بار والد سے بات ہوئی‘

احتجاج میں شریک معصومہ بتول نے بتایا کہ ان کے والد سید حسین یوسف بھی یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں میں شامل ہیں۔

ان کے مطابق والد کو یرغمال بنے چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے اور اہلخانہ نے طویل عرصے سے انہیں دیکھا یا ان سے بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا، ’میں حکومت سے درخواست کرتی ہوں کہ جلد از جلد انہیں صحیح سلامت واپس لایا جائے، کیونکہ ساڑھے چار ماہ سے زیادہ ہونے والے ہیں۔‘

معصومہ بتول کے مطابق ایک مرتبہ ان کا والد سے رابطہ ہوا تھا جبکہ کچھ ویڈیوز بھی موصول ہوئی تھیں۔

’صرف ایک بار بات ہوئی تھی۔ انہوں نے یہی کہا تھا کہ دعا ہی کیجیے، کیونکہ وہاں وہ لوگ بہت مشکل میں ہیں۔‘

ان کے مطابق یرغمالیوں کی خوراک اور صاف پانی کے حوالے سے بھی اہلخانہ کو تشویش ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملہ حل کرنے کے لیے مؤثر کوششیں کی جائیں اور یرغمالیوں کو بحفاظت پاکستان واپس لایا جائے۔

’ہمیں اپنے پیاروں کی حالت کا علم نہیں‘

مغویوں کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران انہیں حکومت کی جانب سے مختلف مواقع پر یقین دہانیاں تو ملتی رہی ہیں، تاہم وہ عملی پیش رفت کے منتظر ہیں۔

ان کے مطابق کبھی وہ ایک جگہ احتجاج کرتے ہیں اور کبھی دوسری جگہ جا کر حکام سے رابطہ کرتے ہیں، لیکن ان کے پیاروں کی واپسی اب تک ممکن نہیں ہو سکی۔

اہلخانہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور ان 10 پاکستانیوں کو کسی بھی نقصان سے پہلے بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یرغمال بنائے گئے افراد میں روزگار کے لیے بیرون ملک جانے والے افراد کے ساتھ ایک استاد بھی شامل ہے اور ان کے خاندان گزشتہ 136 دن سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔

’تاوان ادا نہیں کیا جا سکتا‘

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ پاکستان عالمی بحری قوانین کا پابند ہے، اس لیے صومالی بحری قزاقوں کے پاس یرغمال پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا نہیں کیا جا سکتا۔

29 اگست کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ کچھ عالمی اصول اور بحری قوانین ہیں جن کی پاسداری ضروری ہے اور پاکستان بھی ان کی پابندی کرتا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ اسلام آباد نے صومالی حکومت اور ایم ٹی آنر 25 کے مالک پر زور دیا ہے کہ مذاکرات جاری رہنے کے دوران یرغمالیوں کو خوراک، پینے کا پانی اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے جون میں کہا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی ’کچھ مشکل‘ ہے کیونکہ آئل ٹینکر پر دھماکہ خیز مواد لدا ہوا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *