کراچی: اپنے بیٹے کے ہمراہ ’سماجی رویوں سے لڑتی‘ فوڈ ڈیلیوری رائیڈر مہک

کراچی میں ہر شام کو چھ بجے سڑکوں پر گاڑیوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ سائرن اور ہارن کی آوازیں سنائی گھر کی طرف لوٹتے چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ بھاگتے ہوئے شہر کی ہر ایک سڑک پر الگ منظر دکھائی دیتا ہے۔

ایسے میں ایک موٹر سائیکل، جس کی پشت پر فوڈ ڈیلیوری سروس فوڈ پانڈا کا گلابی رنگ بیگ بندھا ہوتا ہے، اس پر سوار ہوتی ہیں فوڈ ڈیلیوری رائیڈر مہک۔  وہ ایک ایسی ماں ہیں جن کی جنگ اپنے اور بچوں کے مستقبل کے لیے ہے۔

مہک کے لیے دن کے آٹھ گھنٹے چولہا سنبھالنے اور گھریلو ذمہ داریاں پورا کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک امتحان ہوتے ہیں۔

شام ہوتے ہی جب اکثر لوگ تھکن اتارنےکا سوچ رہے ہوتے ہیں، مہک اپنے سات سال کے بیٹے کو پیار سے تھپتھپا کر اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھاتی ہیں تو ان کی زندگی کی تگ و دو کا نیا باب شروع ہو جاتا ہے۔

وہ کوئی عام خاتون نہیں بلکہ وہ معاشرے میں خود داری اور ہمت کی ایک نئی تعریف لکھ رہی ہیں۔

کراچی کے علاقے صدر کی رہائشی فوڈ پانڈا رائیڈر مہک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’2023 میری زندگی کا وہ سال تھا جب میرے  گھر کے حالات مکمل طور پر بگڑ گئے اور تنگ دستی نے ہمیں گھیر لیا۔ گھر میں کوئی کمانے والا نہیں تھا۔ بچے چھوٹے تھے اور ان کی کفالت کا سارا بوجھ میرے ہی کندھوں پر آن پڑا۔ 

’جب میں نے دیکھا کہ دور دور تک کوئی سہارا دینے والا نہیں ہے، تو میں نے خود کو سنبھالا اور فیصلہ کیا کہ اب اس گھرکا مرد بھی میں ہی ہوں اور عورت بھی میں ہی ہوں۔ 

’خوش قسمتی سے مجھے شادی سے پہلے سے بائیک اورسائیکل چلانے کا شوق تھا، اور تب مجھے گمان بھی نہیں تھا کہ میرا یہی ہنر ایک دن میرے بچوں کے لیے رزق کاذریعہ بن جائے گا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے فوڈ پانڈا میں بطور رائیڈر کام شروع کیا کیوں کہ میرا ماننا ہے کہ آج کے دور میں ہر عورت کوخود کفیل ہونا چاہیے تاکہ وقت آنے پر اسے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔‘

مہک کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ اپنے سات سالہ بیٹے کو ساتھ رکھتی ہیں اور  رات گئے تک حالات کے مطابق روزانہ 15 سے 20 رائیڈز کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔‘ 

ایک سوال کے جواب میں مہک نے بتایا کہ جب وہ ڈیلیوری کے لیے سڑک پر نکلتی ہیں تو معاشرے کے رنگ اور رویے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لوگ اکثر پیچھے سے آوازیں لگاتے ہیں ’اوئے پانڈا‘

انہوں نے کہا کہ ’بعض اوقات میں جہاں کھانا ڈیلیور کرتی ہوں اکثر وہاں کے گارڈز اور چوکیدار مجھ سے ذاتی گفتگو کی کوشش کرتےہیں جو مجھے ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ لیکن کچھ خواتین ایسی بھی ملتی ہیں جو مجھے راستے میں سراہتی ہوئی جاتی ہیں جس سے میرا حوصلک بلندہو جاتا ئے۔‘

’شروع میں ڈر جاتی تھی‘

مہک کے بقول: ’جب میں نے شروع شروع میں موٹر سائیکل پر نکلنا شروع کیا تو راستے بالکل بھی آسان نہیں تھے۔ لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے تھے، جس سے میں اکثر ڈر جاتی تھی اور کبھی کبھی تو یہ سوچ کررو پڑتی تھی کہ یا اللہ مجھے عورت بنایا ہے اور اتنی مشکل زندگی دی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’روزانہ سڑکوں پر مجھے اچھے اور برے ہرطرح کے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے دل کو مضبوط کر لیا ہے۔ اب مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کس کا رویہ کیسا ہے، کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ مجھے اپنے بچوں کا پیٹ خود پالناہے اور اپنا گھر خود چلانا ہے۔

’اب لوگوں کا کوئی بھی رویہ یا سڑک کا کوئی بھی چیلنج میرے ارادوں کو پست نہیں کر سکتا، کیوں کہ میری محنت ہی میری اصل طاقت ہے اور اپنے بچوں کی خاطر میری یہ جنگ ہر حال میں جاریرہے گی۔‘

گذشتہ چھ سال سے مہک کا یہی معمول ہے۔ مردوں کی اجارہ داری سمجھے جانے والے فوڈ ڈیلیوری سروس کے شعبے میں جب وہ روزانہ سڑک پر نکلتی ہیں تو ان کا سات سالہ بیٹا صرف ان کے ساتھ موٹر سائیکل پر نہیں بیٹھتا، بلکہ وہ اپنی ماں کی ہرجدوجہد، ہر موڑ پر اس کے حوصلے کا خاموش گواہ ہے۔ 

مہک صرف کھانا ڈیلیور نہیں کرتیں بلکہ وہ ہر شام شہر کی سڑکوں پر امید، غیرت اور ممتا کے بے مثال جذبے کے ساتھ سفر کر رہی ہوتی ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *