وفاقی وزارت قومی صحت نے اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) سمیت وزارت کے زیر انتظام تمام سرکاری ہسپتالوں میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ فوری طور پر شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
وزارت صحت کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ احکامات کے مطابق ہسپتالوں میں فائر ڈیٹیکشن اور الارم سسٹم، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی اور ایگزٹ راستوں سمیت فائر سیفٹی کے دیگر انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
یہ احکامات ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں، جب پمز میں 26 اگست کی صبح مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی تیسری منزل پر نرسری کے اندر ایک چنگاری سے آگ بھڑک اٹھی، جو چند ہی سیکنڈز میں انکیوبیٹرز کے ساتھ موجود آکسیجن پوائنٹس کے باعث پھیل گئی۔ واقعے میں 14 نومولود بچے جان سے گئے۔
ترجمان پمز ہسپتال کے مطابق عملے نے بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش میں دو مرتبہ اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم اسی دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں چھتیں گر گئیں۔
یہ آگ ہسپتال کی تیسری منزل پر واقع نرسری تک محدود رہی اور پمز ہسپتال کے دیگر حصے متاثر نہیں ہوئے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ نرسری میں موجود دو ڈاکٹروں، دو نرسوں اور دیگر عملہ وہاں موجود 15 بچوں میں سے صرف ایک کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہو سکا۔
دوسری جانب سی ڈی اے کی جانب سے جاری کی گئی سرکاری فائر رپورٹ میں بتایا گیا کہ پمز میں حفاظتی انتظامات ناکافی ہونے اور ہنگامی اخراج کے راستے بند یا رکاوٹوں کا شکار ہونے کا انکشاف کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وفاقی وزارت قومی صحت کے مطابق آڈٹ کے دوران بجلی اور دیگر ممکنہ آتشزدگی کے خطرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا جب کہ انسانی جان یا املاک کے لیے خطرے کا باعث بننے والی خامیوں کو فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تمام متعلقہ ہسپتالوں کو آڈٹ شروع کرنے، آڈٹ کرنے والی کمپنی اور اس کی تکمیل کی متوقع تاریخ سے وزارت صحت کو آگاہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
وزارت نے اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو سرکاری و نجی ہسپتالوں میں فائر سیفٹی آڈٹ یقینی بنانے اور اس کی تصدیق کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
احکامات میں فائر سیفٹی آڈٹ کی تعمیل سے متعلق جامع رپورٹ وزارت قومی صحت کو جمع کرانے کا بھی کہا گیا ہے۔
فائر سیفٹی آڈٹ کے احکامات پمز، پولی کلینک، ایف جی ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال لاہور سمیت متعلقہ اداروں کو جاری کیے گئے ہیں۔ جبکہ سی ای او آئی ایچ آر اے اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اسلام آباد کو بھی ضروری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت صحت نے فائر سیفٹی کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر لیتے ہوئے فوری اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
