پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر، نجکاری اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کے لیے سعودی عرب کے اعلیٰ سطح کے کاروباری وفد نے بدھ کو پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان اور سعودی عرب اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تجارتی اور کاروباری روابط بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب ماضی میں معاشی مشکلات کے دوران پاکستان کو قرضوں، مالی ذخائر اور موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی کے ذریعے اہم مالی معاونت فراہم کرتا رہا ہے، تاہم دونوں ممالک اب اپنے تعلقات کو سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری شراکت داری کی جانب لے جانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
اکتوبر 2024 میں سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح کے دورہ اسلام آباد کے بعد سعودی اور پاکستانی کاروباری اداروں نے 2.8 ارب ڈالر مالیت کے 34 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔
سعودی عرب پاکستان مشترکہ بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں سعودی کاروباری وفد نے سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع پر بات چیت کے لیے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کا دورہ کیا۔
ایس آئی ایف سی کے مطابق ملاقاتوں میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (جی ٹو جی) اور بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) کی سطح پر سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ توانائی، پٹرولیم، نجکاری، صنعت، مواصلات اور شاہراہوں سمیت ترجیحی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔
ایس آئی ایف سی نے سعودی وفد کی اہم حکومتی حکام، متعلقہ اداروں اور پاکستان کی بڑی نجی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقاتوں کا بھی انتظام کیا۔
کونسل کے مطابق وفد کے دورے کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اقتصادی تعلقات کو ٹھوس، پائیدار اور دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ دورہ گذشتہ دو برس کے دوران پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے متعدد اقدامات کا تسلسل ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اکتوبر 2024 میں خالد الفالح کے دورہ اسلام آباد کے دوران سعودی اور پاکستانی کاروباری اداروں نے ابتدائی طور پر 2.2 ارب ڈالر مالیت کے 27 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔
بعدازاں اسی ماہ ریاض میں خالد الفالح نے بتایا کہ ان معاہدوں کی تعداد بڑھ کر 34 اور متوقع مالیت 2.8 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔
دسمبر 2024 تک پاکستان نے بتایا تھا کہ ان 34 مفاہمت کی یادداشتوں میں سے سات کو 56 کروڑ ڈالر مالیت کے باضابطہ معاہدوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان منصوبوں میں زراعت، توانائی، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبے شامل تھے۔
سعودی عرب نے پاکستان کے لیے الگ سے پانچ ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پیکیج کو بھی تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔
یہ اقدام پاکستان کی جانب سے معیشت کو سہارا دینے کے لیے بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرکے غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔
سرمایہ کاری کے لیے دونوں ممالک کی کوششیں اس کے بعد بھی جاری رہیں۔ گزشتہ سال شہزادہ منصور کی قیادت میں سعودی وفد کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام اور کمپنیوں نے توانائی، کان کنی و معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، رابطہ کاری، سیاحت، صنعت اور نجکاری کے شعبوں میں 28 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے تقریباً 40 منصوبے سعودی وفد کے سامنے پیش کیے تھے۔
سعودی عرب پاکستان کے اہم ترین اقتصادی شراکت داروں میں شامل ہے۔ سعودی عرب میں 25 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں، جن کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
