وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی درخواست پر راولپنڈی میں سکیورٹی کے لیے پاکستانی فوج کی تین کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے 21 اگست 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت پاکستانی فوج کی تین کمپنیوں کو راولپنڈی میں حساس سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
انڈپینڈنٹ اردو کے پاس وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی کاپی موجود ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان آرمی میں عام طور پر ایک کمپنی میں تقریباً 100 سے 150 اہلکار ہوتے ہیں۔
تاہم کمپنی کی نوعیت (انفنٹری، سپورٹ یا دیگر یونٹ) کے لحاظ سے تعداد مختلف ہو سکتی ہے۔ تین کمپنیوں سے مراد عمومی طور پر تقریباً 300 سے 450 اہلکار ہو سکتے ہیں، لیکن سرکاری نوٹیفکیشن میں درست تعداد دیے بغیر حتمی تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فوج کی تعیناتی فوری طور پر مؤثر ہو گی اور اس کی مدت چھ ماہ مقرر کی گئی ہے۔ فوج کو ضلعی انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق کسی بھی ہنگامی یا غیر متوقع صورت حال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تعینات کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کے مطابق راولپنڈی میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ پنجاب کے محکمہ داخلہ کی درخواست پر کیا گیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے 22 جولائی 2026 کو فوج کی تعیناتی کے لیے درخواست کی تھی۔
انڈپینڈنٹ اردو نے اس معاملے پر راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ سے بھی مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا۔ راولپنڈی کے ایک سینیئر ضلعی انتظامی افسر نے بتایا کہ شہر پہلے ہی ایک حساس علاقہ ہے، اس لیے فوج کی تعیناتی حساس سکیورٹی تنصیبات کے تحفظ کے لیے کی گئی ہے۔
افسر کے مطابق راولپنڈی میں بین الاقوامی میچز بھی ہونے والے ہیں، جن کے لیے اضافی سکیورٹی انتظامات کی ضرورت ہے، جبکہ 12 ربیع الاول بھی قریب ہے۔ ان کے مطابق فوج کی تعیناتی کے فیصلے میں ان سمیت مختلف سکیورٹی وجوہات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت نے پنجاب کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی درخواست پر راولپنڈی میں پاکستان فوج کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فوج ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار یا غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے میں معاونت کرے گی۔
