ہم مضبوط پوزیشن میں ہیں، جنگ ختم کرنے کا وقت آگیا: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کا وقت آگیا ہے کیونکہ تہران اس وقت واشنگٹن کے مقابلے میں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پزشکیان نے ڈاکٹروں سے ملاقات کے دوران کہا: ’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘

ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں جبکہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ بھی کسی واضح نتیجے کے بغیر جاری ہے۔

تہران نے اہم آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند رکھا ہوا ہے جبکہ واشنگٹن ایران کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں اپنی بحری کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ امریکہ نے تمام ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے سکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔

جنگ ختم کرنے کے معاہدے کا دفاع

پزشکیان نے جون میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا بھی دفاع کیا، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا مطلب ایران کی شکست نہیں بلکہ اس میں ایران کی جانب سے کسی قسم کی پسپائی کی کوئی شق موجود نہیں۔

پزشکیان کا یہ بیان ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اس بیان کے چند ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اپنے ’مختلف خیالات‘ کے باوجود انہوں نے جنگ ختم کرنے کے معاہدے کی منظوری دی تھی۔

ایرانی پارلیمان کے سخت گیر ارکان نے معاہدے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اس میں امریکہ کو رعایتیں دی گئی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے میں۔

امریکہ معاشی دباؤ بڑھانے کی تیاری میں

ایران کی جانب سے خود کو ’مضبوط پوزیشن‘ میں قرار دینے کا بیان امریکہ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران پر مزید پابندیاں عائد کرے گا اور مجوزہ پابندیوں کی مہم کے ذریعے ایرانی حکومت کو ’گرا‘ دے گا۔

تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی منصوبے کو ’معاشی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پابندیوں کے محرکین کو مقدمے اور سزا کا سامنا کرنا چاہیے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر کہا کہ ’نام نہاد اقتصادی ڈی ڈے‘ امریکہ کے اپنے بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جہاں بے مثال قرضوں اور بڑھتے ہوئے سود کے اخراجات کا سامنا ہے۔

چین کی امریکی منصوبے پر تنقید

چین نے بھی ایران کے خلاف امریکی معاشی منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ واشنگٹن نے چین سمیت دیگر حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایرانی معیشت کو تنہا کرنے کی کوششوں میں شامل ہوں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ پابندیاں اور دباؤ مسئلے کے حل میں مدد نہیں کریں گے اور تمام متعلقہ فریقوں کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرنا چاہیے۔

چینی صدر شی جن پنگ 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کرنے والے ہیں اور توقع ہے کہ ایران کا معاملہ بھی اس دورے کے دوران زیر بحث آئے گا۔

نئی پابندیاں، ایران کے تجارتی شراکت دار بھی نشانے پر

رؤئٹرز کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان پیر کو متوقع نئی معاشی پابندیوں کے اعلان سے قبل دونوں جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ ان پابندیوں کا اثر ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں، خصوصاً چین، پر بھی پڑ سکتا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ پیر کو پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی تفصیلات بتانے والے ہیں۔ انہوں نے ایران پر ’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘ عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے اور چین سے واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی پابندیوں کے ممکنہ اعلان کو اقوام متحدہ کے ہر آزاد رکن ملک پر ’علاقائی حدود سے باہر خودمختاری مسلط کرنے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے ایکس پر کہا کہ ایسی ثانوی پابندیوں کی بین الاقوامی قانون میں کوئی بنیاد نہیں۔

آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل تقریباً رک گئی

رؤئٹرز کے مطابق جنگ کو تقریباً چھ ماہ مکمل ہونے والے ہیں، تاہم اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست فائرنگ نہیں ہو رہی اور نہ ہی امن مذاکرات جاری ہیں۔

اسی دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے۔ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا دباؤ برقرار رکھتے ہوئے ایسے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رہا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر آبنائے سے گزرنے کی کوشش کریں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین ایران سے برآمد ہونے والے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ تجزیاتی ادارے کیپلر کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زیادہ تیل کی منزل چین ہے۔

چین نے امریکی دباؤ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل پر زور دیا ہے۔

معاشی دباؤ سے فوجی کارروائی کا امکان کم، بیسنٹ

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالنے کی صورت میں امریکہ کے لیے دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی طرف جانے کا امکان کم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ پیر کو پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف مجوزہ معاشی اقدامات کی مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی قسم کی ’لائف لائن‘ فراہم کرنے والے ممالک کو معاشی نتائج سے خبردار کیا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن ان کے خیال میں وہ ’درست معاہدہ‘ کرنے کے لیے ابھی تیار نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *