میں ہمیشہ ماں بننا چاہتی تھی۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں تھی جو ایک کامیاب پیشہ ور خاتون بننے کے خواب دیکھتے ہیں۔ میں جانتی تھی کہ میں کتنی شدت سے بچے چاہتی ہوں۔
میرے شوہر ڈنکن، جن سے میری شادی 24 سال کی عمر میں 2001 میں ہوئی تھی، بالکل ایسا ہی محسوس کرتے تھے، لیکن برسوں کی دل شکنی اور اذیت کے بعد، جن کے دوران میرے سات اسقاطِ حمل ہوئے، میری تشخیص اینڈومیٹریوسس کے طور پر ہوئی۔
10 سال کی عمر سے ہی میرے ماہواری کے ایام مسلسل زیادہ تکلیف دہ ہوتے جا رہے تھے اور ان کا کوئی باقاعدہ سلسلہ نہیں تھا۔ میری علامات اینڈومیٹریوسس کی مریضہ کی کلاسیکی علامات تھیں، لیکن میں نے تقریباً 30 سال کی عمر تک اس بیماری کا نام بھی نہیں سنا تھا۔
جب ڈاکٹروں نے دو لیپروسکوپیوں کے بعد بالآخر اینڈومیٹریوسس کی تشخیص کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ ان بدترین کیسز میں سے ایک ہے، جو انہوں نے کبھی دیکھے ہیں۔
جب انہوں نے تصدیق کی کہ یہی میری بار بار اسقاطِ حمل کی وجہ تھی تو مجھے شدید غم محسوس ہوا، لیکن ساتھ ہی ایک طرح کا سکون بھی ملا۔ برسوں تک یہ محسوس کرنے کے بعد کہ لوگ سمجھتے ہیں میں جھوٹ بول رہی ہوں، اچانک کسی نے میری بات پر یقین کیا تھا۔ میری علامات حقیقی تھیں۔
پریزنٹر ایما بارنیٹ نے اپنے اینڈومیٹریوسس کے بارے میں عوامی سطح پر بات کی ہے، حال ہی میں اس موضوع پر بننے والی اپنی بی بی سی دستاویزی فلم میں بھی۔ اب انہوں نے اس موسم گرما کے آغاز میں کروائی گئی اپنی ہسٹریکٹومی کے بارے میں بھی لکھا ہے۔
انہوں نے اپنے سب سٹیک پر لکھا: ’یہ وہ راستہ نہیں تھا جس کا میں نے اپنے لیے تصور کیا تھا۔
’میں نے وہ ہسٹریکٹومی کروائی جسے میں کبھی نہیں کروانا چاہتی تھی۔۔۔ میں یہ آپریشن نہیں چاہتی تھی کیونکہ یہ ایک بڑی سرجری ہے۔ یہ خوفناک ہے اور اس سے صحت یابی کا عمل بھی بہت مشکل ہوتا ہے، جس کا میں اس وقت خود تجربہ کر رہی ہوں۔ میں یہ بھی نہیں چاہتی تھی کیونکہ میری خواہش تھی کہ اینڈومیٹریوسس کے لیے کوئی دوا یا علاج موجود ہوتا جو میری مدد کر سکتا۔ یہ قدم مجھے اس وقت بھی اور آج بھی حد سے زیادہ سخت محسوس ہوتا ہے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
میں ان کے تقریباً تمام تجربات سے خود کو جڑا ہوا محسوس کرتی ہوں۔ ان دنوں سے جب درد اتنا شدید ہوتا ہے کہ آپ کام تو دور، گھر سے بھی نہیں نکل سکتیں، لے کر اس مرحلے تک جب آپ کو ایک ایسی بڑی سرجری کروانی پڑتی ہے جسے آپ کبھی نہیں چاہتی تھیں۔ لیکن ایک فرق ہے: ایما خوش قسمت تھیں کہ ہسٹریکٹومی سے پہلے ان کے بچے تھے، جبکہ میں کبھی ماں نہ بن سکی۔
میری ہسٹریکٹومی 33 سال کی عمر میں ہوئی۔ اس وقت تک میرا اینڈومیٹریوسس اس حد تک بگڑ چکا تھا کہ مجھے مہینے میں 23 دن خون آتا تھا۔ فیصلہ کن موڑ میرے آخری اسقاطِ حمل کے بعد آیا۔ مجھے اس حمل کی توقع نہیں تھی۔ تشخیص کے بعد میں اور میرے شوہر فعال طور پر بچے پیدا کرنے کی کوشش چھوڑ چکے تھے۔ ہم گود لینے کے امکانات پر غور کر رہے تھے اور میری خون بہنے کی کیفیت اتنی بے ترتیب ہو چکی تھی کہ ہمیں حمل کا امکان ہی نہیں لگتا تھا۔
میں دفتر میں تھی جب مجھے اپنے ساتویں بار حاملہ ہونے کا علم ہوا اور میں بکھر کر رہ گئی۔ میں اتنا روئی کہ میری ساتھی کارکن کو لگا شاید کسی کا انتقال ہو گیا ہے۔ مجھے احساس تھا کہ ذہنی اور جسمانی طور پر اب میں مزید یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔ ایک حمل کے دوران مجھے سیپسس ہو گیا تھا اور میری جان تقریباً چلی گئی تھی جبکہ ایک اور حمل میں مجھے مکمل زچگی کے عمل سے گزرنا پڑا۔ مجھے یہ حقیقت قبول کرنا پڑی کہ اگرچہ میں حاملہ ہو سکتی تھی لیکن بچے کو مدت پوری ہونے تک اپنے رحم میں نہیں رکھ سکتی تھی۔ میں بانجھ تھی۔
میں نے ہسٹریکٹومی کروانے کا ’انتخاب‘ کیا، لیکن حقیقت میں یہ میری زندگی کی سب سے بڑی قربانی تھی، یعنی اپنی نسوانیت کھو دینا۔ مجھے غصہ آتا تھا کہ اسے اختیاری سرجری کہا جاتا تھا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میرے پاس یہی واحد راستہ تھا۔ میں اور میرے شوہر خاندان بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر چکے تھے اور مجھے محسوس ہوتا تھا کہ مجھے ایسی فیصلہ سازی پر مجبور نہیں ہونا چاہیے تھا۔ 10 سال ایک طویل عرصہ ہے جب آپ کی بات نہ سنی جائے۔ اگر کسی نے جوانی میں میری بات سن لی ہوتی تو شاید مجھے ابتدا ہی میں کامیاب سرجریاں کروانے کا موقع مل جاتا اور نتائج مختلف ہوتے۔
اس کے برعکس مجھے اپنا رحم، بیضہ دانیاں اور آنت کا ایک حصہ نکلوانا پڑا۔ اس وقت مجھے محسوس ہوتا تھا کہ یہ سرجری مجھے تمام درد اور انتہائی شدید ماہواری سے نجات دلائے گی۔ اس مرحلے پر مجھے مہینے میں 23 دن خون آتا تھا۔ اینڈومیٹریوسس کا کوئی علاج نہیں لیکن میں سمجھتی تھی کہ کم از کم ایک مسئلہ تو حل ہو جائے گا۔ مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ اس سے کتنے دوسرے مسائل پیدا ہوں گے۔
سرجری کے بعد مجھے محسوس ہوا جیسے میں ایک ہی رات میں 10 سال بوڑھی ہو گئی ہوں اور میں خود کو عورت محسوس نہیں کرتی سکتی تھی۔ خود کو دوبارہ پا لینے میں مجھے کافی تھیراپی اور اپنی ذات پر بہت کام کرنا پڑا۔
پھر مینوپاز آیا، جو بے حد سخت اور تکلیف دہ ثابت ہوا۔ میں شدید بے چینی کے ایک دور سے گزری، مجھے بہت شدید گرم لہریں (ہاٹ فلیشز) آتی تھیں اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی تھی۔ سرجری کے دوران میرے اعصاب کو بھی نقصان پہنچا تھا، اس لیے اب مجھے زندگی بھر پیشاب پر قابو نہ رہنے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس کے بعد میری آنتوں سے متعلق کئی مزید طبی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ اب بھی میرے جسم میں داغ دار زخم موجود ہیں، جن کے باعث قبل از سرطان پولپس بنے، جنہیں بعد میں نکالنا پڑا۔ میرے بائیں گردے میں بھی درد رہتا ہے کیونکہ وہاں اینڈومیٹریوسس موجود ہے جسے ڈاکٹر نکال نہیں سکے۔ بیضہ دانیاں نکلوانے کا مطلب ایسٹروجن سے محرومی بھی ہے، جس کے نتیجے میں ہڈیوں کے بھربھرے پن (آسٹیوپوروسس) اور دیگر طویل مدتی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جن کا علاج کرنا پڑتا ہے۔
ہسٹریکٹومی نے مجھ سے وہ زندگی چھین لی، جس کا میں نے اپنے لیے تصور کیا تھا لیکن اس نے مجھے زندگی واپس بھی دی۔ اب میں ان مسائل کا انتظام کر سکتی ہوں جبکہ اس خون بہنے کا نہیں کر سکتی تھی جو میرے کیریئر، میرے ازدواجی تعلق اور میری صحت کو متاثر کر رہا تھا۔
اب میری عمر 49 سال ہے اور میں آج بھی اس حقیقت کا غم محسوس کرتی ہوں کہ میرے بچے نہیں ہیں۔ میں نے اور میرے شوہر نے گود لینے کی کوشش کی لیکن میرے علاج کے اوقات اور اس حقیقت کی وجہ سے کہ وہ گھر میں رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والد بننے والے تھے، متعدد وجوہات کی بنا پر ہم کامیاب نہ ہو سکے۔
میں آج بھی ماں بننے کے ان تمام پہلوؤں کا غم محسوس کرتی ہوں، جن کا مجھے کبھی تجربہ نہیں ملا۔ ایسا حمل جس میں میں اور میرے شوہر میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے، اپنے شوہر کو ایک شان دار والد بنتے دیکھنا اور وہ مستقبل جس کا میں ہمیشہ خواب دیکھتی تھی۔
اس کے بجائے اب میرے سامنے ایک نیا اور مختلف مستقبل ہے۔ میں اپنی مقامی انتظامیہ اور بچوں کی خدمات کے شعبے میں کام کرتی ہوں، جو ایک ایسا کام ہے جس کے لیے میں بے حد پُرجوش ہوں۔ مجھے اپنے خوبصورت بھانجوں اور بھتیجوں، بھانجیوں اور بھتیجیوں کے ذریعے ایک احساسِ تکمیل ملتا ہے۔ میں نے چند سال قبل اینڈومیٹریوسس یو کے کے لیے برائٹن میراتھن میں شرکت کی تھی اور دوسری خواتین کی مدد کے لیے اپنے تجربات ایک بلاگ میں بھی شیئر کیے تھے۔
میں آج بھی بے بی شاور تقریبات سے گریز کرتی ہوں اور کسی کے حاملہ ہونے کے اعلان پر جذباتی طور پر مشکل محسوس کرتی ہوں، لیکن میں اپنی موجودہ زندگی کو بہترین انداز میں جینے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں نے یہ حقیقت قبول کر لی ہے کہ میرا رحم میرے جسم کا وہ حصہ تھا جو بالآخر درست طریقے سے کام نہیں کر سکا، اس لیے اسے نکالنا پڑا۔ بس میری خواہش ہے کہ معاملات کو بہتر انداز میں سنبھالا جاتا۔
ہسٹریکٹومی کے بعد مجھے نجی تھیراپی کے لیے خود ادائیگی کرنی پڑی کیونکہ کوئی مشاورتی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ مجھے مینوپاز کلینک میں ایک ماہر تک رسائی دی جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ گذشتہ سال میں نے ہارمون ریپلیسمنٹ تھیراپی (ایچ آر ٹی) کی خوراک بڑھوانے کے لیے ایک نجی مشاورت پر 600 پاؤنڈ (تقریبا سوا دو لاکھ پاکستانی روپے) خرچ کیے۔
آج بھی میرے شوہر اور میں کم عمری میں ہسٹریکٹومی کروانے کے نتائج کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس نے ہماری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ اب میری صرف یہ خواہش ہے کہ اینڈومیٹریوسس کو بڑھاوا دینے والے عوامل پر زیادہ تحقیق اور سرمایہ کاری کی جائے اور ایسا طریقہ تلاش کیا جائے، جس سے اس بیماری کو روکا جا سکے تاکہ دوسری خواتین کو وہ فیصلہ نہ کرنا پڑے جو مجھے کرنا پڑا اور جو خواتین اس سے گزرتی ہیں انہیں وہ مدد اور سہارا ملے، جو مجھے دستیاب نہیں تھا۔
یہ کہانی رادھیکا سنگھانی کو سنائی گئی۔
