حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی سعودی عرب کے تعاون سے وطن پہنچ گئے

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کو کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں ایک بحری جہاز پر حالیہ حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے چھ پاکستانی ملاح سعودی حکومت کے تعاون سے پاکستان واپس پہنچ گئے جبکہ حملے میں جان سے جانے والے دو پاکستانیوں کی میتیں بھی واپس لائی گئی ہیں۔

حوثیوں نے 11 اگست کو باب المندب کے قریب تہامہ نامی تنزانیہ کے بحری جہاز پر حملہ کیا تھا، جس میں پاکستانیوں سمیت کم از کم چھ افراد جان سے گئے تھے۔

یہ گذشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیے جانے کے بعد بحیرہ احمر کے داخلی راستے اور اس کے اطراف بحری جہازوں پر ہونے والا تازہ ترین حملہ تھا۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر اپنے پیغام میں پاکستانیوں کی واپسی کی اطلاع دیتے ہوئے جدہ میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل اور ریاض میں سفارت خانے کی بروقت اور بھرپور کوششوں کو سراہا، جنہوں نے یمن میں پاکستانی سفارتی مشن نہ ہونے کے باوجود زخمیوں کی واپسی اور میتوں کو یمن سے پاکستان منتقل کرنے اور ان کے سفر کے انتظامات میں سہولت فراہم کی۔

انہوں نے سعودی وزارت خارجہ کے تعاون کو بھی سراہا، جس میں جدہ میں فراہم کی جانے والی طبی معاونت اور انتظامات بھی شامل ہیں۔

بقول اسحاق ڈار: ’پاکستان اس حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ سمندری جہازوں کے عملے کی حفاظت اور سلامتی ہر وقت یقینی بنائی جانی چاہیے۔ ہم زخمی ملاحوں اور غم زدہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

باب المندب آبنائے یمن اور براعظم افریقہ کے درمیان واقع ہے، جو خلیج عدن کو بحیرہ احمر اور نہر سویز کے ذریعے بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔ اس وجہ سے یہ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم بحری راستہ ہے۔

جولائی میں حوثیوں کی جانب سے سعودی بحری جہازوں کو حملوں کی دھمکیاں دیے جانے کے بعد اس آبی گزرگاہ کے گرد سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ تجارتی بحری جہازوں پر حملے بھی دوبارہ شروع ہو گئے ہیں۔

11  اگست کو ہونے والا حملہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی جانب سے مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے جانے کے چند روز بعد ہوا۔ اس معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

جولائی میں پاکستان سعودی قیادت میں قائم کثیر ملکی بحری دفاعی اتحاد کا بھی حصہ بنا، جس میں 13 دیگر ممالک شامل ہیں۔ اس اتحاد کا مقصد باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن سے گزرنے والے بحری تجارتی راستوں کا تحفظ ہے۔

اس اتحاد کے 14 بانی ارکان میں سعودی عرب، پاکستان، بحرین، بنگلہ دیش، کوموروس، جبوتی، مصر، اردن، کویت، قطر، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن شامل ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *