ہاکی ورلڈ کپ میں پہلا میچ ہارنے اور دوسرا برابر کھیلنے کے بعد بدھ کو پاکستان کا مقابلہ روایتی حریف انڈیا سے ہونے جا رہا ہے۔
بیلجیم اور نیدرلینڈز میں مشترکہ طور پر کھیلے جانے والے فیڈریشن آف انٹرنیشنل ہاکی کے زیر انتظام ورلڈ کپ کا آغاز 15 اگست سے ہوا اور یہ ایونٹ 30 اگست تک جاری رہے گا۔
ایونٹ میں پاکستان اب تک دو میچز کھیل چکا ہے جہاں اسے اپنے پہلے میچ میں انگلینڈ سے شکست ہوئی جبکہ ویلز کے خلاف میچ برابری پر ختم ہوا۔
دوسری جانب انڈیا نے بھی ابھی تک دو ہی میچز کھیلے ہیں جس میں اسے بھی انگلینڈ سے تو شکست ہوئی مگر اس نے ویلز کے خلاف میچ میں فتح حاصل کی ہے۔
اس طرح اب بدھ کو پاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ دونوں ہی روایتی حریف ٹیموں کے لیے انتہائی اہم ہو گیا ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام چھ بجے کھیلا جائے گا۔
اس میچ سے قبل روایتی حریف پاکستان اور انڈیا کے اب تک کے سفر پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس کا پلڑا بھاری رہا ہے۔
انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کی ویب سائٹ کے مطابق اب تک پاکستان اور انڈیا کے درمیان کل 65 میچز کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے پاکستان کو 25 میچز میں کامیابی ہوئی جبکہ 31 میچ انڈیا نے جیتے۔
اسی طرح دونوں ٹیموں کے درمیان 9 میچ برابری پر ختم ہوئے۔
پاکستان اور انڈیا کے درمیان پہلا میچ 1956 میں کھیلا گیا تھا اور اس کے بعد سے پاکستان کا پلڑا نہ صرف انڈیا بلکہ پوری دنیا کے خلاف ہی بھاری رہا۔
دنیا میں ہاکی کھیلنے والے چند ہی ممالک پاکستان جتنا شاندار ورثہ رکھنے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اب بھی چار مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز رکھتا ہے۔
پاکستان کے علاوہ آسٹریلیا، جرمنی اور نیدرلینڈز ایسے ملک ہیں جو اب تک تین، تین مرتبہ عالمی چیمپیئن بنے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مگر پھر پاکستان کے قومی کھیل میں اس کے زوال کا اندازہ بھی اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ چار مرتبہ کے عالمی چیمپیئن نے آٹھ سال بعد ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
دوسری جانب عالمی مقابلوں میں انڈیا کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ اب تک صرف ایک مرتبہ ہی ہاکی ورلڈ کپ جیت چکا ہے۔
انڈیا نے 1975 میں کوالالمپور میں منعقدہ مینز ہاکی ورلڈ کپ میں اپنے روایتی حریف پاکستان کو شکست دے کر پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کی ٹرافی اپنے نام کی تھی۔
اس کے بعد سے انڈیا کسی بھی ہاکی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک بھی نہیں پہنچ سکا ہے۔
درحقیقت انڈیا نے اولمپکس میں مینز ہاکی کے ریکارڈ آٹھ طلائی تمغے جیتے، جن میں آخری گولڈ میڈل 1980 کے ماسکو اولمپکس میں حاصل کیا گیا تھا۔
اس کے برعکس، اس دور کی ایک اور ایشیائی ہاکی طاقت پاکستان مینز ہاکی ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم ہے، جس نے چار مرتبہ ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا ہے۔
پاکستان ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے سابق کپتان اور اولمپیئن طاہر زمان کہتے ہیں کہ کچھ قوانین تبدیل ہوئے اور کچھ دنیا نے ہاکی کو زیادہ سنجیدہ لینا شروع کر دیا مگر ’ہم یہ نہ جان سکے کہ ان تبدیلیوں سے ہمارے کھیلنے کے انداز میں کیا فرق آئے گا۔‘
طاہر زمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اپنی اسی رفتار میں اور جیت کے نشے، برتری کے خمار میں لگے رہے اور چلتے رہے آگے کی طرف۔‘
اسی بارے میں انہوں نے مزید واضح کیا اور کہا کہ ’ڈپارٹمنٹ ختم ہوئے، نوکریاں چلی گئیں، جہاں ہزاروں کی تعداد میں کھلاڑی تھے وہاں سینکڑوں میں آنے شروع ہو گئے، جہاں سینکڑوں میں تھے وہاں گنتی کے رہ گئے۔‘
