جیسن آرڈے کی موت اکیڈیمیا میں امتیازی رویے کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟

برطانوی سیاہ فام جیسن آرڈے 2023 میں برطانیہ کی معروف کیمبرج یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے پروفیسر مقرر ہوئے تھے۔ وہ 37 سال کی عمر میں اس یونیورسٹی میں تعینات ہونے والے سب سے کم عمر سیاہ فام پروفیسر تھے۔

خواتین اور مختلف نسلی پس منظر رکھنے والے افراد کی اکیڈیمیا میں نسبتاً کم نمائندگی پر ہونے والی مسلسل تنقید کے بعد کیمبرج نے اپنی حریف یونیورسٹی آکسفورڈ کی طرح فیکلٹی کی بھرتیوں میں تنوع، مساوات اور شمولیت کو ترجیح دینے کی کوشش کرتے ہوئے ایسی امیدواروں کی تعیناتی کرنے پر توجہ مرکوز کی تھی جو جنسی، نسلی، لسانی یا مذہبی امتیاز کے باعث عموماً ایسے بڑے اور نامور اداروں کا حصہ نہیں بن پاتے تھے۔

جیسن آرڈے کی تعیناتی کے ساتھ ہی ان کی تقرری پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے تھے۔ ان کے پی ایچ ڈی مقالے اور تحقیق پر سرقے کے الزامات لگائے گئے اور ان کی ذاتی زندگی سمیت سماجی سرگرمیوں پر بھی اعتراضات کیے گئے۔ ان میں ان کا یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ انہوں نے 35 دنوں کے دوران 30 میراتھن دوڑوں میں حصہ لیا تھا۔

جیسن آرڈے کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے والی لیورپول جان مورز یونیورسٹی نے ان کے مقالے سے متعلق انکوائری کے بعد ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقالہ سرقہ شدہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود جیسن کی تحقیق پر سوالات اٹھتے رہے۔

ساتھ ہی برطانوی میڈیا جیسن کے خلاف بھرپور کوریج کرتا رہا۔ اس تمام صورتِ حال سے تنگ آ کر جیسن نے رواں سال اگست کے آغاز میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے آن لائن شائع کیے گئے ایک خط میں لکھا تھا، ’اس باب کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہی ہے کہ میں خود کو اس سے الگ کر لوں۔‘

ان کے استعفے کے بعد بھی جیسن کے خلاف میڈیا کوریج میں مزید تیزی آ گئی اور بالآخر 14 اگست کو خبر آئی کہ جیسن آرڈے لندن میں مردہ پائے گئے ہیں۔

ان کی موت کے بعد علمی دنیا میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ تاریخی طور پر نظر انداز کی جانے والی نسلی اور لسانی برادریوں سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ تعلیم کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے کے مواقع کس حد تک منصفانہ طور پر ملتے ہیں اور ان کی تقرری کے بعد انہیں اپنے ہم منصبوں کے مقابلے میں کس نوعیت کی جانچ پڑتال اور تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کا ان پر کیا اثر پڑتا ہے۔

دنیا بھر میں اکیڈیمیا میں ہمیشہ سے امتیازی رویہ موجود رہا ہے۔ یہ رویہ ہر اس شخص کے خلاف ہو سکتا ہے جو کسی بھی لحاظ سے کسی اقلیت، یا ایسی نسلی، لسانی یا مذہبی برادری سے تعلق رکھتا ہو جسے طویل عرصے سے کمتر سمجھا جاتا رہا ہے۔

ایسے افراد کے کام کو دوسروں کے کام سے کم تر سمجھا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اپنی قابلیت اور قدر ثابت کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے باوجود انہیں وہ مواقع مشکل سے ملتے ہیں جو اکثریتی گروہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو آسانی سے مل جاتے ہیں۔

پاکستانی اکیڈیمیا بھی اس لحاظ سے مختلف نہیں ہے۔ یہاں خواتین، پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور نسلی و مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔

ہر میٹنگ روم میں مرکزی نشستوں پر مرد قابض نظر آتے ہیں۔ خواتین نشست نہ ملنے پر دور کی نشستوں پر بیٹھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مرد بولتے ہیں تو سب انہیں خاموشی سے سنتے ہیں جبکہ خواتین کی دفعہ بار بار گھڑی کی طرف دیکھا جاتا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مرد پروفیسر یونیورسٹی کی سینیئر قیادت کے ساتھ بس یوں ہی چائے پیتے ہوئے یا چہل قدمی کرتے ہوئے اپنے کئی کام نکلوا لیتے ہیں جبکہ خواتین کو سینیئر قیادت سے ملنے کے لیے باقاعدہ میٹنگ کی درخواست کرنا پڑتی ہے۔

جب وہ ملاقات کے لیے پہنچتی ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سینیئر قیادت وہی موقع کسی دوسرے پروفیسر کو کیفے میں چائے پیتے ہوئے دے چکی ہے۔

نسلی، مذہبی اور لسانی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اکیڈیمیا میں امتیازی سلوک کا سامنا کرتے ہیں۔ تاہم، نسبتاً بہتر اداروں میں کام کرنے والی فیکلٹی کو اس حوالے سے بہتر حالات میسر ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں اپنے خیالات کے اظہار میں احتیاط برتنا پڑتی ہے اور ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔

ہماری جامعات میں مذہب اور مذہبی تصورات پر گفتگو معمول کا حصہ ہے۔ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی فیکلٹی اکثر ایسی گفتگو میں حصہ لینے سے گریز کرتی ہے اور بعض اوقات اپنے مذہبی عقائد کے بارے میں بات کرنے سے بھی احتراز برتتی ہے۔

یہ ان کی بچپن سے ہونے والی تربیت کا نتیجہ ہے۔ پاکستانی آئین انہیں ایک طرف شہری حقوق دیتا ہے تو دوسری طرف بعض آئینی دفعات انہیں اکثریت سے الگ ایک مخصوص قانونی حیثیت میں رکھتی ہیں۔

وہاں سے شروع ہونے والا امتیازی سلوک جب معاشرے کی جڑوں میں پہنچتا ہے تو مذہبی اقلیتیں خاموش رہنا اور محتاط انداز میں زندگی گزارنا سیکھ لیتی ہیں۔

اسی طرح دہشت گردی، تنازع اور سکیورٹی کے حوالے سے حساس یا مشکل علاقوں سے آنے والی فیکلٹی کو بھی بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے تجربات طلبہ کے ساتھ شیئر نہ کریں، ملکی مسائل پر کھل کر بات نہ کریں اور مثبت پہلوؤں پر توجہ رکھیں۔ ایسی فیکلٹی کو بھی اکثر خاموشی اختیار کرکے اپنا وقت گزارنا پڑتا ہے۔

جیسن آرڈے کی وفات کے بعد اکیڈیمیا میں موجود ان مسائل پر بات ہو رہی ہے لیکن کچھ ہی دنوں میں یہ شور ختم ہو جائے گا اور معاملات پہلے کی طرح چلنے لگیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اس صورت حال کو کیسے بدل سکتے ہیں۔

کیمبرج نے جامعہ میں تنوع اور شمولیت کو فروغ دینے کی ذمہ داری ادارے کے مختلف شعبوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک ٹیم کو اضافی ذمہ داری کے طور پر سونپی ہوئی ہے جبکہ آکسفورڈ جیسی جامعات میں اس مقصد کے لیے باقاعدہ عہدے موجود ہیں۔ اکیڈیمک دنیا میں کیمبرج کی ان پالیسیوں اور ان پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کو بھی جیسن کے لیے پیدا ہونے والی مشکلات کے ممکنہ عوامل میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ہماری جامعات میں بھی کیمبرج کی طرح ایسے معاملات فیکلٹی کو اضافی ذمہ داری کے طور پر سونپ دیے جاتے ہیں۔ پہلے ہی کام کے بوجھ تلے دبی فیکلٹی اس اضافی ذمہ داری کو اس توجہ اور وقت کے ساتھ ادا نہیں کر سکتی جس طرح اس مقصد کے لیے قائم کیا گیا باقاعدہ شعبہ اور اس کا عملہ کر سکتے ہیں۔ جامعات کے ماحول کو زیادہ متنوع، مساوی اور جامع بنانے کے لیے ہمیں اس مقصد کے لیے باقاعدہ شعبے قائم کرنے چاہیے جو آزادانہ طور پر کام کریں اور اس بات پر توجہ دیں کہ ہر شخص بغیر کسی امتیاز کے کام کر سکے۔

لیکن تبدیلی کی ضرورت معاشرتی سطح پر بھی ہے۔ ہمیں معاشرے میں لوگوں کے درمیان موجود نفرت اور خلیج کم کرنے پر کام کرنا چاہیے۔ ہمیں ایسی گفتگو کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو لوگوں کو ان کی شناخت، عقیدے، زبان، نسل یا پس منظر کی بنیاد پر ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرتی ہے۔ میڈیا کو بھی لوگوں کو مسلسل کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے اپنی بنیادی ذمہ داری یعنی عوام کو درست اور ذمہ دارانہ معلومات فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

تب ہی اس تبدیلی کا اثر ہماری جامعات ،ہمارے گھروں، محلوں، سڑکوں اور دفاتر میں بھی نظر آئے گا۔ شاید تب ہم اپنے سے مختلف کسی شخص کو کسی عہدے پر دیکھ کر اس کی قابلیت پر سوال اٹھانے کے بجائے اسے مبارک باد دیں گے اور اس کے علم، تجربے اور کامیابی سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *