کیا ٹرمپ نیتن یاہو کے بغیر رہنے کے لیے تیار ہیں؟

ہنری کسنجر کا مشہور قول کہ ’اسرائیل کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں، صرف اندرونی سیاست ہے‘ آج جتنا بامعنی محسوس ہوتا ہے شاید ہی پہلے کبھی ہوا ہو، حالانکہ یہ بات انہوں نے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے اس وقت کہی تھی جب وہ امریکی وزیر خارجہ تھے اور یوم کیپور جنگ کے بعد خطے میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

یہ جملہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے حماس اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے درمیان طے پانے والے غزہ کے 15 نکاتی امن منصوبے کو کھلے عام اور سختی سے مسترد کرنے کی بھی اچھی وضاحت کرتا ہے، ایک ایسا منصوبہ جس پر امریکی صدر بہت زیادہ انحصار کر رہے تھے۔

نیتن یاہو کا یہ اعلان کہ ’ہم اپنے مؤقف پر قائم رہ سکتے ہیں اور رہنا جانتے ہیں، اگر ضرورت پڑے تو اپنے بہترین دوستوں کے مقابل بھی‘ اس بات میں کوئی شک باقی نہیں چھوڑتا کہ اس وقت ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ وہ ٹرمپ کے ساتھ اچھے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں لیکن اتنی نہیں جتنی وہ اپنی طویل سیاسی زندگی کے اہم ترین انتخابات میں کامیابی کو دیتے ہیں، جو 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔

نیتن یاہو جس تنقید کے سامنے جھک گئے ہیں، اس کا بڑا حصہ ان کے اپنے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے آیا، جو ان کے سیاسی ووٹ بینک کا اہم حصہ ہیں اور جنہیں وہ کھونا نہیں چاہتے۔ تاہم ایک اہم وار اس شخص کی جانب سے بھی آیا جو سال کے اختتام تک اسرائیل کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں، سابق فوجی جنرل گاڈی آئزن کوٹ۔ 31 جولائی کو، جس دن اس معاہدے کا پہلی بار اعلان کیا گیا، آئزن کوٹ نے دعویٰ کیا : ’نیتن یاہو نے اپنی سیاسی کمزوری کے باعث ہتھیار ڈال دیے ہیں اور جنگ کے مقاصد حاصل کیے بغیر پسپائی اختیار کی ہے۔‘

یہ حیران کن محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ نے اب تک اس توہین آمیز رویے پر زیادہ سخت ردعمل نہیں دیا۔ کیا اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ ایک ایسے دوست کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے جو انتخابی لحاظ سے کمزور پوزیشن میں ہے؟ یقیناً وہ ان اشاروں سے واقف ہوں گے کہ نیتن یاہو کے بعد کا اسرائیل شاید اب زیادہ دور نہیں۔

اس انتہائی غیر متوقع امریکی صدر کے محرکات کا تجزیہ کرنا ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ مگر ایران کی جنگ، جسے شروع کرنے پر آمادہ کرنے میں نیتن یاہو نے اہم کردار ادا کیا تھا، اب پہلے سے زیادہ ایک تباہ کن فیصلہ دکھائی دیتی ہے۔ ایسی صورت حال میں صدر یقیناً غزہ میں کسی پیش رفت کو امریکی ووٹرز کے سامنے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنا چاہتے تھے، خاص طور پر ایسی پیش رفت جس میں ان کے قریبی ساتھی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے کافی محنت کی تھی۔

نیتن یاہو نے انہیں یہ ہی موقع دینے سے انکار کر دیا ہے۔

یقیناً یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ کی خاموشی کی وجہ نیتن یاہو کو اقتدار میں برقرار رکھنے کی خواہش سے زیادہ، امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے نیتن یاہو کے حامی ریپبلکن عطیہ دہندگان کی حمایت محفوظ رکھنا ہو۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے باوجود اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ٹرمپ اس شخص کے ساتھ رہنا پسند کریں گے جسے وہ اچھی طرح جانتے ہیں، ایک ایسا رہنما جو ان کی مسلسل اور کھلے دل سے تعریف کرتا رہتا ہے، حتیٰ کہ حالیہ بیان میں بھی جس میں انہوں نے ٹرمپ کی خواہش کے خلاف جانے کا اعلان کیا، تو پھر ٹرمپ کو اکتوبر تک ایک ایسے اتحادی کو برداشت کرنا ہوگا جو الیکشن جیتنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔

نیتن یاہو کے پاس ایک مشکل انتخاب تھا۔ یہ ہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس معاہدے کی مخالفت کا اعلان کرنے میں اتنا وقت لیا۔ درحقیقت، اگرچہ ان کے قریبی سیاسی ساتھی ابتدا ہی سے اس معاہدے کے مخالف تھے، لیکن ایک مرحلے پر خود نیتن یاہو اس بات پر غور کر رہے تھے کہ اسے اپنے حامیوں کے لیے کس طرح زیادہ قابل قبول بنایا جا سکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے مبینہ طور پر بورڈ آف پیس کے مذاکرات کار نکولے ملادینوف کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ اسرائیل غزہ سے اپنی فوجوں کا انخلا صرف اس وقت شروع کرے گا جب حماس کا مکمل غیر مسلح ہونا یقینی ہو جائے گا۔

ایک مرتبہ پھر نیتن یاہو کو دو انتخابی ضروریات میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑا۔ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل حمایت درکار ہے، جو اسرائیل میں نیتن یاہو سے زیادہ مقبول ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ گذشتہ اکتوبر زندہ بچ جانے والے یرغمالیوں کی رہائی میں امریکی صدر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ وہ یہ تاثر بھی پیدا نہیں ہونے دینا چاہتے کہ جنگ ناکامی پر ختم ہوئی، ایک ایسی لڑائی جس کے آغاز کو روکنے میں ناکامی پر اسرائیلی رائے عامہ کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی انہیں ذمہ دار سمجھتا ہے۔

دوسرے حالات میں شاید وہ اس معاہدے کو قبول کر لیتے۔ وہ یہ مؤقف اختیار کر سکتے تھے کہ حماس کی جانب سے غیر مسلح ہونے کے عمل کے آغاز پر آمادگی دراصل اسی مقصد کی سفارتی تکمیل ہے جسے وہ ہمیشہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن معاہدے کو مسترد کرنا انہیں سات اکتوبر کے واقعات کی ذمہ داری کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ شاید غزہ میں فوجی کارروائی جاری رکھنے کی آزادی دے کر یہ فیصلہ عوامی توجہ بھی اس مسئلے سے ہٹا دے۔

انہیں یقیناً یہ جاننا چاہیے کہ کئی اسرائیلی مبصرین اس انتخاب کو پہلے ہی ’قتلِ عام الیکشن‘ قرار دے رہے ہیں تاہم ان کی مراد غزہ میں 73 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی موت نہیں بلکہ سات اکتوبر کو مارے جانے والے 1200 اسرائیلی ہیں، جن کے بارے میں نیتن یاہو نے مسلسل اپنی ذمہ داری تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

آئزن کوٹ بھی سیاسی موقع پرستی سے مکمل طور پر پاک نہیں ہیں۔31  جولائی کو جس معاہدے پر انہوں نے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، وہ کم از کم رسمی طور پر حماس اور بورڈ آف پیس کے درمیان باظابطہ طور پر طے پایا تھا، نیتن یاہو کے ساتھ نہیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا تھا کہ اس معاہدے سے غزہ میں حماس اقتدار میں رہے گی، حالانکہ حماس پہلے ہی یہ کہہ چکی ہے کہ وہ اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن پھر، کسنجر کے الفاظ یاد کیجیے، یہ ایک انتخابی معرکہ ہے اور انتخاب میں پیغام ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ اور یہ وہ پیغام ہے جس سے نیتن یاہو کو خوفزدہ ہونا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹرمپ جیسے غیر متوقع شخص کی مخالفت میں جانے سے کوئی خطرہ موجود نہیں۔ نیتن یاہو کے لیے سب سے بڑا سیاسی دھچکا یہ ہوگا اگر آئزن کوٹ، جو اس وقت بھی رائے عامہ کے جائزوں میں مضبوط پوزیشن میں ہیں، انتخابات سے پہلے وائٹ ہاؤس کی دعوت حاصل کر لیں۔

اس کے باوجود ٹرمپ کو ناراض کرنے اور اسرائیلی عوام، بالخصوص دائیں بازو کے ووٹروں، کو ناراض کرنے کے درمیان انتخاب میں نیتن یاہو نے یہ جوا کھیلا ہے کہ صدر ٹرمپ شاید زیادہ سخت ردعمل نہیں دیں گے۔ یہ مضمون لکھے جانے تک کم از کم ٹرمپ کی خاموشی یہ ہی ظاہر کرتی ہے کہ شاید نیتن یاہو کا یہ اندازہ درست ثابت ہو رہا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *