ڈیلاس ایئرپورٹ پر وضو کی اضافی جگہیں قائم کرنے کا منصوبہ واپس کیوں لیا گیا؟

ڈیلاس- فورٹ ورتھ انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے مسلمان مسافروں کے لیے وضو کرنے کی اضافی جگہیں قائم کرنے کا منصوبہ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کی جانب سے فنڈنگ روکنے کی دھمکی کے بعد منسوخ کر دیا ہے۔

گریگ ایبٹ نے ڈیلاس اور ہیوسٹن کے جارج بش انٹر کانٹینینٹل ایئرپورٹ کو فراہم کی جانے والی گرانٹس کا ریاستی جائزہ لینے کی ہدایت کی تھی۔

ان کا مؤقف تھا کہ مخصوص وضو کی سہولیات، جو مسلمان نماز سے قبل وضو کے لیے استعمال کرتے ہیں، سرکاری ملکیت والی جگہوں پر غیر قانونی مذہبی امتیاز کے مترادف ہیں۔

ڈیلاس ایئرپورٹ کے ایک نمائندے نےفاکس 4  ڈیلاس- فورٹ ورتھ کو بتایا کہ حکام بین الاقوامی ٹرمینل ٹرمینل ڈی کے سکیورٹی چیک سے پہلے والے حصے میں نئی وضو کی جگہیں بنانے کی تجویز کا جائزہ لے رہے تھے۔

عوام کی جانب سے بڑی دلچسپی کے بعد حکام نے جائزے کے عمل کو تیز کیا اور بالآخر منصوبہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

حکام نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تجویز اس وقت ختم کر دی گئی، جب انتظامیہ نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’اس سے وہ آپریشنل فوائد حاصل نہیں ہوں گے، جن کی ابتدا میں توقع کی گئی تھی۔‘

یہ فیصلہ گورنر گریگ ایبٹ کی جانب سے ایئرپورٹ فنڈنگ کو ہدف بنانے اور وفاقی تحقیقات کا مطالبہ کرنے کی ہدایت کے بعد سامنے آیا ہے۔

ڈیلاس ایئرپورٹ کے چیف ایگزیکٹو کرسٹوفر میک لافلن کے نام خط میں ایبٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کے زیر انتظام سہولیات کسی ایک مذہبی روایت کو دوسری روایات پر ترجیح نہیں دے سکتیں۔

ایبٹ نے خط میں لکھا: ’یہ وضو کی سہولیات بظاہر آبادی کے ایک مخصوص طبقے کو مذہب کی بنیاد پر خصوصی سلوک کے لیے الگ کرنے کے لیے بنائی گئی معلوم ہوتی ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح حکومت سیکولر نظریے کو مذہبی نظریے پر ترجیح نہیں دے سکتی، اسی طرح ایک مذہبی تصور کو بھی دوسرے تمام مذہبی تصورات پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔

ایبٹ نے امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی اور فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) سے دونوں ایئرپورٹس پر موجود مذہبی سہولیات کا جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

اپنے خط میں گورنر نے کہا کہ ریاستی گرانٹس حاصل کرنے والے اداروں کو امتیازی سلوک کے خلاف قوانین کی پابندی کی تصدیق کرنا ہوتی ہے اور خبردار کیا کہ ان شرائط کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ادارے کو ’نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

ڈیلاس کے منصوبے کے علاوہ ایبٹ نے ہیوسٹن کے ایئرپورٹ کا بھی حوالہ دیا، جہاں فروری 2024 میں نماز کے لیے ایک جگہ اور وضو کی سہولت قائم کی گئی تھی۔ وہاں قرآن پاک کے نسخے، جائے نمازیں، تسبیحیں اور تربت بھی فراہم کی گئی تھیں۔

ڈیلاس ایئرپورٹ کے ٹرمینل ڈی میں سکیورٹی چیک کے بعد والے حصے میں موجود انٹرفیتھ چیپل کے اندر پہلے ہی وضو کی دو سہولیات موجود ہیں، جو 2019 میں تزئین و آرائش کے دوران نصب کی گئی تھیں۔

منصوبہ منسوخ ہونے سے قبل ایئرپورٹ کی کمیونیکیشنز کی اسسٹنٹ نائب صدر کیٹی شومونٹ نے موجودہ سہولیات کا دفاع کیا تھا اور توسیع کے منصوبے کی وضاحت کی تھی۔

انہوں نے فاکس 4 کو دیے گئے بیان میں کہا ’ٹیکساس اور ملک بھر کے بہت سے بین الاقوامی ایئرپورٹس کی طرح، ڈی ایف ڈبلیو بھی کئی سال سے اپنے بین الاقوامی ٹرمینل کے سکیورٹی کے بعد والے حصے میں وضو کی سہولت فراہم کر رہا ہے اور اس حوالے سے کبھی کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ ایئرپورٹ اسی ٹرمینل کے سکیورٹی سے پہلے والے حصے میں مزید ایک واش روم میں یہ سہولت فراہم کرنے کی داخلی تجویز کا جائزہ لے رہا تھا۔‘

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ڈیلاس ایئرپورٹ کی جانب سے منصوبہ منسوخ کیے جانے کے باوجود ایبٹ کی جانب سے شروع کیا گیا مالیاتی جائزہ جاری رہے گا یا نہیں۔

دی انڈپینڈنٹ نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے ایئرپورٹ حکام سے رابطہ کیا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *