اسلام آباد: شراب، فحش مواد کی تیاری و ترسیل پر 284 غیر ملکی زیرِ حراست

اسلام آباد پولیس نے ایک کمرشل عمارت میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے چین، ویتنام اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے 284 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا ہے جبکہ پولیس کے مطابق اس مبینہ نیٹ ورک کے بعض مرکزی کردار کارروائی کے دوران فرار ہو گئے۔

پولیس حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کارروائی کے دوران مبینہ نیٹ ورک کے چند مرکزی افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ اب تفتیش میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ افراد کون تھے، ان کا کردار کیا تھا اور وہ پولیس کارروائی کے دوران کیسے فرار ہوئے۔‘

حکام کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی 9 اگست کو ایک اطلاع پر کی گئی تھی کہ عمارت میں بعض چینی شہری مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر شراب فروخت کر رہے ہیں، تاہم عمارت کی تلاشی کے دوران بڑی مقدار میں بیئر اور دیگر الکوحل کے ساتھ مختلف منزلوں پر متعدد سٹوڈیوز بھی ملے جہاں مبینہ طور پر فحش مواد تیار کیا جا رہا تھا۔

’ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ سرگرمیاں چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری تھیں۔‘

اس کاروائی کے دوران چین، ویتنام اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے 500 کے قریب افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق ’کارروائی کے وقت عمارت میں چین، ویتنام اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 افراد موجود تھے، جن میں سے 284 کو حراست میں لیا گیا۔ زیرِ حراست افراد میں 60 خواتین بھی شامل ہیں۔‘

حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث پولیس نے اسی کمرشل عمارت کو عارضی طور پر سب جیل قرار دے دیا، جہاں چینی شہریوں اور بعض خواتین کو رکھا گیا ہے، جبکہ ویتنامی شہریوں کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’عمارت کے باہر سکیورٹی کے لیے بھاری نفری تعینات ہے اور غیر متعلقہ افراد اور میڈیا نمائندوں کو عمارت کے قریب جانے یا اندر موجود افراد کی ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہے۔‘

’زیرِ حراست غیر ملکی شہریوں کو عمارت میں ہی رکھا گیا ہے اور وہاں بجلی منقطع کر دی گئی ہے، تاہم انہیں کھانا فراہم کرنے کی اجازت ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ معاملہ محض غیر قانونی شراب فروشی کے الزام تک محدود نہیں رہا بلکہ پولیس کو ایک ہی عمارت میں مبینہ طور پر غیر قانونی شراب، متعدد سٹوڈیوز اور فحش مواد کی تیاری سے متعلق سرگرمیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اب تک پولیس کی کارروائی میں بڑی تعداد میں افراد کی گرفتاری کے باوجود مبینہ نیٹ ورک کے مرکزی کرداروں کا فرار ہونا تفتیش اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا رہا ہے۔

دوسری جانب زیرِ حراست چینی شہریوں نے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے، جس کے بعد معاملہ قانونی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

اس کیس میں ایک اور اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزارت داخلہ نے زیرِ حراست 284 غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے۔

حکام کے مطابق ان افراد کو 15 روزہ ون ٹائم ایگزٹ پرمٹ جاری کیے گئے ہیں۔

تاہم پولیس کی کارروائی کے باوجود کئی سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔ ان غیر ملکی شہریوں نے پاکستان میں داخل ہو کر اسلام آباد میں یہ مبینہ سرگرمیاں کیوں شروع کیں؟ انہیں یہاں رہائش اور دیگر سہولیات کس نے فراہم کیں؟ مبینہ نیٹ ورک کو کون چلا رہا تھا اور اسے مالی معاونت کہاں سے مل رہی تھی؟

اسی طرح یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا اس نیٹ ورک کی سرگرمیاں ان الزامات سے کہیں زیادہ وسیع تھیں جو اب تک سامنے آئے ہیں۔

پولیس کے مطابق ان سوالات کے جوابات مزید تفتیش کے دوران سامنے آئیں گے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ’مرکزی کرداروں کی شناخت اور ان کے کردار کا تعین کیا جا رہا ہے، مزید تحقیقات کے بعد ہی اس پورے معاملے کی اصل صورت حال واضح ہو گی۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *