صدر مملکت آصف علی زرداری نے جمعے کو وزیراعظم کی بھجوائی گئی سفارشات کی روشنی میں 1500 سے زائد فوجی و سول اعزازات اور قومی ایوارڈز کی منظوری دی ہے۔ اس میں اہل قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی شامل ہے۔
79ویں یوم آزادی کے موقعے پر ایوان صدر کے مطابق صدر زرداری نے مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کے 1,172 افسران و اہلکاروں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں فوجی اعزازات دینے کی منظوری دی۔
اس کے علاوہ ملک کے 355 شخصیات کو مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات پر قومی سول اعزازات دینے کی بھی منظوری دی گئی۔
یہ اعزازات سائنس، انجینیئرنگ، تعلیم، طب، ادب، فنون لطیفہ، صحافت، کھیل، سماجی بہبود، فلاحی خدمات اور عوامی خدمت کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کے اعتراف میں دیے جائیں گے۔
سرکاری اعلان کے مطابق اعزازات 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی تقریب تقسیم اسناد میں دیے جائیں گے۔
ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی فہرست میں کئی نام دلچسپی کے حامل ہیں۔
ان میں پاکستان کی پہلی صوفی اوپیرا گلوکارہ سائرہ پیٹر کو موسیقی اور پرفارمنگ آرٹس کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔
سائرہ پیٹر مغربی کلاسیکی اوپیرا کو جنوبی ایشیائی اور صوفی موسیقی کی روایات کے ساتھ منفرد انداز میں ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں۔
انہوں نے صوفی اوپیرا کے ذریعے اپنی ایک منفرد فنکارانہ شناخت قائم کی، جس میں طاقتور سوپرانو آواز کے ساتھ پاکستانی شاعری، صوفیانہ فکر اور مشرقی موسیقی کے رنگ نمایاں ہوتے ہیں۔
وہ پاکستان کے علاوہ مختلف بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہیں اور اپنی موسیقی کے ذریعے پاکستان کی ادبی و ثقافتی روایات کو عالمی سامعین تک پہنچانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے مختلف ثقافتی، سرکاری، سفارتی اور بین الاقوامی تقریبات میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایوان صدر سمیت متعدد اہم اور باوقار مقامات پر پرفارم کر چکی ہیں۔
فنونِ لطیفہ کے شعبے میں نیشو بیگم، افتخار ٹھاکر، طرخم ناز، راجا چنگیز سلطان اور محمد نعیم طاہر سمیت متعدد فنکار شامل ہیں۔
نشانِ امتیاز
اس سال ’نشان امتیاز‘ حاصل کرنے والی دیگر شخصیات میں شاعر و ادیب اسد محمد خان، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، احد خان چیمہ، بلال اظہر کیانی اور معروف مسلم مفکر محمد اسد (مرحوم) شامل ہیں۔
نشانِ پاکستان
غیر ملکی شخصیات کے لیے پاکستان کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ’نشان پاکستان‘ متحدہ عرب امارات کی فیملی ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کی سپریم چیئرپرسن شیخہ فاطمہ بنت مبارک کو دیا جائے گا۔
وہ متحدہ عرب امارات کے بانی صدر شیخ زايد بن سلطان آل نہيان کی اہلیہ، ’أم الإمارات‘ (مادرِ ملت/امارات) کہلائی جاتے ہیں اور امارات میں خواتین و بچوں کی فلاح و بہبود میں سرگرم ہیں۔
نشانِ قائداعظم
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے معالجین ڈاکٹر جال رتن جی پٹیل (مرحوم) اور ڈاکٹر جال ڈیبو (مرحوم) کو بعد از وفات اس اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ہلالِ پاکستان
پاکستان کے لیے خدمات کے اعتراف میں چھ غیر ملکی شخصیات کو ’ہلالِ پاکستان‘ دیا جائے گا، جن میں سعودی عرب کے شہزادہ سعود بن نائف بن عبدالعزیز السعود، یوسف بن عبداللہ البنیان، محمد التویجری، دیما الیحییٰ، روس کے نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک اور جاپان کے ہیروجی کاتاوکا شامل ہیں۔
ہلالِ قائداعظم
چترال میں تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دینے والی کیری سكوفیلڈ کو ’ہلالِ قائداعظم‘ سے نوازا جائے گا۔
ستارۂ پاکستان
ترکی کے وزرائے خارجہ حاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر، وزیر تجارت عمر بولات اور ہسپانوی سینیٹر ویسنٹے ازپیٹارٹے کو ’ستارۂ پاکستان‘ دیا جائے گا۔
ستارۂ قائداعظم
چین، فرانس، سپین اور ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی چھ شخصیات کو ’ستارۂ قائداعظم‘ دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں چین اکیڈمی آف سپیس ٹیکنالوجی کے یانگ باؤننگ اور پروفیسر ژو یوشو شامل ہیں۔
ہلالِ امتیاز
’ہلالِ امتیاز‘ پانے والوں میں ٹیکنالوجی، تعلیم، طب، میڈیا، ادب، بیوروکریسی اور بیرون ملک پاکستانی شخصیات شامل ہیں۔
ان میں انٹریکٹیو گروپ کے سی ای او ڈاکٹر شاہد محمود، نیوٹیک کے ریکٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) معظم اعجاز، معروف ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر فیصل سعود ڈار، ہم نیٹ ورک کی سلطانہ صدیقی، شعرا اعجاز رحیم اور خورشید الحسن رضوی شامل ہیں۔
اسی طرح آئی بی کے ڈائریکٹر جنرل فواد اسداللہ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور اسٹیبلشمنٹ سیکریٹری بیرسٹر نبیل اعوان کو بھی اس اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وزیراعظم کی جانب سے بھجوائی گئی متعدد سمریوں کی منظوری دے دی۔
صدرِ مملکت نے مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کے 1,172 اہلکاروں کو فوجی اعزازات دینے کی منظوری دے دی۔
صدرِ مملکت نے 17 اگست کو قومی اسمبلی کااجلاس شام ۵ بجے اور سینیٹ کا اجلاس شام ۴ بجے…
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) August 14, 2026
ستارۂ امتیاز
’ستارۂ امتیاز‘ سائنس، اعلیٰ تعلیم، طب، فنون، ادب، کھیل، صحافت اور سماجی خدمات کے شعبوں میں درجنوں شخصیات کو دیا جائے گا۔
ادب کے شعبے میں شکیل عادل زادہ، ہاشم ندیم، مقصود حسین جعفری اور محسن نقوی (مرحوم) جبکہ صحافت میں محمد صالح ظافر اور حاجی نواز رضا کو یہ اعزاز دیا جائے گا۔
تمغۂ امتیاز
اس سال ’تمغۂ امتیاز‘ سب سے بڑی کیٹیگری ہے، جس میں سائنس دانوں، ماہرین تعلیم، ڈاکٹروں، ادیبوں، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور فلاحی خدمات انجام دینے والی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔
صحافت کے شعبے میں محمد ریاض خان، شوائب احمد، عمار مسعود، ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار، عادل شاہ زیب (انڈپینڈنٹ اردو کے سابق تجزیہ کار)، حماد حسن اور تصور عارفات کو اعزازات دیے جائیں گے۔
صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی
46 شخصیات کو ’صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی‘ دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں اداکار محمود اسلم، غزالہ کیفی، ثانیہ سعید، ماریہ واسطی، گلوکارہ رافعہ بانو، غزل گائیک گلشن آرا، باکسر محمد وسیم، شوٹر کشمالہ طلعت، سکواش کھلاڑی نور زمان اور صحافی سید حماد غزنوی شامل ہیں۔
شجاعت کے اعزازات
رواں سال شجاعت کے اعزازات میں سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا نمایاں حصہ رہا۔ مجموعی طور پر 91 شجاعتی اعزازات کی منظوری دی گئی، جن میں 48 ستارۂ شجاعت، 24 تمغۂ شجاعت اور 19 تمغۂ امتیاز برائے شجاعت و عوامی خدمت شامل ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے فن کا بنیادی مقصد مشرقی موسیقی اور ثقافتی ورثے کو مغربی کلاسیکی اوپیرا کے ساتھ جوڑنا ہے۔ وہ پاکستانی شاعری اور صوفیانہ پیغام کو ایک جدید اور منفرد موسیقائی اسلوب کے ذریعے عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے مسلسل سرگرم عمل رہی ہیں۔
پاکستان کے سول اعزازات کا اعلان ہر سال یومِ آزادی کے موقع پر کیا جاتا ہے، جبکہ اعزازات کی باقاعدہ تقریبِ 23 مارچ کو منعقد ہوتی ہے۔
14 اگست کو نشانِ حیدر وغیرہ فوجی اعزازات ہیں جو الگ دیے جاتے ہیں۔ سول اعزازات میں سب سے بڑا اعزاز جو حکومت پاکستان عطا کرتی ہے وہ نشان ہے۔ اس کے بعد ہلال، پھر ستارہ اور آخر میں تمغے کا نمبر آتا ہے۔
ان میں سے ہر شعبے کے اندر ذیلی شعبے بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر نشان میں پہلے نمبر پر نشانِ پاکستان، اس کے بعد نشانِ شجاعت، پھر نشانِ امتیاز، پھر نشانِ قائداعظم اور آخر میں نشان خدمت۔
اسی طرح ہلال اور ستارہ کے اندر بھی یہی پانچ شعبے ہیں، البتہ تمغے کے اندر شعبوں کی تعداد چھ ہے اور اس میں تمغۂ حسنِ کارکردگی یا پرائیڈ آف پرفارمنس بھی شامل ہے۔
ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی سوشل میڈیا اور بعض سیاسی مبصرین کی جانب سے اس بات پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ حکومت کے کئی اہم وزرا اور اعلیٰ سرکاری عہدے داروں کو بھی بڑے اعزازات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جس سے اعزازات کے سیاسی ہونے کی بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔
ایوارڈ پانے والوں میں ڈی آئی جی محمد احسن یونس بھی شامل ہیں جن پر ماضی میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے وقت جب وہ ایس پی تھے غفلت کے الزامات لگے تھے اور تحقیقات ہوئیں تھیں۔ شہباز شریف صاحب تب وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔
