بیلجیئم: کھدائی کے دوران مزدوروں کو سونا مل گیا

بیلجیئم میں پولیس نے خزانے کے متلاشی افراد سے کہا ہے کہ وہ اس زیر تعمیر عمارت سے دور رہیں جہاں رواں ہفتے تعمیراتی کارکنوں کو مبینہ طور پر ایک کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کا سونا ملا ہے۔

یہ سونا منگل کو مشرقی فلیمش علاقے کے شہر ڈینڈرمونڈ میں ایک عمارت کی مرمت کے دوران اچانک دریافت ہوا۔

پولیس کے مطابق کارکنوں نے ’سونے کی بڑی مقدار‘ ملنے کے بعد انہیں اطلاع دی۔ پولیس نے اپنے فیس بک صفحے پر تقریباً 50 سونے کی سلاخوں اور سونے کے سکوں کے ڈھیروں کی تصاویر بھی جاری کیں۔

بیلجیئم کے ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ تقریباً 90 لاکھ یورو، یعنی ایک کروڑ چار لاکھ ڈالر، مالیت کی سونے کی سلاخیں اور سکے ایک مقامی فلاحی ادارے سی اے ڈبلیو ایسٹ فلینڈرز کی ملکیت مکان کی مرمت کے دوران تہہ خانے کی دیواروں میں چنے ہوئے ملے۔

بیلجیئم کے خبر رساں ادارے وی آر ٹی سے بات کرنے والے ایک کارکن نے بتایا کہ سونا دیکھ کر عملے کا ’پہلا ردعمل بے یقینی اور حیرت کا تھا۔‘

صرف کوبے کے نام سے شناخت کیے گئے شخص نے کہا کہ ’ہم سیوریج نظام کے لیے پائپ بچھانے کی غرض سے زمین کی کھدائی کر رہے تھے کہ اچانک ہمیں یہ سونا مل گیا۔ ہمیں یقینی طور پر وہاں سونا ملنے کی توقع نہیں تھی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پولیس نے کہا کہ سونے کی ’فہرست تیار کرکے اسے جلد از جلد وفاقی حکومت کے محکموں کی ایک انتہائی محفوظ تجوری میں رکھ دیا گیا۔‘

پولیس نے فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’بظاہر خزانے کے کئی متلاشی اس جگہ کا دوبارہ دورہ کرنا چاہتے ہیں۔’ سونے کی دریافت کے بعد محکمے نے اپنی پروفائل تصویر بھی بدل کر سونے کے سکے کی تصویر لگا دی۔

پولیس نے لوگوں کو باڑ سے بند تعمیراتی مقام سے دور رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سونے جیسا قیمتی مشورہ یہ ہے کہ وہاں جانے کا واقعی کوئی فائدہ نہیں۔‘

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ قانوناً اس خزانے کا مالک کسے سمجھا جائے گا اور آیا کسی کو یہ سونا اپنے پاس رکھنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔

پولیس کی پوسٹ میں کہا گیا کہ ’ہمیں امید ہے کہ یہ خزانہ صحیح ہاتھوں میں پہنچے گا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *