پولیس نے جمعے کو بتایا ہے کہ مستونگ میں وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو کے قافلے پر حملے میں چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ وزیر داخلہ حملے میں محفوظ رہے۔
مستونگ پولیس کے مطابق وزیر داخلہ کا قافلہ قلات سے کوئٹہ جا رہا تھا کہ ضلع مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں گرو کے مقام پر راستے میں گھات لگائے مسلح افراد نے قافلے کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کے تبادلے میں چھ پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق حملہ آور واقعے کے بعد فرار ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بلوچستان میں داخلہ امور کے معاون بابر یوسفزئی کے مطابق: ’20 منٹ تک مسلح افراد اور پولیس میں فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اور پولیس اہلکاروں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے کا بھرپور جواب دیا۔‘
مستونگ میں نواب غوث بخش رئیسانی ہسپتال کے ایمرجنسی انچارج ثنا ملک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چھ زخمی ہسپتال لائے گئے، جن میں سے تین کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔
وزیر داخلہ بلوچستان پر یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب حالیہ کچھ عرصے میں صوبے میں عسکریت پسندوں نے مختلف مقامات پر حملے کیے ہیں، جن میں عام شہریوں سمیت سکیورٹی اہلکاروں کی بھی اموات ہوئی ہیں۔ صوبے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
رواں ہفتے 12 اگست کو ہی ضلع سوراب میں گاڑی میں نصب دیسی ساختہ بم تیاری کے دوران پھٹنے اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 18 عسکریت پسند مارے گئے تھے جبکہ قریب موجود تین سویلین بھی ان دھماکوں کا شکار ہوئے۔
وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے واقعے کے بعد میڈیا کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ اس طرح کے بزدلانہ حملے سے ان کے ’حوصلے پست نہیں ہوں گے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’مجھے ان پٹاخوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا۔‘
