پاکستان کا پانی ریڈ لائن، انڈیا راہ راست پر نہ آیا تو جواب دیں گے: شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقعے پر انڈیا کو خبردار کیا ہے کہ ’پاکستان کے پانی کا ایک، ایک گھونٹ ہماری ریڈ لائن ہے اور اگر انڈیا راہ راست پر نہ آیا تو اسے براہ راست جواب دیا جائے گا۔‘

انہوں نے یہ گفتگو صدر آصف زرداری کے ہمراہ گذشتہ سال انڈیا کے خلاف مئی میں مختصر جنگ میں پاکستان کی کامیابی کی یاد میں اسلام آباد میں قائم ’یادگار فتح‘ کے افتتاح کے موقعے پر کی۔

افتتاح کے موقعے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیردفاع خواجہ آصف سمیت اعلیٰ سول اور عسکری قیادت شامل تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’یادگار فتح ہماری عظیم قوم کے عزم و ہمت، مسلح افواج کے زور بازو، ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور دشمن کے مقابلے میں ان کی برتری کی علامت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس یادگار کا افتتاح کرتے ہوئے ’ہمارے دلوں میں جذبات کا طوفان امڈ رہا ہے اور آرزوؤں کا سمندر موجیں مار رہا ہے۔‘

انہوں نے انڈیا کے خلاف گذشتہ سال ’معرکہ حق‘ میں کامیابی پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے یادگار کے حوالے سے گفتگو میں کہا کہ صرف آٹھ ماہ میں اس کی تعمیر فیلڈ مارشل کی گہری دلچسپی کے بغیر ممکن نہیں تھی،
انہوں نے منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو مبارک باد بھی پیش کی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم جنگ نہیں، امن چاہتے ہیں لیکن امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

’ہمارا پیغام واضح ہے کہ وہ (انڈیا) اپنی عبرتناک شکست کو یاد رکھے اور اگر آئندہ کسی نے بھول چوک سے بھی پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو چیلنج کیا تو اسے مئی 2025 سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔‘

انہوں نے مزیدکہا کہ گذشتہ جنگ میں شکست کے بعد انڈیا نے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کر کے خود کو امن کا دشمن ثابت کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’میں واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک گھونٹ ہماری ریڈ لائن ہے۔ انڈیا راہ راست پر نہ آیا تو اسے براہ راست جواب دیا جائے گا۔‘

انہوں نے گذشتہ ہفتے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین مکہ میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کو امن کی بشارت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ عالمِ اسلام کے لیے امن کی نوید ہے اور ساری دنیا کے لیے امن کا پیغام ہے۔‘

انہوں نے اپنی گفتگو میں مسئلہ فلسطین اور کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کو بھی دہرایا اور کہا’ ہم مظلوم فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل اور پائیدار امن کے لیے اپنی اصولی حمایت جاری رکھیں گے۔‘

’ہم کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھیں گے، ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور بھارتی جبر کے پنجے سے آزادی کے لیے ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے، جب تک کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو ان کا بنیادی حق نہیں مل جاتا۔‘

انہوں نے افغانستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے فی الفور روکے ’ہم افغانستان میں بھی امن اور استحکام چاہتے ہیں لیکن افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ناقابل برداشت ہے۔

’ہم ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں اور ہمیشہ اسی طرح ہمیں رہنا ہے۔‘

میرا افغان قیادت کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے سے فی الفور روکیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مسلسل فروغ پا رہے ہیں اور ’ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں یہ مزید مضبوط اور توانا ہوں گے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *