محسن نقوی نے ایرانی قیادت کو مکہ معاہدے پر اعتماد میں لیا: وزارت داخلہ

پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے حالیہ دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ مکہ معاہدے کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی منگل کو تہران پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایران کے  صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ ان کا یہ دورہ امریکہ اور ایران میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ہوا، جس میں پاکستان بطور ثالث کردار ادا کر رہا ہے۔

بدھ کو پاکستانی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے خطے کی موجودہ صورت حال سے متعلق ایک خصوصی اور اہم پیغام ایرانی قیادت تک پہنچایا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مزید کہا گیا کہ انہوں نے ’پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ معاہدے کے بارے میں بھی ایرانی قیادت کو آگاہ کیا اور انہیں اعتماد میں لیا۔‘

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوغان نے جمعے (سات اگست) کو مکہ میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس معاہدے کے تحت تینوں میں سے کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس معاہدے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس کا ’مقصد جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔‘

ایران نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کو ’خطے کے ممالک کے امریکہ کے بارے میں نقطہ نظر میں تبدیلی کی علامت‘ قرار دیا تھا۔

ایرانی وزارت کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 10 اگست کو ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’خطے کے ممالک یہ سمجھ چکے ہیں کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جو جھوٹے بروکرز سے خریدی جا سکے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’خطے کے ممالک اب ماضی کی طرح امریکہ کی فراہم کردہ سکیورٹی کے دعووں پر انحصار نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو اس بات پر تشویش نہیں کہ یہ معاہدہ تہران کے خلاف ہو سکتا ہے کیوں کہ ان کے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے ساتھ گہرے مذہبی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا: ’اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ اس معاہدے کو ایران کے خلاف سمجھا جائے۔‘

پاکستان بھی اس سے قبل یہ واضح کر چکا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *