امریکہ میں کرکٹ میں دلچسپی بڑھ رہی ہے: سابق کرکٹر جلال الدین

ستمبر 1982 کا ایک گرم دن تھا۔ پاکستان کے شہر حیدر آباد کا نیاز سٹیڈیم غیرمعمولی جوش و خروش سے بھرا ہوا تھا، جہاں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز کا پہلا مقابلہ منعقد ہو رہا تھا۔

پاکستانی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 40 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 229 رنز بنائے تھے۔ ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کے اوپنرز برائن لیرڈ اور گراہم ووڈ نے اپنی ٹیم کو شان دار آغاز فراہم کیا اور دونوں نے سو سے زیادہ رنز کی شراکت قائم کر ڈالی۔

تاہم جلد ہی میچ کا رخ بدلنے لگا۔ 23 سالہ جلال الدین نے گراہم ووڈ کو آؤٹ کروانے میں کردار ادا کیا، جنہیں توصیف احمد کی گیند پر کیچ کیا گیا۔ اس کے بعد آسٹریلوی بیٹنگ لائن بتدریج دباؤ میں آنا شروع ہو گئی اور جلال الدین کی باؤلنگ نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی پہلی وکٹ آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز ایلن بارڈر کی تھی۔

صرف چھ ماہ قبل بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے والے نوجوان فاسٹ باؤلر کے لیے ایلن بارڈر جیسے معتبر اور خطرناک بلے باز کی وکٹ حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی تھی۔ (اس دور میں کھلاڑیوں کے لیے عموماً ‘بیٹس مین’ کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی، جبکہ آج صنفی غیرجانبدار لفظ ‘بیٹر’ رائج ہے۔)

تاریخی ہیٹ ٹرک

لیکن جلال الدین کے لیے قسمت نے اس دن ایک اور تاریخی لمحہ سنبھال رکھا تھا۔

انہوں نے اگلی وکٹ آسٹریلوی وکٹ کیپر روڈنی مارش کی حاصل کی، جنہیں کلین بولڈ کر دیا۔ پھر اگلی ہی گیند پر بروس یارڈلی کو وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔

اس دوسری وکٹ کے ساتھ ہی جلال الدین ہیٹ ٹرک کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک اس وقت کہلاتی ہے جب کوئی باؤلر مسلسل تین گیندوں پر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کرے۔

پھر جلال الدین کی اگلی گیند جیوف لاسن کے بلے کو چیرتی ہوئی وکٹوں سے جا ٹکرائی اور سٹمپس بکھر گئے۔

اس لمحے جلال الدین خوشی سے فضا میں اچھل پڑے۔ تاہم انہیں اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ وہ ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ہیٹ ٹرک مکمل کر چکے ہیں۔

تقریباً ساڑھے چار دہائیوں بعد جب جلال الدین اس یادگار کارکردگی کو یاد کرتے ہیں تو ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ شکاگو میں مقیم صحافی میانک چھایا نے ان سے امریکہ میں کرکٹ کے مستقبل پر گفتگو کی۔

کراچی سے ویڈیو کال پر ساپن نیوز کے میانک چھایا سے گفتگو کرتے ہوئے، جہاں وہ ان دنوں مقامی نوجوان کرکٹرز کو تربیت دے رہے ہیں، انہوں نے کہا: ’جب آپ پہلی وکٹ لیتے ہیں تو آپ یہ نہیں سوچتے کہ آپ ہیٹ ٹرک بھی کرنے والے ہیں۔`

وہ یاد کرتے ہیں کہ جب دوسری گیند پر بروس یارڈلی وکٹ کیپر وسیم باری کے ہاتھوں کیچ ہوئے تو ان کے ذہن میں ہیٹ ٹرک کا خیال ابھرنا شروع ہوا۔ ’دوسری وکٹ کے بعد جوش اور توقعات بڑھنے لگیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’عام طور پر میں آؤٹ سوئنگ کراتا تھا، مگر اگلی گیند تیزی سے اندر آئی اور نیچی رہی، جس نے لاسن کے بلے کو شکست دی۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جلال الدین کے مطابق جب کوئی باؤلر ہیٹ ٹرک کے قریب ہوتا ہے تو عموماً کپتان جارحانہ فیلڈ سیٹ کرتا ہے تاکہ وکٹ کے امکانات بڑھ جائیں۔ تاہم اس وقت کے پاکستانی کپتان ظہیر عباس نے ایسا نہیں کیا اور فیلڈ تقریباً معمول کے مطابق رکھی۔

وہ ہنستے ہوئے یاد کرتے ہیں: ’مجھے لگا تھا کہ چونکہ میں ہیٹ ٹرک پر ہوں اس لیے کچھ زیادہ کوشش کی جانی چاہیے تھی، لیکن آخرکار میری محنت اور قسمت دونوں نے ساتھ دیا۔‘

’اس وقت کسی کو خاص اندازہ نہیں تھا کہ یہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کی پہلی ہیٹ ٹرک ہے۔ بعد میں سب کو اس کی اہمیت کا احساس ہوا۔‘

کوچنگ کے ذریعے نئی نسل کی رہنمائی

بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اور خاص طور پر گذشتہ دو دہائیوں کے دوران، جلال الدین نے اپنی توجہ کوچنگ کی جانب مرکوز کر دی۔

وہ لیول فور کوالیفائیڈ کرکٹ کوچ ہیں اور امریکہ اور پاکستان دونوں میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو تربیت دیتے ہیں۔

انہوں نے ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں سمارٹ چوائس نیشنل کرکٹ اکیڈمی (SCNCA) قائم کر رکھی ہے، جہاں کرکٹرز کی تربیت کی جاتی ہے۔ وہ باقاعدگی سے پاکستان بھی آتے رہتے ہیں تاکہ یہاں نوجوان ٹیلنٹ کو اپنا تجربہ منتقل کر سکیں۔

صرف کھلاڑی ہی نہیں بلکہ وہ کوچز کی تربیت بھی کرتے ہیں۔

فری لانس کوچنگ کے سلسلے میں وہ سی ایٹل، مشی گن، ڈلاس اور امریکہ کے کئی دیگر شہروں کا سفر کر چکے ہیں۔

2020 کے بعد ان کی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوا جب انہیں امریکہ کے چھ کرکٹ زونز میں سے ایک، جنوب مغربی زون کا سلیکٹر مقرر کیا گیا۔

امریکہ میں کرکٹ؟

جلال الدین کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں انہوں نے امریکہ میں نہ صرف کرکٹ میں دلچسپی بڑھتی دیکھی ہے بلکہ نوجوان اب اسے ممکنہ پیشے کے طور پر بھی دیکھنے لگے ہیں۔

وہ مجموعی طور پر امریکہ میں کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں، تاہم ان کے خیال میں کئی بنیادی رکاوٹیں بھی موجود ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔

دوسری بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی قلت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے تحت کام کرنے والے ادارے یو ایس کرکٹ کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ملک بھر میں کرکٹ کا مضبوط اور منظم ڈھانچہ قائم کیا جا سکے۔

اسی وجہ سے گراس روٹ سطح پر کرکٹ منظم انداز میں نہیں چل رہی اور ملک میں باقاعدہ گھریلو کرکٹ کا ایسا نظام بھی موجود نہیں جو مسلسل کھلاڑی پیدا کر سکے۔

انہوں نے بتایا: ’امریکی ٹیم 20 سے 25 کھلاڑیوں کو بلا کر تربیتی کیمپ لگاتی ہے اور پھر ان ہی میں سے ٹیم منتخب کر لیتی ہے۔‘

جلال الدین کے مطابق امریکہ میں کھلاڑیوں کا انتخاب گھریلو کارکردگی کی بنیاد پر نہیں ہوتا جبکہ پاکستان، انڈیا، آسٹریلیا اور دیگر بڑے کرکٹ ممالک میں پورا سال ڈومیسٹک کرکٹ کھیلی جاتی ہے اور اسی بنیاد پر قومی ٹیموں کے لیے کھلاڑی سامنے آتے ہیں۔

تارکین وطن پر انحصار

امریکہ میں کرکٹ کی ترقی میں ایک اور رکاوٹ یہ ہے کہ زیادہ تر کرکٹ انڈیا، پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کھیلتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج پاکستان اور انڈیا کے درمیان دوطرفہ کرکٹ تعلقات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن امریکہ میں ان ہی ممالک کے لوگ کرکٹ کی سرگرمیوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

جلال الدین کے مطابق سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مرکزی دھارے سے تعلق رکھنے والے امریکی شہری ابھی بڑی تعداد میں اس کھیل کا حصہ نہیں بنے۔

وہ کہتے ہیں: ’ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سکولوں میں کرکٹ نہیں کھیلی جاتی۔‘”

ان کے خیال میں جب تک کرکٹ امریکی سکولوں کے کھیلوں کا حصہ نہیں بنتی اور جنوبی ایشیائی پس منظر سے باہر کے بچے بھی اسے اپنانا شروع نہیں کرتے، تب تک اس کا قومی سطح پر مقبول ہونا مشکل رہے گا۔

وہ مزید بتاتے ہیں: ’جب سکولوں میں کرکٹ ہوگی اور ایک مناسب ڈومیسٹک سیزن بھی موجود ہوگا تو پھر ترقی خود بخود نظر آئے گی۔‘

لاس اینجلس اولمپکس سے امیدیں

جلال الدین کو خاص طور پر 2028 کے لاس اینجلس اولمپکس سے بہت امیدیں وابستہ ہیں، جہاں کرکٹ کو شامل کیا جا چکا ہے۔

ان کے مطابق: ’میری معلومات کے مطابق امریکی حکومت بنیادی طور پر ان ہی کھیلوں پر سرمایہ کاری کرتی ہے جو اولمپکس کا حصہ ہوں۔ اگر لاس اینجلس اولمپکس کے بعد حکومت کرکٹ کے انفراسٹرکچر پر خرچ کرتی ہے تو اس کے مثبت اثرات ضرور سامنے آئیں گے۔‘

امریکہ میں کون سی کرکٹ کامیاب ہوگی؟

جلال الدین کے خیال میں امریکہ میں ابتدا کے لیے ٹی20 فارمیٹ سب سے موزوں ہے کیونکہ اس کا دورانیہ فٹ بال اور باسکٹ بال جیسے مقبول امریکی کھیلوں کے قریب ہے۔

اس کے برعکس پانچ روزہ ٹیسٹ کرکٹ، جو کرکٹ کھیلنے والے بڑے ممالک میں کھیل کی اصل روح سمجھی جاتی ہے، امریکہ میں فی الحال زیادہ پذیرائی حاصل نہیں کر سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو 2030 تک ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ دلوانے کی کوششیں جاری ہیں۔

’جب آپ ٹیسٹ کھیلنے والا ملک بن جاتے ہیں تو آپ کو زیادہ فنڈنگ ملتی ہے۔ اس وقت آئی سی سی جو رقم یو ایس کرکٹ کو دیتا ہے وہ بنیادی طور پر کھیل کے فروغ کے لیے ہوتی ہے، لیکن امریکہ جیسے بڑے ملک کے لیے وہ کافی نہیں۔ موجودہ فنڈز کا بڑا حصہ اس نظام میں کام کرنے والے غیرملکی ماہرین کی تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔‘

جلال الدین کے نزدیک اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کرکٹ کو ایسا نمایاں مقام دیا جائے کہ امریکی نوجوان اسے دیکھیں، اس سے متاثر ہوں اور خود اس کا حصہ بننا چاہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ اگر انفراسٹرکچر، سکولوں میں کھیل، مقامی مقابلے اور سرکاری معاونت جیسے عوامل یکجا ہو جائیں تو کرکٹ کے فروغ کے لیے امریکہ سے بہتر جگہ شاید ہی کوئی اور ہو۔

امریکہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس نے نہ صرف کھیلوں کو غیرمعمولی مقبولیت دلائی بلکہ انہیں ایک بڑی تجارتی صنعت اور وسیع ناظرین کی دلچسپی کا مرکز بھی بنایا۔

میانک چھایا شکاگو میں مقیم صحافی اور مصنف ہیں۔ وہ مصوری سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ ساپن نیوز کی سنڈیکیٹڈ فیچر رپورٹ ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *