جب سے پانچ اگست کو انڈین پارلیمان کے آئینی ہال میں انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے رُکن پارلیمان اور حکمران جماعت نیشنل کانفرنس کے باغی رہنما آغا روح اللہ مہدی نے اندرونی خودمختاری کی بحالی سے متعلق کانفرنس بلائی، اس روز سے سوشل میڈیا اور بیشتر عوامی حلقوں میں اس پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
اس کے نتیجے میں روح اللہ پر جہاں اپنی جماعت کی جانب سے پارٹی چھوڑنے پر دباؤ بڑھ رہا ہے وہیں بعض لوگوں نے ان پر تنقید کی بوچھاڑ شروع کر دی ہے۔
اس کانفرنس کے ایجنڈا پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا اتحاد کے ایسے رہنماوں کی شرکت باعث تنقید بنی ہوئی ہے جنہوں نے اندرونی خودمختاری کو ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف نہ کبھی آواز اٹھائی اور نہ کبھی کشمیریوں سے ہمدردی کے دو الفاظ بولے۔
پھر کانفرنس میں انڈیا کی سول سوسائٹی کے بعض سرکردہ اشخاص کی شمولیت اور سراغ رساں ادارے کے سابق سربراہ اے ایس دولت کے ایک متنازعہ بیان سے کانفرنس کی اہمیت کو ماند کرنے کی کوشش کی گئی گوک ہ سابق انٹرلوکیوٹر رادھا کمار اور کشمیری نوجوانوں کی ایک اچھی تعداد نے حصہ لے کر کشمیریوں کے حقوق پر شب خون مارنے کے خلاف مرکزی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
اس کانفرنس کے تناظر اور اس پر شدید تنقید کے پس منظر میں، میں نے آغا روح اللہ سے پوچھا کہ اگر آپ نے کشمیر میں یہ کانفرنس آرٹیکل 370 کی بحالی پر منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا تو دہلی کے ہال میں آویزاں بورڈ ’لیٹ اس ٹاک کشمیر‘ رکھنے کا کیا مطلب تھا، آرٹیکل 370 کا بورڈ نظر کیوں نہیں آیا؟
روح اللہ نے لمبی آہ بھرنے کے بعد کہا کہ ’کانفرنس کے کئی سیشن رکھے گئے تھے، دو سیشن خصوصی طور پر آرٹیکل 370 پر مرکوز تھے۔ میرا پہلا مقصد تھا کہ جس طرح ہمیں پارلیمان میں بے اختیار کیا گیا اور پھر یہ شوشہ پھیلایا گیا کہ اس آرٹیکل پر بات کرنا ملک دشمنی ہے میں نے اپنے نوجوانوں کو دہلی میں لاکر اس خوف کو ختم کرنے کی سعی کی، ہم نے پہلی بار کشمیر کی بات دہلی میں کی جبکہ اس سے پہلے دہلی والے اپنی بات ہم پر مسلط کرتے تھے۔ تمام سپیکرز نے جموں و کشمیر کے عوام کے سیاسی حقوق سلب کرنے پر ہمارے ساتھ یک جہتی دکھائی۔ جو لوگ کانفرنس کی کامیابی سے خوفزدہ ہیں وہ اس کی افادیت کو ختم کرنے کے درپے ہیں، کانفرنس صرف اور صرف اندرونی خودمختاری کی بحالی پر بلائی گئی تھی جس میں کشمیریوں کو درپیش بیشتر مسائل بھی زیر بحث آگئے۔‘
آغا روح اللہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کانگریس سمیت ایسے رہنماوں کو بولنے کی دعوت دی تھی جو جموں و کشمیر کا صرف ریاستی درجہ بحال کرنے کی حمایت کرتے ہیں اندرونی خودمختاری ختم کرنے کے فیصلے کو حتمی مانتے ہیں اور کبھی کبھی سٹیٹ ہوڈ پلس کا عندیہ دیتے ہیں۔
کانگریس کے سربراہ راہل گاندھی کانفرنس میں نہیں آئے لیکن بقول روح اللہ انہوں نے کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا کو بھیجا جنہوں نے اپنی تقریر ریاستی درجے کی بحالی تک ہی محدود رکھا۔
میں نے روح اللہ سے پوچھا کہ سن ترپین سے تو کانگریس نے ہی اندرونی خودمختاری کو مرحلہ وار طریقے سے ختم کر دیا جبکہ بی جے پی نے سات سال پہلے اس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا جشن منایا تو کانگریس اور بی جے پی کو بلانے کا مقصد کیا تھا جو پانچ اگست 2019 کے فیصلے کو حتمی مانتی ہیں؟
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’میں اعتراف کرتا ہوں کہ کانگریس نے اس آرٹیکل کو کھوکھلہ بنا دیا ہے تاہم اس نے کشمیر کی اسمبلی سے اس کی توثیق کرا دی تھی مگر بی جے پی نے تو یک طرفہ طور پر اس کو ختم کر دیا۔ پون کھیڑا نے کانگریس کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کی تلافی کا وعدہ کیا اور سٹیٹ ہوڈ پلس کا یقین دلایا جس کے تحت شہریت، ملازمت اور اراضی کے حقوق مقامی لوگوں کے لیے مخصوص رکھے جائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ ان ہی جماعتوں سے ڈائیلاگ کرکے ہم اپنے حقوق واپس حاصل کرسکیں گے،‘ روح اللہ نے بڑے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔
حکمراں جماعت نیشنل کانفرنس نے پانچ اگست کو جنتر منتر پر صرف ریاستی درجہ بحال کرنے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا جو پروگرام بنایا تھا اسے اجازت نہیں ملی جبکہ اس بات پر بعض لوگوں نے شک کا اظہار کیا کہ روح اللہ کو آرٹیکل 370 پر کانفرنس بلانے کی اجازت کیسے دی گئی جس کو بی جے پی نے شجر ممنوعہ بنایا ہے۔
روح اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہال کے لیے اجازت حاصل کی تھی اور کانفرنس کے دوران انہیں کئی فون موصول ہوئے اور بعض مرتبہ ہراساں کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اصل میں میری ہی پارٹی نے اتنا خوف پھیلایا ہے کہ کوئی بھی آرٹیکل 370 پر بات کرنے سے گھبراتا تھا اور اس بُت کو ہم نے پہلی بار توڑ دیا اور وہ بھی دہلی میں۔
’میں نے اپنے عوام سے دوران الیکشن وعدہ کیا ہے کہ میں انڈیا اور پارلیمان میں جا کر آرٹیکل 370 اور 35اے کی بحالی کے لیے لڑوں گا جو شاید میری پارٹی کو پسند نہیں ہے، اب پارٹی مجھے نکالے یا کوئی بھی فیصلہ کر دے میں اپنے موقف سے نہیں ہٹوں گا کیونکہ مجھے اور میری پارٹی نیشنل کانفرنس کو عوام کا منڈیٹ صرف اندرونی خود مختاری کی بحالی کے لیے ملا ہے۔ دوسری سیاسی جماعتوں نے بھی ہر بار سمجھوتہ کیا ہے۔ اب اگر میں آواز اٹھاتا ہوں تو میری پارٹی کو پریشانی کیوں ہوتی ہے، کیا وہ ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے سے بی جے پی کے فیصلے کو قبول کروانے کی دوڑ میں ہے؟’
کانفرنس کے چند روز بعد نیشنل کانفرنس کے سینیئر رہنما اور رُکن پارلیمان چوہدری محمد رمضان نے آغا روح اللہ سے مستفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ روح اللہ کے حامی نوجوان پوچھ رہے ہیں کہ کیا روح اللہ کو اندرونی خودمختاری کی بحالی کا مطالبہ کرنے کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟
جموں و کشمیر کے بیشتر عوامی حلقے گوکہ روح اللہ کا ساتھ دے رہے ہیں پھر بھی سات دہائیوں کی سیاسی دھوکہ دہی اور کشمیر مخالف پالسیوں کی لمبی تاریخ کے ہوتے ہوئے روح اللہ پر یقین کرنا ابھی مشکل لگتا ہے۔
نعیمہ احمد مہجور انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی سینیئر صحافی ہیں۔
یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

