یمن میں منگل کو حوثیوں کے میزائل حملے میں بحیرہ احمر میں ایک تجارتی مال بردار جہاز پر سوار تین پاکستانیوں سمیت چار ملاح جان سے گئے اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ جہاز میں آگ لگنے سے اسے شدید نقصان پہنچا۔
یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’صبا‘ کے مطابق وزارت ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہاز ’طہامہ‘ پر چار میزائل داغے۔
وزارت کے مطابق حملے میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی ملاح جان سے گئے جبکہ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی اور اسے شدید نقصان پہنچا۔
وزارت نے کہا کہ جب یمنی امدادی کارکن عملے کو بچانے کے لیے جہاز تک پہنچے تو حوثیوں نے ایک اور میزائل داغا، جسے وزارت نے امدادی کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔
عرب نیوز کے مطابق یمنی وزارت ٹرانسپورٹ نے تجارتی جہازوں کو دانستہ نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں سے حکومت کے زیر انتظام بندرگاہوں تک خوراک، اشیائے ضروریہ اور دیگر سامان کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی یمن کے ساحلی شہر المخا کے قریب ایک مال بردار جہاز کو نامعلوم ذریعے سے نشانہ بنائے جانے اور اس میں جانی نقصان کی اطلاع دی ہے۔ منگل کی شام تک حوثیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔
المخا میں مسلسل تیسرے روز حملے
یہ حملہ یمن کے مغربی ساحلی شہر المخا میں حوثیوں کی جانب سے مسلسل تیسرے روز کیے جانے والے حملوں کے دوران ہوا۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق منگل کی صبح شہر کے مختلف علاقوں میں متعدد میزائل گرے جبکہ فضائی دفاعی نظام نے ڈرونز کو روکنے کی کوشش کی۔
اتوار کو حوثیوں کے المخا پر پہلے حملے میں سات افراد کی موت ہوئی اور 30 زخمی ہوئے تھے۔ حملوں میں شہر کی بندرگاہ، بجلی گھر اور فوجی تنصیبات سمیت مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
حوثیوں نے پیر کو بھی شہر پر ڈرون حملے کیے، جس کے بعد دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دریں اثنا جنوبی شہر تعز کے مضافات میں بھی منگل کو یمنی حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان لڑائی ہوئی۔ یمنی فوج کے ایک افسر عبدالباسط الباہر کے مطابق حکومتی فورسز نے حوثیوں کی پیش قدمی کی کوشش ناکام بنا دی، جس میں متعدد حوثیوں کی موت ہوئی اور دو کو گرفتار کر لیا گیا۔
یمنی حکومت نے حوثیوں کے تازہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے تحفظ اور مزید حملوں کا ’فیصلہ کن‘ جواب دینے کے لیے اقدامات کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یمن میں حالیہ کشیدگی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری وسیع تر تنازعے کے دوران بڑھی ہے، جس سے حوثیوں کے کردار اور ایران کے ساتھ ان کے تعلقات پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
عدن الغد اخبار کے مدیر فتحی بن لزرق نے حوثیوں کے حالیہ حملوں کو ایران کے اثر و رسوخ سے جوڑتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال مستقل امن معاہدے کے امکانات کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کا امکان موجود ہے تاہم کشیدگی میں کمی کا امکان بھی ہے اور موجودہ صورتحال کے آئندہ رخ کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے۔
