امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے سبب اور کسی معاہدے پر نہ پہنچنے کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے۔ منگل کو تیل کی قیمتیں ایک ہفتے سے زائد مدت کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدے کی امیدیں مدھم پڑ گئیں۔ اس کی ایک وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ مطالبہ بھی ہے کہ ایران امریکہ کو ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’ایرانی حکام گذشتہ پانچ ماہ کے دوران ہونے والے فوجی تنازع میں ایران کو پہنچنے والے نقصانات کے معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں، حالانکہ مذاکرات یا ملاقاتوں کے دوران اس معاملے کو کبھی زیرِِ بحث نہیں لایا گیا۔‘
برینٹ کروڈ فیوچرز منگل کو تقریباً بغیر تبدیلی کے 87.81 ڈالر فی بیرل پر تھے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز 82.20 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہے۔
دونوں بینچ مارک پیر کو 5 فیصد سے زیادہ بڑھے تھے اور 31 جولائی کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ نے امن معاہدے کے لیے ایران کی شرائط کے جواب میں مطالبہ کیا کہ ایران جنگوں، حملوں اور احتجاجی واقعات میں مرنے والے افراد کے حوالے سے امریکہ کو معاوضہ ادا کرے۔
اس مطالبے سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔
بعد ازاں اسی روز ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل ہے اور اس نے اس اہم آبی گزرگاہ کو ایرانی بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر نمایاں اختلاف موجود ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی شکل دراصل کیا ہوگی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا: ’نتیجتاً گذشتہ ہفتے پیدا ہونے والی بعض امیدیں ختم ہو رہی ہیں، جس سے تیل کی قیمتوں کو واضح طور پر سہارا ملا ہے۔‘
دوسری جانب سعودی آرامکو نے حوثیوں کی جانب سے اتوار کو پلانٹ پر دو حملوں کے دعوے کے بعد اپنے یومیہ چار لاکھ بیرل گنجائش والے جازان ریفائنری منصوبے کی بحالی 30 اگست تک مؤخر کر دی ہے۔
روئٹرز کے مطابق: ’آبنائے ہرمز اور باب المندب، دونوں مقامات پر رکاوٹوں کا خطرہ بدستور بہت زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ عارضی پابندیاں یا مزید واقعات کے خدشات بھی انشورنس لاگت بڑھا دیتے ہیں اور بحری جہازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اسی لیے قلیل مدت میں توانائی کی ترسیل محدود رہنے کا امکان ہے۔‘
بارکلیز کے تجزیہ کاروں نے پیر کو جاری کردہ ایک نوٹ میں کہا کہ 7 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی خالص برآمدات اوسطاً 30 لاکھ بیرل یومیہ رہیں، جو اس سے ایک ہفتہ قبل 44 لاکھ بیرل یومیہ تھیں۔
ادھر عراق نے ایشیائی خریداروں کے لیے ستمبر میں بصرہ میڈیم خام تیل کی سرکاری فروختی قیمت (OSP) میں 2.50 ڈالر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمت عمان/دبئی اوسط نرخوں کے مقابلے میں منفی 4 ڈالر فی بیرل مقرر کی گئی ہے۔
