کولمبیا میں زلزلے سے 100 سے زائد اموات، پاکستان کا اظہار افسوس

کولمبیا میں پیر کو آنے والے 7.4 شدت کے زلزلے کے بعد رضاکار اور امدادی کارکن ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جس میں کم از کم 111 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

زلزلے کے بعد کولمبیا کے صدر ابیلاردو دے لا ایسپرییا نے ہنگامی حالت نافذ کر دی جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک نے اموات اور نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: ’ہماری دعائیں اور نیک خواہشات زخمیوں اور اس سانحے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔ پاکستان اس مشکل گھڑی میں کولمبیا کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘

اے ایف پی کے مطابق زلزلہ صبح 7 بج کر 30 منٹ کے کچھ ہی دیر بعد کولمبیا میں کافی کی پیداوار کے لیے مشہور علاقے اور بحرالکاہل کے ساحلی خطے کے کئی شہروں میں آیا، جس کے باعث خوف زدہ شہری سڑکوں پر نکل آئے اور کم از کم 1,500 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

زلزلے کے جھٹکے دارالحکومت بوگوٹا سمیت پورے کولمبیا میں محسوس کیے گئے، جہاں لوگوں کے ہجوم نے گھبرا کر سڑکوں کا رخ کیا۔

زلزلہ 110 کلومیٹر  کی گہرائی میں آیا اور پڑوسی ممالک ایکواڈور اور پاناما میں بھی محسوس کیا گیا۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے ماہرین نے کہا کہ امکان ہے کہ یہ زلزلہ نازکا ٹیکٹونک پلیٹ کے اندر موجود ایک گہری فالٹ لائن میں حرکت کے باعث آیا۔

کالی کے علاقے میں رضاکاروں نے زندہ بچ جانے والوں کو تلاش کرنے کے لیے فوری طور پر  کارروائیاں شروع کیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امدادی کاموں میں شریک آندریس فیلپے میخیا نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم سب کو زندہ باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک امدادی کارکن نے ملبے تلے پھنسے لوگوں سے سیٹی بجانے کو کہا اور کسی نے جواب میں سیٹی بجائی۔‘

امدادی کارکنوں نے اینٹیں اور تعمیراتی ملبہ ہٹانے کے لیے انسانی زنجیریں بنائیں اور ہر چند منٹ بعد رک کر ملبے تلے پھنسے لوگوں میں زندگی کی علامات سننے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا: ’بہت سے لوگ یہاں آئے ہیں، سامان اور کھانا لے کر، فائر فائٹرز کی مدد کرنے اور لوگوں کی مدد کرنے کے لیے۔‘

کئی شہروں میں تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں فرنیچر اور کپڑے کنکریٹ، دیواروں اور فرشوں کے درمیان دبے ہوئے تھے جبکہ دیواریں اور فرش بے ترتیب زاویوں پر گر چکے تھے اور بجلی کی تاریں سڑکوں پر بکھری ہوئی تھیں۔

یہ تباہی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پڑوسی ملک وینزویلا میں طاقتور جڑواں زلزلوں کو دو ماہ سے بھی کم عرصہ گزرا ہے، جن میں 6,300 سے زائد افراد اموات اور دسیوں ہزار افراد بے گھر ہوئے تھے۔

مقامی حکام کے مطابق پیر کو کولمبیا کے پانچ شہروں کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی، جبکہ کالی میں رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

شہری ہوابازی کے ادارے نے بتایا کہ کم از کم چھ مقامی ایئرپورٹس پر پروازوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی۔

کولمبیا کی معروف پاپ گلوکارہ شکیرا نے عوام سے متحد ہونے کی اپیل کی۔

انہوں نے کہا: ’میری تمام طاقت اور محبت میرے وطن کے لیے ہے۔ آئیے ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔‘

حکام نے خبردار کیا کہ اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ امدادی کارکن کئی شہروں میں منہدم عمارتوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

منی زالیس میں اے ایف پی کے ایک صحافی نے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچتے دیکھا، جن میں شہر کے مشہور نو گوتھک طرز کے چرچ کا منہدم ٹاور بھی شامل تھا۔

’بہت خوفناک‘

ایک دندان ساز خولیان پینا کوئبدو میں اپنے گھر پر تھے جب انہوں نے ’بہت شدید‘ جھٹکے محسوس کیے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’لوگ سڑک پر دعائیں کر رہے تھے۔ یہ بہت خوفناک تھا۔ میں خالی ہاتھ باہر بھاگا اور وہاں سینکڑوں لوگ موجود تھے۔‘

انہوں نے کہا: ’بہت سی عمارتوں میں خلا اور دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ کچھ عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہیں۔‘

زلزلے کے باعث تمام آئندہ پیشہ ورانہ فٹ بال میچز ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

یکجہتی اور حمایت کے پیغام

کولمبیا کو خطے اور دنیا بھر کے مختلف ممالک کی جانب سے اظہارِ یکجہتی اور حمایت کے پیغامات موصول ہوئے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ صورت حال پر ’قریبی نظر رکھے ہوئے ہے‘ اور ’کولمبیا کے عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔‘

بعد ازاں امریکہ نے ہنگامی امداد کے لیے ایک کروڑ 55 لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا۔

یورپی یونین کی سربراہ ارسلا فان ڈیر لائن نے کہا کہ یورپی یونین نے امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے سیٹلائٹ سروس ’کوپرنیکس‘ کو فعال کر دیا ہے۔

میکسیکو، ایکواڈور اور فرانس نے بھی امداد کی پیشکش کی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *