صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی خاتون اسما جتک کے والد اور دیگر افراد کی موت کی وجوہات جاننے کے لیے صوبائی حکومت نے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو 15 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔
رشتے سے مبینہ انکار پر اسما بی بی کے والد سمیت پانچ افراد جان سے گئے۔ صوبائی اسمبلی میں احتجاج کے بعد حکومت نے واقعے سے متعلق نوٹس لیا۔
مسلح افراد نے اسما بی بی کو چھ فروری کو ان کے گھر سے اغوا کیا تھا۔ جن کا کہنا تھا کہ اسما کے خاندان نے لڑکی کا رشتہ ان سے طے کیا تھا اور بعد میں ان کا نکاح طے کر دیا گیا۔
اسما کے کزن اور منگیتر کو جو انجینیئرنگ کے فائنل ایئر کے طالب علم تھے، پہلے ہی قتل کیا جا چکا ہے۔
گذشتہ روز وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک خاتون قرآن مجید ہاتھ میں تھامے متعلقہ انتظامیہ اور قبائلی عمائدین سے انصاف مانگتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہیں۔
واقعے کی بازگشت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنائی دی۔ صوبائی وزرا اور اور دیگر ارکان اسمبلی واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
اسمبلی کے سپیکر کیپٹن ریٹائرڈ عبد الخالق نے ڈویژنل کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو اسمبلی طلب کیا جس کے بعد بلوچستان حکومت نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی۔
صوبائی وزارت داخلہ کے معاون بابریوسفزئی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کمشنر قلات ڈویژن کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کا چیئرمین، ڈپٹی کمشنر حب اور ڈپٹی کمشنر آواران کو کمیٹی کا رکن جب کہ ایس پی حب کو سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سپیشل برانچ پولیس کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ کمیٹی واقعے کے تمام حقائق، حالات اور محرکات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی کی نشاندہی اور واقعے کے ذمہ داروں کا تعین قانون اور دستیاب شواہد کی روشنی میں کرے گی۔ کمیٹی اپنی جامع رپورٹ 15 روز کے اندر حکومت بلوچستان کو پیش کرنے کی پابند ہوگی۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ ہفتے خضدار میں اسما جتک کے والد ماسٹر عنایت اللہ جتک، کو مبینہ طور پر رشتے سے انکار کے تنازعے پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے سے متعلق اب تک پانچ افراد مارے جا چکے ہیں۔
پولیس کے مطابق اسما جتک کو فروری میں بازیاب کروا لیا گیا تھا۔ اسما کے بھائی ڈاکٹر عطا اللہ جتک کا مؤقف ہے کہ زبردستی رشتے سے انکار پر پہلے دو رشتہ داروں جن میں اسما کا منگیتر اور ماموں شامل ہیں، سمیت پانچ افراد کو قتل کیا جا چکا ہے اور اب والد کو بھی قتل کر دیا گیا۔
ماسٹر عنایت اللہ کے قتل سے قبل اسما جتک کی جو ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر وائرل ہوئی اس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ملزموں نے ان کے والد کو ان کے بیٹوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی اور کہا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں کے کفن تیار رکھیں۔‘
ویڈیو میں اسما نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور قبائلی عمائدین سے مطالبہ کیا کہ انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
فروری 2025 میں اسما کے اغوا کے بعد ظہور جمالزئی نامی شخص کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں اسما کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ انہیں اغوا نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ اپنی مرضی سے ظہور جمالزئی کے ساتھ گئی تھیں۔
بازیابی کے بعد اسما نے کہا تھا کہ یہ ویڈیو بیان اغوا کے دوران ان سے زبردستی اور سنگین نتائج کی دھمکی دے کر لیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسما کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ابتدائی سماعت کے بعد انہیں اپنے والدین کے ساتھ گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
اسما کے والد کے قتل کا مقدمہ بھی ظہور جمالزئی اور ان کے دیگر ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کے بعض ارکان اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزم کو سابق وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری کی حمایت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے پولیس ملزم کو گرفتار نہیں کرہی۔
نواب ثنااللہ زہری کے خاندان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں اس واقعے سے لا تعلقی ظاہر کی گئی ہے اور کہا گیا ہے مخالفین نواب ثنا اللہ زہری کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔
