امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اشارہ دیا کہ وہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھنے دینے کے لیے تیار ہیں اور یہ معاملہ شطرنج کے کھیل کی طرح ہے، اسے اچھال نہیں رہے۔
تہران کی جانب سے سخت مطالبات کے باوجود بظاہر امریکی صدر مزید فوجی حملوں کا حکم دینے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
ایک مختصر فون کال پر ان سے بات کرنے والے نیوز ادارے ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ نے کہا، ’ہم اسے زیادہ اچھال نہیں رہے۔‘
محض ایک ہفتہ قبل ٹرمپ نے ایران پر سخت وار کرنے کی اپنی دھمکیوں کے سلسلے کی تازہ ترین دھمکی دی تھی، لیکن پھر پیچھے ہٹ گئے، کیوں کہ وہ 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر زور دے رہے ہیں۔
ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ نے اتوار کو آبنائے ہرمز کھولنے کے معاہدے میں ایران کی جانب سے کی جانے والی تاخیر پر کسی بھی قسم کی جھنجھلاہٹ کا اظہار نہیں کیا۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ جون میں دونوں ممالک کے درمیان دستخط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے مطابق پہلے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرے اور تیل پر عائد پابندیاں اٹھائے۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران کی جانب سے آبنائے کی بندش نے ایندھن کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے اور عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس سے ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کیوں کہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم ان کے ساتھ صرف جزوی مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہم محض ایران کو اس کی شدید مہنگائی اور اس حقیقت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔‘
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں اس لیے امریکی صارفین کو جنگ سے کم تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امریکی معاملات کے بارے میں کہا کہ ’یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ یہ ہمیشہ حل ہو جاتا ہے۔ یہ شطرنج کے کھیل کی طرح ہے۔‘
دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب نے اتوار کو کہا کہ ان کی حکمت عملی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رکھنا ہے ’جب تک دشمن ہماری تمام شرائط تسلیم نہیں کر لیتا۔ آبنائے اب دراصل ہمارے لیے جنگ کا میدان ہے اور محض ایک آبی گزرگاہ نہیں۔‘
آبنائے ہرمز کی بندش نے امریکی ووٹروں کے لیے قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب آتے ہی ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی درد سر پیدا ہو گیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آبنائے ہرمز میں حملے
متحدہ عرب امارات کے مطابق بحری جہازوں پر حملوں کی وجہ سے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے، اور ہفتہ کو کم از کم ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
عمان کی وزارت خارجہ نے ایران کا نام لیے بغیر ان مسلسل حملوں کی مذمت کی۔
جون کی یادداشت میں کہا گیا تھا کہ تہران اور مسقط دیگر خلیجی ممالک کی مشاورت سے اور ’مروجہ بین الاقوامی قانون کے مطابق‘ آبنائے کے انتظام کے لیے مستقبل کے انتظامات طے کریں گے، جو عام طور پر ایسی آبی گزرگاہوں میں محصول وصول کرنے سے منع کرتا ہے۔
عمان نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظامات کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں‘، اور ایسی کسی بھی کارروائی کے خلاف خبردار کیا جو اس پیش رفت کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے کے انتظام پر عمان کے ساتھ بات چیت ’حتمی مراحل کے قریب پہنچ رہی ہے۔‘
