کراچی میں جولائی میں لاپتہ ہونے والے میر رضا علی کی ہفتے کو قبر کشائی کے بعد تیار کی گئی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ انہیں گولی جسم کے پچھلے حصے سے لگی، جبکہ ان کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔
ابتدائی میڈیکل رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، جبکہ ان کے سر اور چہرے پر زخموں کے متعدد نشانات بھی پائے گئے۔
مدعی کے وکیل جبران ناصر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’گولی کمر کے پچھلے حصے میں چھٹی پسلی کے قریب لگی، جس نے چھٹی پسلی کی ہڈی کو اندر سے متاثر کیا اور پانچویں پسلی کو چھوتے ہوئے دل کے نچلے حصے کی جانب سے گزری۔‘
ان کے مطابق ’گولی کے نتیجے میں سینے کی گہا میں بڑی مقدار میں خون جمع ہوا، جو موت کا سبب بنا۔‘
جبران ناصر نے کہا کہ ’میر رضا علی کو موت سے قبل شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد انہیں پیچھے سے گولی ماری گئی، جو جان لیوا ثابت ہوئی۔‘
انہوں نے کہا: ’یہ سو فیصد قتل ہے، دور دور تک خودکشی نہیں ہے۔‘
جبران ناصر کے مطابق واقعے کے شواہد سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے مبینہ طور پر یہ کارروائی کی، کیا وہی قتل کے پیچھے تھے یا کسی اور کے ایما پر یہ سب کچھ کیا گیا۔
ان کے بقول: ’بڑی شد و مد سے اس قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
مدعی کے وکیل نے سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام سے بھی اس معاملے پر جواب طلب کیا۔ انہوں نے اے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی کراچی اور آئی جی سندھ سے سوال کیا کہ واقعے کی تحقیقات کس بنیاد پر کی گئیں۔
انہوں نے تفتیشی ٹیم کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے اور کہا کہ تحقیقات میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ میر رضا علی کی موت کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے۔
’ہم تین تاریخ سے کہہ رہے ہیں کہ یہ قتل ہے‘
میر رضا علی کے والد میر حسین نے پولیس سرجن آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کی موت کے ابتدائی دن سے ہی اسے قتل قرار دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود اپنے بیٹے کی لاش دیکھی تھی اور جسم پر موجود زخموں کی بنیاد پر انہیں یقین تھا کہ یہ خودکشی نہیں ہے۔
میر حسین کے مطابق ’ہم تو تین تاریخ سے کہہ رہے ہیں، اس وقت ہم واضح طور پر قتل بتا رہے تھے۔ ہم نے باڈی دیکھی ہے نا، ہم بتا رہے تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس دوران پولیس کی جانب سے انہیں بار بار خودکشی کے حوالے سے باتیں بتائی جاتی رہیں، جبکہ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ اگر ان کے بیٹے کے ساتھ تشدد ہوا تو اس پہلو سے تحقیقات کیوں نہیں کی جا رہیں۔
میر حسین نے کہا کہ کبھی ایس ایس پی ان سے بات کرتے اور کبھی انہیں ایک کمرے میں بلا کر بات کی جاتی، جبکہ ان کے بقول انہیں تحقیقات کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ کی جانب سے یہ کہا گیا کہ معاملہ حل کر دیا گیا ہے، لیکن بعد میں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے حوالے سے مسائل سامنے آئے۔
میر حسین نے سوال اٹھایا کہ جب ایک پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کی تفتیش کی بنیاد بنتی ہے تو پھر اس رپورٹ کی بنیاد پر واقعے کو خودکشی قرار دینے کی بات کیسے کی گئی؟
انہوں نے کہا کہ قبر کشائی کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی میڈیکل رپورٹ سے انہیں اس بات پر اطمینان ہوا کہ ان کے بیٹے پر تشدد کے جس دعوے کو وہ کئی روز سے دہرا رہے تھے، اب اس کا ذکر رپورٹ میں بھی موجود ہے۔
میر حسین نے کہا کہ ’ہمیں دس، گیارہ دن بعد یہ معلوم ہوا، جبکہ ہم دس دن سے کہہ رہے تھے کہ بچے پر تشدد کیا گیا، تشدد کیا گیا۔‘
ان کے مطابق خاندان پولیس سے صرف یہ چاہتا تھا کہ تحقیقات کے بارے میں انہیں مکمل طور پر آگاہ کیا جائے اور اگر میر رضا علی پر تشدد ہوا ہے تو اسے تسلیم کیا جائے۔
میر حسین نے کہا کہ انہیں بار بار صرف خودکشی کے حوالے سے باتیں بتائی جاتی رہیں، جبکہ خاندان کا سوال یہ تھا کہ اگر یہ قتل ہے تو اسے کس نے کیا اور ذمہ داروں کو سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا۔
انہوں نے کہا: ’ہم دن سے کہہ رہے ہیں، قتل جس نے کیا اس کا بتاؤ۔ اس کو کیوں چھپا رہے ہو؟ یہ کون اتنی بڑی پاور تھی جس کو آپ چھپا رہے ہیں؟‘
’قبر کشائی اس لیے کرائی کہ حقیقت سامنے آئے‘
میر حسین کے مطابق قبر کشائی کا مقصد یہ تھا کہ میر رضا علی کا دوبارہ مکمل پوسٹ مارٹم کیا جائے اور اس بات کا تعین ہو سکے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ موت سے قبل کیا ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ خاندان چاہتا تھا کہ حقیقت سامنے آئے اور عوام کو بھی معلوم ہو کہ میر رضا علی کی موت کن حالات میں ہوئی۔
ان کے بقول، ’اگر خودکشی کی ہوتی تو بھی رپورٹ آپ کے سامنے آتی، اور آج بھی رپورٹ آپ کے سامنے آئی ہے۔‘
میر حسین نے جبران ناصر کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بیان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
گولی کے زخم کی تفصیل
جبران ناصر نے میڈیکل رپورٹ میں درج گولی کے زخم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ گولی کمر میں چھٹی پسلی کے قریب لگی، چھٹی پسلی کی ہڈی کو اندر سے توڑتے ہوئے پانچویں پسلی کو چھوا اور دل کے نچلے حصے، یعنی ’انفریئر سرفیس‘ میں داخل ہوئی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جبران ناصر نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعہ خودکشی تھا تو جسم پر تشدد کے نشانات، ٹوٹی ہوئی پسلیوں اور سر و چہرے پر زخموں کی موجودگی کی کیا توجیہ ہے؟
25 سالہ میر رضا علی کی گمشدگی کے بعد لاش ملنے کا واقعہ
تفصیلات کے مطابق 25 سالہ میر رضا علی کی لاش مبینہ اغوا کے ایک روز بعد گلستان جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔
پولیس کے مطابق میر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے، جبکہ 29 جولائی کو گلستان جوہر سے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی، جس کی بعد ازاں شناخت میر رضا علی کے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق لاش کئی روز پرانی معلوم ہوتی ہے اور جسم کے مختلف حصے جھلسے ہوئے تھے۔
دوسری جانب اہل خانہ نے کہا تھا کہ میر رضا علی کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
فیروز آباد تھانے میں درج مقدمے کے مطابق میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے کام سے گھر واپس آئے تھے۔
اہل خانہ کے مطابق وہ رات گئے گھر کے نیچے سے دوبارہ نکلے، لیکن اس کے بعد واپس نہیں آئے۔ کچھ ہی دیر بعد ان کا موبائل فون بند ہو گیا، جس پر اہل خانہ نے پہلے اپنی مدد آپ کے تحت تلاش شروع کی اور پھر پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی۔
مقدمے میں مقتول کے والد میر حسین علی خان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نامعلوم افراد نے ان کے بیٹے کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر اغوا کیا، جس پر پولیس نے اغوا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی۔

