لگتا ہے رتیش دیش مکھ کی نوکری خطرے میں ہے، سلمان خان نے ازراہِ مذاق ہی یہ جملہ اس وقت ادا کیا جب وہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم کے رئیلٹی شو ’دی الائنس‘ میں بطور مہمان جلوہ گر ہوئے لیکن اس ایک جملے نے باور کروایا کہ اس رئیلٹی شو کا کانٹے کا مقابلہ ایک دوسرے شو ’لاک اپ 2‘ سے ہے۔
شو کے میزبان رتیش دیش مکھ پر سلمان خان کا یہ طنز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اسی بنا پر ’لاک اپ 2‘ کی پروڈیوسر ایکتا کپور نے بھی انسٹاگرام پر سیلفی لگا کر جوابی پوسٹ کی کہ ’جب آپ کا مقابل حریف ہر قسط میں آپ کا ذکر ایسے کرے جیسے کوئی جنونی سابق محبوب۔‘
ان دنوں سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ موضوع بحث یہ دونوں رئیلٹی شوز ہی ہیں۔ دونوں کو پیش کرنے والے الگ الگ او ٹی ٹی پلیٹ فارم ہیں اور اسی لیے کاروباری رقابت بھی عروج پر ہے۔ ’لاک اپ‘ کی میزبانی رتیش دیش مکھ اور فرح خان نے کی جبکہ ’دی الائنس‘ کی میزبانی کنال کھیمو کے ذمے ہے۔
دونوں شوز میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والی شخصیات ایک محدود مقام پر رہتے ہیں اور مختلف چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں، اتحاد بناتے ہیں اور آخر میں فاتح سامنے آتا ہے۔
انڈیا ہی نہیں پاکستان میں بھی ان شوز کو دیکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔
الائنس کیا ہے؟
الائنس ایک حکمتِ عملی پر مبنی رئیلٹی شو ہے۔ اس کا آغاز جون 2026 میں ہوا تھا۔ شو میں 16 مشہور شخصیات آٹھ جوڑیوں کی صورت میں حصہ لے رہی ہیں لیکن جیسے جیسے مقابلہ آگے بڑھتا ہے تو یہی اتحادی، حریف بھی بن سکتے ہیں۔
دراصل ’دی الائنس‘ کا پورا ڈھانچہ حکمت عملی کے گرد گھومتا ہے۔ تمام ٹیمیں جسمانی اور ذہنی چیلنجز کے ذریعے پوائنٹس حاصل کرتی ہیں جو اس شو کی واحد کرنسی ہے۔ ’سسٹم‘ نامی خودکار نظام مسلسل نئے قوانین، اچانک موڑ اور حیران کن اہداف کے ذریعے کھیل کو دلچسپ بناتا رہتا ہے، ہر ہفتے دو امیدوار شو سے باہر ہوتے ہیں جبکہ دو نئے وائلڈ کارڈ شرکا ان کی جگہ شامل کیے جاتے ہیں۔
اس وقت شو اپنے فائنل مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور وائلڈ کارڈ کے طور پر آنے والے علی گونی پہلے فائنلسٹ بن چکے ہیں۔ اس رئیلٹی شو میں دیسی شاہ، منی ماتھر، نکھل چنیپا، روی کشن اور سلمان خان کے بھائی سہیل خان شامل ہیں۔
سہیل خان نے ایک قسط میں سابق شریک سفر سیما سجدیہ سے شادی ختم ہونے کے تلخ تجربات کو بیان کیا تو اس گفتگو کو سوشل میڈیا پر خاصی پذیرائی ملی بلکہ کئی تو سہیل خان سے اظہار ہمدردی بھی کرنے لگے۔
’لاک اپ 2‘ کا موضوع
’لاک اپ 2‘ میں مقابلہ کرنے والے افراد جیل جیسے ماحول میں رہتے ہوئے مختلف اہداف انجام دیتے ہیں، اپنی ذاتی زندگی کے راز افشاں کرتے ہیں اور الزامات، اختلافات اور تنازعات کے درمیان اپنی جگہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس رئیلٹی شو میں بھی کچھ عرصے بعد کسی ایک امیدوار کی چھٹی ہوجاتی ہے۔ پہلے سیزن کی میزبانی کنگنا رناوت نے کی تھی اور کامیڈین منور فاروقی فاتح قرار پائے تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس رئیلٹی شو کے اس بار کے سیزن میں رام کپور، گووندا کی اہلیہ سنیتا آہوجا، شریا کلرا، پامیلا سرینا، یوگیش راوت، دھیرج دوپھر، شیوانگی جوشی، آکانکشا چوہدری اور شلپا شیندے نمایاں رہے۔
گذشتہ دنوں اس کے فائنل کو شریا کلرا نے مضبوط امیدوار شیوانگی جوشی کو ہرا کر جیتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک کروڑ انڈین روپے جیتنے والی کامیاب امیدوار شریا کلرا کو شو انتظامیہ نے سیزن ون کی ٹرافی تھما دی جس پر سوشل میڈیا پر خاصے دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ یہ دانستہ یا غیر دانستہ ہوا، تادم تحریر اس کی وضاحت نہیں کی۔
خیر سوشل میڈیا پر اس رئیلٹی شو پر جانب داری کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔ مختلف صارفین کا کہنا ہے کہ جس امیدوار کو شو سے نکالنا ہوتا تھا تو اسے جان بوجھ کر مشکل ٹاسک دیے جاتے اور اگر وہ ان میں کامیابی بھی حاصل کر لے تو کسی دوسرے امیدوار کے ہاتھ میں اسے شو سے نکالنے کا اختیار دے دیا جاتا تھا۔
شو میں یوگیش راوت سب کے لیے ناپسندیدہ ہو گئے تو انہیں نکال باہر کیا گیا لیکن جب سوشل میڈیا پر یوگیش کے حق میں آواز بلند ہوئی تو پروڈیوسر نے انہیں دوبارہ شو کا حصہ بنایا، جو ٹاپ 5 میں شامل ہوئے۔ سوشل میڈیا صارفین کا شکوہ ہے کہ کچھ امیدواروں کے لیے نرم گوشہ یا جانب داری اس رئیلٹی شو کا سارا مزہ کرکرا کرگیا۔
اسی طرح جن امیدواروں کو شو سے باہر کرنا مقصود ہوتا، جیسے آکانکشا چوہدری اور شلپا شیندے کو، تو فیملی ویک میں ان کے خاندان کے افراد کے بجائے ان کے مخالفین کو مدعو کیا گیا تاکہ انہیں شکست دی جا سکے۔
اسی بنا پر آکانکشا کا اس شو سے سفر تمام ہوا تھا۔ ایک الزام تو یہ بھی لگا کہ شو کی پروڈیوسر ایکتا کپور کے کئی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی شیوانگی جوشی کے ساتھ غیر ضروری نرمی برتی گئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی فائنل میں شریا کلرا سے مقابلے پر تھیں۔
’الائنس‘ بمقابلہ ’لاک اپ 2‘، کون آگے ہے؟
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حالیہ برسوں میں انڈین رئیلٹی ٹی وی شوز کا رجحان مسلسل شور شرابے، جھگڑوں اور جذباتی تصادم کی طرف بڑھا ہے۔
بظاہر دونوں شوز میں یکسانیت ہے جہاں ایک دوسرے سے انجان افراد ایک محدود مقام پر رہتے ہیں، گروپ بناتے ہیں، اہداف مکمل کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ مقابلے سے باہر ہوتے جاتے ہیں لیکن دونوں کی ترجیحات بالکل مختلف ہیں۔
اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ ’لاک اپ 2‘ زیادہ تر شخصیات، تنازعات اور ڈرامے کے گرد گھومتا رہا جبکہ ’دی الائنس‘ میں اصل اہمیت منصوبہ بندی، ذہانت، بدلتے اتحاد اور فیصلہ سازی کی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بیشتر ناظرین کو اس شو میں زیادہ کشش محسوس ہو رہی ہے۔ ایسا نہیں کہ ’دی الائنس‘ میں اختلافات اور جھگڑے نہیں ہوتے لیکن وہ مختلف اہداف کے دوران برجستہ اور غیر متوقع ہوتے ہیں۔
بہرحال سلمان خان کے رتیش دیش مکھ پر ’نوکری خطرے میں ہے‘ کے ریمارکس کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ دونوں شوز میں مقابلہ تگڑا رہا لیکن ’دی الائنس‘ پھر بھی بازی لے جا رہا ہے۔ رتھک روشن کی سابق اہلیہ سوزین خان بھی ’دی الائنس‘ میں آ کر یہ دعویٰ کرچکی ہیں کہ یہ شو ’لاک اپ 2‘ سے زیادہ مقبول ہے۔
’لاک اپ 2‘ کے اختتام کے بعد اب سب کی نگاہیں ’دی الائنس‘ پر مرکوز ہیں۔ کیا اس کا اختتام بھی ’لاک اپ 2‘ کی طرح چونکا دینے والا یا غیر متوقع ہوگا؟

