جنگ میں الجھ کر رہ گئے مشرق وسطیٰ سے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ سعودی عرب کی میزبانی میں جمعۃ المبارک کو دفاعی معاہدے پر خطے میں کئی حوالوں سے اہمیت کی حامل تین بڑی مملکتوں نے دستخط کیے ہیں۔ دیر آید درست آید۔
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان اس نوعیت کے دفاعی معاہدے کی کچھ عرصے سے اطلاعات آ رہی تھیں۔ مگر یہ معاہدہ عملی طور پر اس وقت ممکن ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ مجموعی طور پر اور تینوں ممالک الگ الگ بھی گہرے خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔
تینوں کو اپنے اپنے انداز کے دفاعی چیلنجوں نے پہلے ہی منفرد مقام پر کھڑا کر رکھا تھا، لیکن اب تازہ درپیش جنگی حالات، کشیدگی، پے در پے پیش آنے والے واقعات اور حملوں نے ایک اجتماعی دفاع کی ضرورت کو فوری ضرورت میں تبدیل کر دیا۔
تینوں ملکوں کی بنیادی شناخت جارح ملک کی کبھی نہیں رہی ہے بلکہ دیکھا جائے تو تینوں ہی اپنے اپنے انداز سے اپنی سلامتی کو گرد و پیش سے درپیش چیلنجوں اور دہشت گردی کے مسائل کا سامنا کرتے چلے آئے ہیں۔
ترکی
ترکی سے شروع کیا جائے تو داعش اور کردوں کی دہشت گردی کا چیلنج اس کے لیے نیا نہیں ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی موجودگی کے باوجود وہ اسرائیل کو ایک آنکھ نہیں بھاتا، لیکن ترکی کا نیٹو رکن ہونا اس کی ایک غیر معمولی بات ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اسرائیل صرف بیان بازی کی حد تک ہی آگ برسانے پر قادر ہے۔ ترکی کی فوجی و دفاعی صلاحیت بھی نظر انداز کیے جانے کی نہیں ہے۔ اس کے تیار کردہ ڈرونز کا بھی کچھ عرصے سے شہرہ ہے۔ ترکی نیٹو کا بھی رکن ہے جس کا مطلب ہے اس پر حملہ پورے نیٹو پر حملہ تصور ہوگا؟
اس طرح نہ صرف ترکی بلکہ اب پاکستان اور سعودی عرب بھی بل واسطہ نیٹو کے قریب آ گئے ہیں۔
پاکستان
جس طرح ترکی کو نیٹو کا رکن ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔ پاکستان ایک جوہری ملک ہے، بلکہ کہنا چاہیے کہ واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس نہ صرف جوہری صلاحیت ہے بلکہ میزائل ٹیکنالوجی اور جنگی اسلحہ سازی کے میدان میں بھی آہستہ آہستہ نام بنا رہا ہے۔
پچھلے سال انڈیا کو چار روزہ جنگ میں پاکستان کے مؤثر جواب کے بعد ملنے والی فاتحانہ شناخت نے اس کی جنگی استعداد کو اور نمایاں کر دیا۔ اس کے باوجود اسے انڈیا اور اس کی پراکسیز سے اندرونی دہشت گردی کے طویل مدتی چیلنجوں کا سامنا ہے۔
رہی سہی کسر افغانستان اور انڈیا کے ساتھ ’ڈی این اے‘ ملنے والی باتوں نے پوری کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھی دہشت گردی کے چیلنج کی زد میں ہے۔ ہاں اس کو ایک بڑا ’ایج‘ یہ حاصل ہے کہ یہ چین کا دیرینہ دوست اور سٹریٹیجک شراکت دار ہے۔
سعودی عرب
خطے میں اہم عرب اسلامی ملک ہے۔ توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہونے کے علاوہ معاشی اعتبار سے بھی مضبوط تر ہونے کے ساتھ ساتھ اس نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی استعداد کو غیر معمولی طور پر اپنی ترجیح بنا رکھا ہے۔
نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پورے عرب اور مسلم دنیا میں سعودی عرب کی اہمیت و حیثیت کا کوئی ثانی نہیں ہے، لیکن اس کے لیے بھی چیلنج اپنی جگہ موجود ہیں۔
یمنی حوثیوں کی جانب سے دہشت گردانہ حملے سعودی عرب کے لیے نئے نہیں۔ علاوہ ازیں عراق سے بھی اب اسی نوعیت کے دہشت گردانہ چیلنج ابھرے ہیں۔ بلاشبہ بعض پراکسیز سعودی عرب کی صلح جو پالیسی کے باوجود اس کے درپے ہیں۔
اس تناظر میں سعودی فوجی و دفاعی قوت میں جہاں وقت کے ساتھ اضافہ کیا جاتا رہا، وہیں پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے میں پچھلے سال ستمبر میں منسلک ہو کر اس نے اپنے لیے ایک اور دفاعی حصار کھڑا کر لیا ہے۔
اب محض ایک سال سے بھی کم عرصے میں جمعے کو مکہ معظمہ کی پاک سرزمین پر سعودی عرب نے ایک طرح سے پاکستان اور سعودی عرب کے دو طرفہ دفاعی معاہدے کو سہ فریقی دفاعی معاہدے کے قالب میں ڈھالنے کا اقدام کیا ہے۔
اس سہ فریقی دفاعی معاہدے کے فوری اسباب و علل کیا ہیں، ظاہر ہے انہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اس سہ فریقی دفاعی معاہدے کی اصل افادیت طویل مدتی تناظر میں ہوگی۔ کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اب مزید جاری رہنے کی حالت میں شاید نہ رہے۔ البتہ طویل مدتی چیلنج اور ضرورتیں سعودی عرب سمیت تینوں ملکوں کے لیے اہم ہیں۔
ان میں ایک بڑا چیلنج اسرائیل کا حالیہ برسوں میں بڑھ جانے والا حوصلہ، جارحانہ تجربہ اور اہم ہوجانے والا چیلنج بھی رہے گا۔ اس لیے یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ وقتی اور طویل مدتی دونوں طرح کے ثمرات دے گا۔
البتہ کچھ فوری اور طویل مدتی مضمرات کا بھی اندیشہ رہے گا، لہذا ضروری ہوگا کہ ان مضمرات کے تدارک کے لیے اس دفاعی معاہدے کے ’بیک اپ‘ میں گہرے معاشی و تجارتی، سفارتی، سیاسی و عسکری اور تعلیمی ہی نہیں، ابلاغی میدان میں بھی ماضی سے بڑھ کر سٹریٹیجک نوعیت کا اشتراک عمل پیدا کیا جائے۔
اس تناظر میں یہ بھی اہم ہوگا کہ جہاں ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا وہیں ایک ملک کا دشمن دوسرے ملک کا دوست نہیں رہ سکے گا، لہذا ضروری ہوگا کہ دفاعی معاہدے کے تینوں فریق دوستی و دشمنی کے معیارات کو اپنی ان طویل مدتی دفاعی ضرورتوں کے حوالے سے ’ری وزٹ‘ کریں۔
The Pakistan-Saudi Arabia-Türkiye Comprehensive Defence Pact is more than a military agreement—it is the first concrete building block of an emerging regional security architecture for South and West Asia. As reliance on extra-regional security providers declines, regional powers…
— Asif Durrani (@AsifDurrani20) August 7, 2026
نہ صرف یہ بلکہ ایک دوسرے کے وہ مسائل جو سہ فریقی سطح پر حل ہو سکتے ہوں ان میں ایک دوسرے کے لیے اپنے دل کے دروازوں کو ماضی کے برسوں سے زیادہ کھولنے کے لیے تیار رہیں۔
اگر ’آئی فائیو‘ جیسا بین الملکی نیٹ ورک ہو سکتا ہے تو آنے والے دنوں کے بڑے چیلنجوں کو اس نظر سے بھی ابھی سے دیکھنے کی ضرورت ہوگی۔ خصوصاً ایسے ماحول میں جب اگلے برسوں میں موساد جیسے انٹیلی جنس اداروں نے ان تینوں فریقوں کو اپنے بعض قریبی دوستوں کی مدد سے نشانے پر رکھنے کی ضرور کوشش کرنا ہے۔
ان تین بڑے ظرف کے ملکوں سے یقیناً یہ توقع بھی کی جائے گی کہ اپنی اس اجتماعی دفاعی قوت کو مجتمع رکھنے کے ساتھ ساتھ بڑھائیں مگر کوشش کریں کہ اس سے خطے کی سطح پر زیادہ سے زیادہ مثبت پیغام پہنچانے کی کوشش کریں۔ الا یہ کہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہے۔
منصور جعفر سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

