کے ٹو طیارہ حادثہ: متاثرہ خاندان کا ایئرلائن پر تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کا الزام

بحیرہ عرب میں سات جولائی کو پاکستانی کمپنی کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے حادثے میں جان سے جانے والے کیپٹن محمد رضوان ادریس کے بیٹے یاشب رضوان نے ایئرلائن پر تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

یاشب نے الزام عائد کیا کہ حادثے کو تقریباً ایک ماہ گزرنے کے باوجود ایئرلائن انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے کوئی مؤثر رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی سرچ آپریشن یا تحقیقات میں تعاون کیا۔

گذشتہ ماہ کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737-400 کارگو طیارہ (فلائٹ KTA-1732) شارجہ سے کراچی آتے ہوئے بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

حادثے میں کیپٹن محمد رضوان، انجینیئرز محمد عارف صدیقی، فرسٹ آفیسر فیصل جتوئی، لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان اور محمد حامد جان سے گئے۔

یاشب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ صرف پانچ جانیں نہیں گئیں، پانچ خاندان اجڑ گئے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں ہمارے والد اور دیگر افراد کے ساتھ یہ سانحہ کیوں پیش آیا۔‘

’عام طور پر کسی کے انتقال کے بعد اہل خانہ وراثت اور دیگر قانونی معاملات نمٹاتے ہیں مگر ہم آج بھی اسی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ آخر یہ حادثہ ہوا کیسے تھا۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹیو طارق مجید راجہ کو پاکستان لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے، گہرے سمندر میں موجود طیارے کے بلیک باکس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تیز کیا جائے اور ایئرلائن کو طیارے کا تمام تکنیکی ریکارڈ تحقیقاتی حکام کے حوالے کرنے کا پابند بنایا جائے۔

پاکستان بحریہ اور میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے اورماڑا کے ساحل سے جنوب میں طیارے کا کچھ ملبہ تو برآمد کر لیا لیکن اس کا مرکزی حصہ تقریباً تین ہزار میٹر گہرے سمندر میں موجود ہے۔

یاشب کہتے ہیں ’حادثے کو تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے لیکن افسوس کہ ہم اب تک اس ادارے کے چیف ایگزیکٹیو طارق مجید راجہ کو پاکستان نہیں لا سکے۔

’یہ ہمارے لیے انتہائی بے بسی اور مایوسی کی صورت حال ہے۔’

انہوں نے کہا پاکستان کے سول ایوی ایشن قوانین کے مطابق اس کیس میں سب سے اہم فریق طیارے کا آپریٹر، یعنی کے ٹو ایئرویز، ہے، لیکن ان کے بقول ایئرلائن اب تک تحقیقات کے عمل میں کہیں نظر نہیں آ رہی۔

’ہم نے ایئرلائن سے انشورنس، سرچ آپریشن اور دیگر معاملات پر سوالات کیے مگر اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ نہ انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے رابطہ کیا اور نہ ہی کسی قسم کی عملی معاونت کی۔‘

یاشب کے مطابق تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایئرلائن کو طیارے کی مینٹیننس لاگز، آپریشنل ریکارڈ، انجینیئرنگ ریکارڈ، تکنیکی دستاویزات اور دیگر متعلقہ معلومات تحقیقاتی ٹیم کے حوالے کرنی چاہییں تاکہ حادثے کی وجوہات کا درست تعین کیا جا سکے۔

بلیک باکس نکالنا کیوں ضروری؟

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا طیارے کا مرکزی حصہ تقریباً تین ہزار میٹر گہرے سمندر میں موجود ہے، جہاں تک رسائی کے لیے خصوصی آلات اور جدید ٹیکنالوجی درکار ہے، جو اس وقت پاکستان کے پاس موجود نہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گہرے سمندر میں سرچ آپریشن فوری شروع کیا جائے اور اگر ضرورت ہو تو بین الاقوامی یا نجی اداروں کی خدمات حاصل کی جائیں کیونکہ بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کے بغیر اس حادثے کی مکمل تحقیقات ممکن نہیں۔‘

ان کے مطابق بلیک باکس ہی یہ بتا سکتا ہے کہ حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا۔

کے ٹو ایئرویز کا مؤقف

کے ٹو ایئرویز نے یاشب کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ بیورو آف ایوی ایشن کی اجازت (اپروول) ملنے کے بعد ہی حادثے سے متعلق باضابطہ بیان جاری کریں گے۔

کے ٹو ایئرویز کی آفیشل ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق کمپنی کراچی میں قائم نجی کارگو ایئرلائن ہے، جسے مئی 2018 میں حکومت پاکستان سے ایئرلائن چارٹر لائسنس ملنے کے بعد قائم کیا گیا۔

کمپنی نے یکم جولائی، 2024 کو اپنا پہلا بوئنگ 737-400SF کارگو طیارہ بیڑے میں شامل کیا اور ملکی و بین الاقوامی کارگو آپریشنز کا آغاز کیا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *