میں موہن جو دڑو اور ہڑپہ، دونوں مقامات کا دورہ کر چکی ہوں، جو وادی سندھ کی تہذیب کے دو عظیم شہری مراکز تھے اور موجودہ پاکستان میں واقع ہیں۔ ان کے اینٹوں کے کھنڈرات کے درمیان کھڑے ہو کر مجھے اس بات نے متاثر کیا کہ مادی شکل میں کتنا کچھ محفوظ رہا ہے اور وہ انسانی زندگی جو کبھی وہاں گزری تھی، اس کا کتنا حصہ اب بھی ہماری دسترس سے باہر ہے۔
برسوں بعد، عمر خان کی دستاویزی فلم ‘موہن جو دڑو: ایک قدیم وادی سندھ کے شہر کی مہر کشائی’ دیکھتے ہوئے مجھے پھر اسی کشمکش کا احساس ہوا: ایک قدیم شہر اپنے بارے میں کتنا کچھ ظاہر کر سکتا ہے، اور کتنا کچھ اب بھی پوشیدہ رکھتا ہے۔
اینٹیں باقی رہتی ہیں۔ نکاسی آب کے نظام کا نقشہ بنایا جا سکتا ہے۔ مہروں کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ دھاتی اشیا کو محفوظ کر کے نمائش کے لیے رکھا جا سکتا ہے۔ ہم تجارت، دست کاری اور منظم شہری زندگی کے شواہد کا سراغ لگا سکتے ہیں۔ تاہم یہ ہمیشہ نہیں بتاتا کہ کون سے کام کس نے انجام دیے، محنت کی تقسیم کیسے ہوئی، وسائل پر کس کا کنٹرول تھا یا گھروں اور برادریوں کے اندر اختیار کیسے استعمال ہوتا تھا۔
محبت، خوف، گھریلو محنت، گفت و شنید، آرزو اور مزاحمت عموماً منظم شواہد نہیں چھوڑتیں۔ اور جب ہم ان خواتین کے بارے میں سوال کرتے ہیں جو ان گلیوں اور گھروں میں آباد تھیں تو یقین کی جگہ خاموشی لے لیتی ہے۔
حال ہی میں ساؤتھ ایشیا پیس ایکشن نیٹ ورک کی جانب سے منعقدہ ایک آن لائن نشست میں فلم ساز عمر خان نے وادی سندھ کی تہذیب کے آثار قدیمہ کی مورخ سودیشنا گہا اور مصنفہ و شاعرہ سہبا سرور کے ساتھ گفتگو کی۔
کراچی سے رقاصہ اور سماجی کارکن شیما کرمانی، سری لنکا سے شریک ہونے والی لاہور کی مصورہ اور معلمہ سلیمہ ہاشمی، انڈین امن کارکن للیتا رام داس، ڈھاکہ سے فیمینسٹ خوشی کبیر، اور نیپالی صحافی نمرتا شرما ان شرکا میں شامل تھیں جنہوں نے اپنے خیالات پیش کیے۔
گفتگو میں موہن جو دڑو کی شہری منصوبہ بندی، اب تک نہ پڑھی جا سکنے والی وادی سندھ کی تحریر، اس تہذیب کے زوال کے بارے میں مباحث، اور ایک ایسی تہذیب پر جدید قومی شناختیں مسلط کرنے کے خطرات شامل تھے جو انڈیا اور پاکستان کے قیام سے ہزاروں سال پہلے موجود تھی۔
ساؤتھ ایشیا پیس ایکشن نیٹ ورک کی گفتگو، ہڑپہ فلمز کی ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ‘موہن جو دڑو: ایک قدیم وادی سندھ کے شہر کی مہر کشائی’ پر۔ میزبانی بینا سرور نے کی جبکہ مقررین میں عمر خان، سودیشنا گہا اور سہبا سرور شامل تھے۔
موہن جو دڑو اور ہڑپہ کے باقی ماندہ تعمیراتی آثار کو پوری تہذیب کی آواز سمجھ لینا قابل فہم ہے، لیکن اس سے آسانی سے یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ گھروں کے اندر اختیار کس کے پاس تھا، روزمرہ زندگی کو کس کی محنت سہارا دیتی تھی، یا کس کے فیصلوں کا احترام کیا جاتا تھا۔
میرا ذہن بار بار ایک اور سوال کی طرف جاتا رہا: ہم ان خواتین کے بارے میں کیا جانتے ہیں جو وہاں رہتی تھیں؟
دیانت دارانہ جواب یہ ہے کہ ہم زیادہ نہیں جانتے۔
یہ ہی غیر یقینی کیفیت اس دستاویزی فلم کی ایک بڑی خوبی ہے۔ یہ واضح کرتی ہے کہ آثار قدیمہ کا ریکارڈ کیا ظاہر کرتا ہے اور کیا اب بھی پوشیدہ رکھتا ہے۔ بعض اوقات تاریخ سے وہ چیزیں جو ہم بازیافت نہیں کر سکتے، اتنی ہی معنی خیز ہوتی ہیں جتنی وہ چیزیں جو محفوظ رہ گئی ہیں۔
دوسروں کا تعبیر کردہ ایک جسم
کانسی سے بنی چھوٹی سی مورتی، جسے ‘رقاصہ لڑکی’ کے نام سے جانا جاتا ہے، وادی سندھ کی تہذیب سے منسلک سب سے نمایاں اور پہچانی جانے والی اشیا میں شمار ہوتی ہے۔ یہ نام ماہر آثار قدیمہ جان مارشل نے دیا تھا، جب 1926 میں ارنسٹ میکے نے موہن جو دڑو سے یہ مورتی دریافت کی۔
وہ ایک ہاتھ کمر پر رکھے کھڑی ہے اور اس کا ایک بازو چوڑیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ اس کے انداز کو پراعتماد، باغیانہ اور خود یقین سے بھرپور قرار دیا گیا ہے۔ مگر اس کا معروف نام بھی دراصل ایک تعبیر ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ آیا وہ واقعی رقاصہ تھی یا نہیں، یا یہ مورتی کسی حقیقی شخصیت، فنکارہ، مزدور خاتون، دیوی یا کسی فنکارانہ تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔
نسل در نسل ماہرین آثار قدیمہ، مورخین، حکومتیں، فنکار اور عام لوگ اس پر اپنے اپنے معانی مسلط کرتے رہے ہیں۔
اس کے جسم کی تعبیر اور بعض اوقات اس پر کنٹرول کی یہ ہی خواہش اس وقت نمایاں ہوئی جب انڈیا کی ایک نئی آرٹس نصابی کتاب میں اس کی ترمیم شدہ تصویر شامل کی گئی۔ مورتی کے ننگے دھڑ پر سایہ ڈال دیا گیا تھا، جس سے وہ لباس میں ملبوس دکھائی دینے لگی۔ مورخین اور ماہرین تعلیم کی تنقید کے بعد انڈیا کی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے 16 جون 2026 کو اعلان کیا کہ اصل تصویر کو ڈیجیٹل ایڈیشن اور آئندہ مطبوعہ نسخوں میں بحال کر دیا جائے گا۔
یہ تنازع صرف ایک نصابی تصویر کا معاملہ نہیں تھا۔ ہزاروں سال پہلے کانسی میں ڈھالا گیا ایک جسم موجودہ دور کی اخلاقی بے چینیوں کا شکار بنا دیا گیا تھا۔ کسی نے فیصلہ کر لیا تھا کہ ماضی کو خود بھی آج کی آنکھوں کے لیے زیادہ ’موزوں‘ بنایا جانا چاہیے۔
یہیں مرئیت اور خودمختاری ایک دوسرے سے جڑتی ہیں۔ ایک عورت کا جسم بہت نمایاں ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اپنی شرائط پر۔ دوسرے لوگ اس کا نام رکھتے ہیں، اس کی تشریح کرتے ہیں، اس پر فیصلہ صادر کرتے ہیں، اسے ڈھانپتے ہیں اور یہ طے کرتے ہیں کہ اسے کس معنی کی اجازت دی جائے۔
خودمختاری صرف جسمانی پابندیوں سے آزادی کا نام نہیں۔ یہ خود اپنی تعریف کرنے، فیصلے لینے، اپنے جسم اور محنت پر اختیار رکھنے، وسائل پر دعویٰ کرنے، فیصلوں میں شریک ہونے اور دوسروں کی ملکیت بنائے گئے ایک استعارے کے بجائے ایک مکمل سماجی کردار کے طور پر تسلیم کیے جانے کی قوت ہے۔
ہم نہیں جانتے کہ موہن جو دڑو کی خواتین کو ایسی خودمختاری حاصل تھی یا نہیں۔ لیکن کانسی کی اس مورتی کے گرد پیدا ہونے والا تنازع یہ ضرور دکھاتا ہے کہ اختیار رکھنے والے ادارے ایک نسائی جسم کی تعریف کا حق کس آسانی سے اپنے لیے محفوظ سمجھتے ہیں۔
سہبا سرور اپنی نظم ‘تم ہمارے اندر زندہ ہو / موہن جو دڑو کی لڑکی’ میں اس مورتی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ وہ ‘عورتوں کی طاقت اور مزاحمت کی سچائی’ بیان کرتی ہے۔
شیما کرمانی نے بتایا کہ اس مورتی کی وضع قطع ایک ایسے رقص کا آغاز ہے جس کی ابتدائی کوریوگرافی ان کے استاد گرو گھنام شیام نے کی تھی اور بعد میں اسے انہوں نے آگے بڑھایا۔
سلیمہ ہاشمی نے فیض احمد فیض کی انگریزی نظم ‘دی یونیکورن اینڈ دی ڈانسنگ گرل’ کا حوالہ دیا اور موہن جو دڑو کے لازوال تسلسل پر غور کرتے ہوئے کہا: ‘گزرا ہوا وقت ہی موجودہ وقت ہے… ہم اس تسلسل کا حصہ بننے پر خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں۔’
ان کے خیالات نے گفتگو کو آثار قدیمہ سے آگے بڑھا کر فن، یادداشت اور ان طریقوں تک پہنچایا جن کے ذریعے ایک قدیم نسائی جسم کو آج بھی تعبیر کیا جاتا ہے، ڈھانپا جاتا ہے، دوبارہ اپنا بنایا جاتا ہے اور حال میں زندہ کیا جاتا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی ابھرا: جب ہم ایک قدیم عورت کے جسم کے ایک حصے کو ڈھانپنے پر بحث کر رہے ہیں تو ان بے شمار خواتین کا کیا ہوگا جن کی پوری زندگی ہی تاریخ سے غائب ہو چکی ہے؟
مشہور مورتی سے آگے
‘رقاصہ لڑکی’ اس لیے دکھائی دیتی ہے کہ کانسی محفوظ رہ گئی۔ لیکن دوسری خواتین کے بارے میں اسی نوعیت کے شواہد کی عدم موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس تہذیب میں موجود نہیں تھیں، اور نہ ہی یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ مظلوم، طاقتور یا برابر حیثیت رکھتی تھیں۔ شواہد کی عدم موجودگی کو ذمہ داری کے ساتھ ماضی کے کسی پسندیدہ تصور کے حق میں ثبوت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین اس تہذیب میں موجود نہیں تھیں۔ اور نہ ہی یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ مظلوم، بااختیار یا مساوی حیثیت رکھتی تھیں۔ شواہد کی عدم موجودگی کو ذمہ داری کے ساتھ اس ماضی کے ثبوت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا جسے ہم پسند کرتے ہیں۔
قدیم تہذیبوں کو اکثر جدید سیاسی مؤقف کی توثیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ صنفی مساوات کے ایک گم شدہ سنہری دور کا تصور کرتے ہیں۔ دوسرے لوگ حیا، درجہ بندی، مذہب یا خاندانی نظام کے متعلق موجودہ خیالات کو ماضی کے ان لوگوں پر مسلط کر دیتے ہیں جو آج ہمیں جواب نہیں دے سکتے۔
یہ دونوں طریقے ماضی کو حال کی سیاست کا خادم بنا دیتے ہیں۔
صنفی شعور کے ساتھ کی گئی قرأت کو نہ تو ایسی فیمینسٹ تہذیب ایجاد کرنی چاہیے جس کے لیے ہمارے پاس ثبوت موجود نہیں، اور نہ یہ فرض کرنا چاہیے کہ آج کی پابندیاں ہزاروں سال پہلے بھی اسی شکل میں موجود تھیں۔ اسے یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ انسانی تجربے کی بعض شکلوں کو بازیافت کرنا دوسری شکلوں کے مقابلے میں آسان کیوں ہے۔
ایک قدیم شہر کی عظمت کا اندازہ اکثر ان لوگوں کے کارناموں سے لگایا جاتا ہے جنہوں نے سڑکوں کی منصوبہ بندی کی، پانی کے نظام تعمیر کیے، وزن کے پیمانے معیاری بنائے اور عوامی عمارتیں تعمیر کیں۔
لیکن کوئی تہذیب صرف انجینیئرنگ سے زندہ نہیں رہتی۔ اسے اس بار بار دہرائے جانے والے، قریبی اور اکثر غیر دستاویزی کام پر بھی انحصار کرنا پڑتا ہے جو انسانوں کو زندہ رکھتا ہے: کھانا تیار کرنا، بچوں کی پرورش کرنا، لباس بنانا، رہائشی جگہوں کی دیکھ بھال کرنا، علم بانٹنا اور بیمار، ضعیف یا کمزور افراد کی نگہداشت کرنا۔
متعدد معاشروں میں اس محنت کا بڑا حصہ خواتین کے سپرد کیا گیا ہے۔ ہم یہ فرض نہیں کر سکتے کہ موہن جو دڑو میں بھی یہ ہی انتظام تھا۔ لیکن وسیع تاریخی رجحان یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ دیکھ بھال اور گھریلو محنت کو سیاسی اور معاشی کامیابیوں کے بیانیوں میں اتنی بار کم تر کیوں سمجھا گیا۔
سوال صرف یہ نہیں کہ خواتین تاریخ میں نظر آتی ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کس طرح نظر آتی ہیں، اور کیا انہیں اپنے معنی پر اختیار حاصل ہے؟
کیا انہیں تاریخ کے فعال کرداروں کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے یا محض آرائشی اشیا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے؟ کیا ہم انہیں کارکن، مفکر، تخلیق کار اور فیصلہ ساز کے طور پر دیکھتے ہیں، یا پھر ان پر حسن، پاکیزگی، شرم اور تہذیب کے تصورات مسلط کرتے ہیں؟
‘پادری بادشاہ’ کے نام سے معروف مردانہ مجسمہ بھی غیر یقینی صورت حال میں گھرا ہوا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ واقعی پادری تھا یا بادشاہ۔ اس کے باوجود مردانہ خطاب اسے مذہبی اور سیاسی اختیار عطا کرتا ہے، جبکہ خاتون مورتی کو اس کے جسم اور فرض کر لیے گئے فنِ اداکاری یا رقص کے ذریعے شناخت دی جاتی ہے۔
ایک کو حاکم تصور کیا جاتا ہے۔
دوسری کو رقاصہ تصور کیا جاتا ہے۔
شاید یہ فرق موہن جو دڑو کے سماجی نظام سے زیادہ ہمارے اپنے اس رجحان کو ظاہر کرتا ہے کہ ہم اختیار مردوں سے اور جسمانیت خواتین سے منسوب کرتے ہیں۔
سرحدوں سے قدیم تر ایک تاریخ
وادی سندھ کی تہذیب کو کسی ایک جدید قومی بیانیے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ان علاقوں میں پروان چڑھی جو آج پاکستان اور انڈیا کے درمیان تقسیم ہیں، اور یہ دونوں ریاستوں کے وجود میں آنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔
ساپن کی اس نشست نے اسی مشترکہ ورثے کی عکاسی کی: پاکستان سے ایک فلم ساز، انڈیا سے ایک مورخ، اور جنوبی ایشیا اور اس کے تارکین وطن معاشروں سے آنے والے فنکار، کارکن اور شرکا اس تہذیب پر گفتگو کر رہے تھے جو ہم میں موجود سرحدوں سے کہیں زیادہ قدیم ہے۔
آثار قدیمہ بھی ایک ایسی سرزمین بن سکتا ہے جس پر قومیں مقابلہ کرتی ہیں: کس کی تہذیب؟ کس کا نوادراتی ورثہ؟ کس کا رقص؟ کس کی تاریخ؟
موہن جو دڑو جنوبی ایشیا کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ ماضی کو قومی ملکیتوں میں تقسیم کیے بغیر اس پر نظر ڈالے، اور یہ تسلیم کرے کہ اس خطے کی ثقافتی یادداشت اس کی ریاستوں سے کہیں زیادہ پرانی اور باہم مربوط ہے۔
وادی سندھ کی تحریر اب تک پڑھی نہیں جا سکی۔ ہم ان الفاظ کو نہیں پڑھ سکتے جن سے وہاں کے لوگ خود کو بیان کرتے تھے، یا یہ جان سکتے ہیں کہ وہ اپنے شہر، اپنے سیاسی نظام یا اس کانسی کی مورتی کو کیا نام دیتے تھے جو آج عجائب گھروں، نصابی کتابوں، فلموں، شاعری اور رقص کے ذریعے سفر کر رہی ہے۔
یہ غیر یقینی کیفیت ہمیں انکسار سکھانی چاہیے۔ ذمہ دار عوامی تاریخ کو ثبوت، تعبیر اور تخیل کے درمیان فرق کو واضح رکھنا چاہیے۔ فنکار ان خاموشیوں میں مختلف انداز سے داخل ہو سکتے ہیں۔ ایک نظم یا رقصی پرفارمنس کو وادی سندھ کی کسی عورت کی زندگی ازسرِ نو تعمیر کرنے کا دعویٰ کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ یہ سوال پوچھ سکتی ہے کہ ایک قدیم شے آج کے انسان میں کیا بیدار کرتی ہے۔
شاید یہ ہی وجہ ہے کہ ‘رقاصہ لڑکی’ آج بھی اتنی پرکشش محسوس ہوتی ہے۔ وہ خود اپنی وضاحت نہیں کر سکتی، جبکہ ماہرین آثار قدیمہ، نصابی کتابوں کے مدیر، مورخین، قوم پرست، شعرا، رقاص، اور صحافی اسے سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
موہن جو دڑو ہم سے یہ سوال بھی کرتا ہے کہ آئندہ نسلیں ہمیں کس طرح سمجھیں گی۔
کیا وہ خواتین کو زیادہ تر ان قوانین کے ذریعے جانیں گی جو ان کے بارے میں بنائے گئے، ان جرائم کے ذریعے جو ان کے خلاف ہوئے، ان تصاویر کے ذریعے جو ان کی گردش میں رہیں، اور ان مباحث کے ذریعے جو ان کے جسموں پر کیے گئے؟ یا پھر انہیں خواتین کی اپنی صحافت، تحقیق، گواہی، تنظیم سازی، فن اور روزمرہ زندگی کے بیانیے بھی ملیں گے؟
جنوبی ایشیا بھر میں خواتین کو اب بھی خاندانی عزت، مذہبی شناخت، ثقافتی اصالت اور قومی فخر کی حامل سمجھا جاتا ہے۔ ان کی خودمختاری کو اکثر ان کا ذاتی حق نہیں بلکہ ایسی سرزمین تصور کیا جاتا ہے جس پر خاندان، برادریاں اور ادارے اپنا اختیار جتاتے ہیں۔
محض دکھائی دینا آزادی نہیں ہے۔ ایک عورت بطور تصویر، تنازع، متاثرہ فرد یا علامت بہت نمایاں ہو سکتی ہے، مگر ایک مکمل انسان کے طور پر، جو علم، فہم، فیصلہ سازی اور اپنی زندگی کی تعریف کا حق رکھتی ہو، پھر بھی نظر انداز رہ سکتی ہے۔
حل یہ نہیں کہ ہم موہن جو دڑو کی خواتین کے بارے میں قیاس آرائیاں کریں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے گرد موجود خاموشی کو پہچانیں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ آج زندہ خواتین کے گرد بھی ایسی ہی خاموشی دوبارہ پیدا نہ ہو۔
قدیم کانسی کی وہ مورتی اس لیے محفوظ رہی کیونکہ دھات باقی رہی۔ اس کے گرد موجود غیر یقینی کیفیت ہمیں ان تمام خواتین کی یاد دلاتی ہے جنہیں تاریخ ہمارے سامنے پیش نہیں کر سکتی۔
ہمارے سامنے اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ خواتین کی زندگیاں، اور اپنی کہانیوں پر ان کا اختیار، کھنڈرات کے درمیان گم نہ ہو جائیں۔
عذرا سید ایک صحافی، مصنفہ اور ایس او اے ایس، یونیورسٹی آف لندن کی پی ایچ ڈی محقق ہیں۔ ان کی ڈاکٹری تحقیق جنوبی ایشیا اور تارکین وطن کے تناظر میں سیاسی انتہاپسندی کے طور پر عورت دشمنی کا جائزہ لیتی ہے، جس میں ڈیجیٹل نفرت اور غیرت کے نام پر تشدد پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
یہ ساپن نیوز کی فیچر رپورٹ ہے جو یہاں شائع کی جا رہی ہے۔
