سوات دھماکہ: دو کزن جو ’دبئی میں ساتھ تھے اور اکھٹے دنیا سے چلے گئے‘

’اویس تین سال بعد اور فیاض پانچ سال بعد دبئی سے گھر چھٹی منانے آئے تھے اور کچھ دن بعد ان کی واپسی تھی لیکن اللہ کو یہی منظور تھا، دونوں چچازاد بھائی اکھٹے اس دنیا سے چلے گئے۔ ‘

یہ کہنا تھا سوات کے علاقے کبل سے تعلق رکھنے والے ذاکر خان کا، جن کے ماموں زاد کزن سوات کے علاقے کبل میں خودکش دھماکے میں جان سے چلے گئے۔

سوات کے علاقے کبل میں واقع پولیس لائن کے مرکزی دروازے کے قریب اتوار کو اس وقت خودکش دھماکہ ہوا تھا جب  قریب ہی ایک امن ریلی جاری تھی۔

پولیس کے مطابق دھماکے میں مجموعی طور پر چھ پولیس اہلکاروں سمیت 15 افراد جان سے گئے اور 23 سے زائد زخمی ہوئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دھماکے میں جان سے جانے والے اویس اور فیاض کے کزن ذاکر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ دونوں دبئی میں کاروبار کرتے تھے اور زیادہ عرصہ وہیں پر رہتے تھے۔ اویس تین سال بعد اور فیاض پانچ سال بعد چھٹی کی غرض سے گاؤں آئے تھے۔

انہوں نے بتایا: ’اویس کی چھ ماہ پہلے دھوم دھام سے شادی ہوئی تھی اور وہ بہت خوش تھے۔ تین سال بعد گاؤں آکر یہاں دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ تھے لیکن اب گھر میں ماتم برپا ہوگیا۔‘

اسی طرح ذاکر کے مطابق ان کے دوسرے ماموں زاد کزن فیاض والدین اور اپنے خاندان سمیت دبئی میں مقیم تھے اور پانچ سال بعد والدین سمیت گاؤں آئے تھے۔

ذاکر نے بتایا: ’فیاض دبئی میں انجینیئر تھے۔ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے، جبکہ ان کی دو چھوٹی بہنیں ہیں جبکہ اویس کے تین بھائی ہیں اور وہ سب سے چھوٹے تھے۔ ‘

ذاکر نے فیاض کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے گاؤں میں نیا گھر بنانے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کے لیے نقشہ بھی تیار کیا تھا لیکن نیا گھر بنانے کا ارمان دل میں لیے وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

انہوں نے بتایا: ’اویس کی آٹھ اگست اور فیاض کی 18 اگست واپسی کی پرواز تھی۔ وہ کچھ سامان لینے کبل بازار گئے تھے کہ اسی دوران دھماکہ ہوگیا۔‘

ذاکر کے مطابق اویس فٹ بال کے شوقین تھے اور علاقے میں ایک مقامی فٹ بال کلب کے نوجوانوں کو بہت زیادہ سپورٹ کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اویس کا جنازہ پیر کو ہوا جبکہ فیاض کے جنازے کے لیے ان کے والد کا انتظار کیا جا رہا تھا جو دبئی سے آرہے تھے اور آخری دیدار کے بعد ان کا جنازہ ادا کر کے تدفین کر دی گئی۔

ذاکر نے بتایا: ’دونوں میرے بھائیوں جیسے تھے۔ ہم اکھٹے گھومتے تھے۔ دبئی سے ان کی واپسی کے بعد روزانہ عصر کے بعد پروگرام بنا کر کہیں گھومنے جاتے تھے۔ دونوں کے جانے سے پورا علاقہ سوگوار ہے۔ ‘

اویس نے سوگواران میں اہلیہ جبکہ فیاض نے سوگواران میں دو بچے اور اہلیہ کو چھوڑا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *