گندم درآمد کی اجازت، ضرورت یا پیسہ بنانے کا طریقہ؟

پاکستان میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایک ہنگامی اجلاس میں ایک مرتبہ پھر گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ سال 25-2024 میں ہی حکومت نے گندم کی درآمدات پر پابندی لگا دی تھی۔ ایک سال بعد اچانک ایسی کون سی بنیادی تبدیلی آ گئی کہ دوبارہ درآمد کی ضرورت پیش آ گئی ہے؟

کیا واقعی پیداوار اور ذخائر میں کمی آئی ہے، یا پھر یہ منصوبہ بندی، خریداری اور ذخیرہ سازی کے نظام کی ناکامی کا نتیجہ ہے؟

جولائی 2026 تک حکومت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی کہ ملک میں گندم کی کوئی کمی نہیں اور مناسب ذخائر موجود ہیں۔ وفاقی وزیر غذائی تحفظ نے 11 جولائی اور 19 مئی 2026 کے اجلاسوں میں کہا تھا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور قلت کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پیداوار گذشتہ سال کے مقابلے میں 13 لاکھ 60 ہزار ٹن زیادہ رہی ہے، اس لیے اچانک گندم درآمد کرنے کی اجازت شک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔

ذخیرہ اندوزی کے خدشات کو حکومت خود بھی تسلیم کر رہی ہے۔ سندھ حکومت کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق صوبے میں تقریباً 6 لاکھ 10 ہزار ٹن گندم کا حساب نہیں مل رہا تھا اور شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ مقدار مارکیٹ سے چھپا کر رکھی گئی یا روکی گئی ہو سکتی ہے۔ اسی بنیاد پر ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت دی گئی لیکن ہمیشہ کی طرح ذخیرہ اندوز جیت گئے اور گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

پاکستان دنیا کے دس بڑے گندم پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ملک میں سالانہ گندم کی پیداوار عموماً 28 سے 31 ملین ٹن کے درمیان رہتی ہے لیکن اس کے باوجود گذشتہ کئی برسوں سے درآمدات کا سلسلہ جاری ہے۔ 

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان کی گندم درآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 21-2020 میں پاکستان نے 3.609 ملین ٹن گندم درآمد کی۔ مالی سال 22-2021 میں درآمدات 2.201 ملین ٹن رہیں جبکہ 23-2022 میں یہ بڑھ کر 2.600 ملین ٹن تک پہنچ گئیں۔ اس کے بعد 24-2023 میں ریکارڈ 3.59 ملین ٹن گندم درآمد کی گئی، حالانکہ اسی سال ملک میں 31.47 ملین ٹن کی ریکارڈ پیداوار بھی ہوئی تھی۔

گذشتہ چار برسوں میں پاکستان تقریباً 12 ملین ٹن گندم درآمد کر چکا ہے، جس کی مالیت تقریبا پانچ ارب ڈالر تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض برسوں میں مقامی پیداوار اور سرکاری ذخائر موجود ہونے کے باوجود درآمدات کی اجازت دی گئی۔ آڈیٹر جنرل کی خصوصی رپورٹ نے بھی سوال اٹھایا کہ 24-2023 میں ریکارڈ پیداوار کے باوجود 3.59 ملین ٹن گندم کیوں درآمد کی گئی، لیکن آج تک اس کا جواب نہیں آ سکا ہے۔ اور نہ ہی کسی کا احتساب ہو سکا ہے۔ اس سال بھی وہی روایت دہرائی جا رہی ہے۔ جرم کے بار بار ہونے کی ایک بڑی وجہ مجرم کو سزا نہ دینا بھی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سال 2026 میں سرکار نے دانستہ طور پر اپنے مقررہ ہدف کے مقابلے میں بہت کم گندم خریدی ہے۔ پنجاب میں ابتدائی طور پر 30 لاکھ ٹن خریداری کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں نظر ثانی شدہ ہدف 8 لاکھ 60 ہزار ٹن کر دیا گیا اور جون 2026 تک خریداری صرف تقریباً 1 لاکھ 60 ہزار ٹن تک پہنچ سکی۔

سندھ حکومت بھی 2026 میں اپنا گندم خریداری ہدف حاصل نہیں کر سکی بلکہ صوبے میں ہدف اور حقیقی خریداری کے درمیان فرق پنجاب سے بھی زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ سندھ کابینہ نے 2026 کی فصل کے لیے 10 لاکھ ٹن (ایک ملین میٹرک ٹن) گندم خریدنے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن جون 2026 تک سندھ فوڈ ڈیپارٹمنٹ صرف تقریباً 80 ہزار ٹن گندم خرید سکا، جو مقررہ ہدف کا تقریباً 8 فیصد بنتا ہے۔ مبینہ طور پر نجی شعبے کی خریداری کا راستہ ہموار کیا گیا۔ نتیجتا آٹے کی قیمت میں تقریباً 74فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ نجی شعبے پر حکومتی کنٹرول کمزور ہے۔ گندم یا تو ذخیرہ کر لی جاتی ہے یا سمگل کر دی جاتی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہر سال کا ایک طے شدہ فارمولا ہے۔ قلت پیدا کی جائے، قیمت بڑھائی جائے، درآمدات کی اجازت لی جائے اور پھر ذخیرہ شدہ گندم بیچ کر منافع کمایا جائے۔ مافیا کے لیے یہ بھی کاروبار کی طرح ہے۔ سالانہ منافع نکالنے کے لیے وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتے ہیں۔

دوسری طرف سرکار کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی گندم کی پیداوار 29.3 سے 29.6 ملین ٹن کے درمیان رہی ہے اور طلب تقریباً 31 ملین ٹن ہے، اس لیے گندم درآمد کرنا ضروری ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 26-2025 میں پیداوار 29.61 ملین ٹن بتائی گئی ہے، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 4.3 فیصد زیادہ ہے۔ اگر پچھلے سال درآمد نہیں کی گئی تو اس سال درآمد کی ضرورت کیوں ہے؟ پاکستان کی گندم کی کھپت کے اعداد وشمار کس حد تک درست ہیں اس پر بھی سوالات اٹھائے جائے رہے ہیں۔

گندم کی درآمد بھی شوگر مافیا سے مماثلت رکھتی ہے۔ کئی آزادانہ اور سرکاری رپورٹس میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ چینی درآمد کرنے سے پہلے سٹاک کی غلط رپورٹ دی گئی۔ ماضی میں گندم کے حوالے سے بھی غلط رپورٹس دی گئیں اور اس سال بھی رپورٹ کے غلط ہونے کے قوی امکانات ہو سکتے ہیں۔

غلطی کہاں ہوئی شاید اس کی تحقیق کی زیادہ ضرورت ہے۔ یا تو وفاقی وزیر نے گندم کی وافر مقدار ہونے کا بیان دو مرتبہ غلط دیا یا اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بغیر تحقیق کے گندم منظوری کی اجازت دے دی۔ آخر کوئی تو غلط ہے۔

کسان سے گندم نہ خریدنے والی سرکار، ضرورت سے زیادہ گندم موجود ہونے کی رپورٹ دینے والے سرکاری آفیسرز، ذخیرہ اندوزی کرنے والے، سندھ میں دس لاکھ ٹن گندم کا سٹاک گمشدہ کرنے والے اور بغیر تحقیق کے درآمد کی منظوری دینے والے تمام افراد اور ادارے گندم کی قلت پیدا کرنے اور گندم کی قیمت بڑھنے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *