کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت مل چکی ہے: رانا ثنا

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے پیر کو دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں منعقدہ انتخابات کے دو مراحل میں مجموعی طور پر ان کی جماعت کو حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت مل چکی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام  کشمیر کے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتوار کو مظفرآباد ڈویژن کے آٹھ حلقوں میں پولنگ ہوئی جبکہ لینڈ سلائیڈنگ اور بارش کے باعث ایل اے 27 (مظفر آباد ون) میں پولنگ موخر کر دی گئی۔ اسی طرح پاکستان میں مقیم کشمیری پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر بھی کل ہی ووٹنگ ہوئی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال گذشتہ روز ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں تمام حلقوں کے حتمی اور سرکاری نتائج سامنے نہیں آئے، تاہم غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کو برتری حاصل ہے۔

انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ایک مرتبہ پھر دھاندلی اور بدانتظامی کے الزامات کا سخت تبادلہ ہوا۔

سینیٹر رانا ثنا اللہ نے پیر کو وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس ہوئے کہا کہ قانون ساز اسمبلی کی 20 نشستوں پر دوسرے مرحلے کے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کی 12 میں سے 10 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ مظفرآباد ڈویژن کی 7 نشستوں میں سے 4 پر مسلم لیگ (ن) اور 3 پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔

بقول رانا ثنا: ’مجموعی طور پر  کشمیر کی 45 نشستوں میں سے اب تک 23 پر مسلم لیگ ن کامیاب ہو چکی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہو گی، ’جو نواز شریف کے اعلان کے مطابق عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرے گی اور علاقے میں ترقی کا نیا دور شروع ہو گا۔‘

بقول رانا ثنا: ’انتخابات کے تیسرے مرحلے کے فوراً بعد پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا جائے گا، جس میں مستقبل کے بارے میں فیصلے کیے جائیں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتھ ہی انہوں نے دھاندلی کے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات ’شفاف‘ ہوئے ہیں اور پیپلز پارٹی کے دھاندلی کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’پاکستان پیپلز پارٹی انتخابات سے قبل دھاندلی کے الزامات عائد کر رہی تھی، تاہم اب انہیں قوم کو بتانا چاہیے کہ انتخابات شفاف تھے یا نہیں؟ دھاندلی کے الزامات کے ثبوت مانگے گئے تو پہلے 13 پولنگ سٹیشنز کا دعویٰ کیا گیا پھر یہ تعداد کم ہو کر چار اور بعد ازاں صرف دو پولنگ سٹیشنز تک محدود رہ گئی۔‘

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ’ان کی ذاتی رائے ہے کہ پیپلز پارٹی کو نتائج مسترد کرکے تیسرے مرحلے کا بائیکاٹ کر دینا چاہیے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’حتمی فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کرے گی۔‘

اتوار کو اسلام آباد میں شیری رحمان اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں راجا پرویز اشرف نے کہا کہ ’الیکشن صاف شفاف نہیں، غیر جانبدارانہ نہیں تو انہیں کوئی نہیں مانے گا۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *