حال ہی میں اوپن اے آئی کے دو اے آئی ماڈلز کے سائبر حملے ایک ایسے قانونی سوال کو جنم دے رہے ہیں جس کا ابھی تک کوئی واضح جواب موجود نہیں اور وہ یہ کہ جب مصنوعی ذہانت خود اپنی مرضی سے کوئی حرکت کرے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟
اس سائبر حملے کا شکار بننے والے اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی میزبانی کرنے والے پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے سربراہ کلیمنٹ ڈیلانگ نے جمعے کو کہا کہ ایسا طریقہ ہونا چاہیے جس کے تحت ’ایسی غلطیاں کرنے والی کمپنیوں کو، جن کے نتیجے میں (سائبر حملے) ہوتے ہیں، جواب دہ ٹھہرایا جا سکے۔‘
تاہم انہوں نے کہا ان کی کمپنی فی الحال کوئی قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
جولائی کے وسط میں اوپن اے آئی کے دو ماڈلز اپنے محدود ماحول (sandbox) سے باہر نکل گئے اور انٹرنیٹ پر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ہگنگ فیس پر حملہ کر دیا ۔
یہ ایک ایسا منظرنامہ تھا جس کی ڈویلپرز نے توقع نہیں کی تھی۔
ڈیلانگ نے انتھروپک کا بھی ذکر کیا، جس نے جمعرات کو انکشاف کیا تھا کہ اس کے تین ماڈلز نے بھی جانچ کے دوران تین مختلف ویب سائٹس میں رسائی حاصل کی۔
غفلت کا پہلو
امریکی دیوانی اور فوجداری قوانین کے تحت کسی کمپیوٹر سسٹم تک غیر مجاز رسائی ایک جرم ہے۔
ہیوسٹن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر گیبریل وائل نے ٹرانسفارمر نیوز لیٹر کے لیے ایک مضمون میں لکھا ’اگر اوپن اے آئی کا کوئی انسانی ملازم ہگنگ فیس کے نظام میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہوتا تو… اوپن اے آئی اس ملازم کے غلط اقدام کا ذمہ دار قرار پاتی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’جب یہی کام ایک اے آئی ایجنٹ کرتا ہے تو قانون کم از کم فی الحال اسے بہت مختلف انداز میں دیکھتا ہے۔‘
نئی ٹیکنالوجیز پر تحقیق کرنے والے یونیورسٹی آف یوٹا میں قانون کے پروفیسر میتھیو ٹوکسن نے بھی اسی نوعیت کا مؤقف اختیار کیا۔
ان کا کہنا تھا ’ہمیں کبھی اس سوال سے نمٹنے کی ضرورت نہیں پڑی کہ کوئی ایسا عمل جو انسان کے علاوہ کسی اور چیز نے کیا ہو، اس کی ذمہ داری کیسے طے کی جائے اور میرا نہیں خیال کہ عدالتیں ابھی اس مرحلے تک پہنچی ہیں۔‘
تاہم، سوال اس کمپنی کے حوالے سے اب بھی موجود ہے جس نے یہ ماڈل تیار کیا۔
سائبر سکیورٹی ٹریننگ ادارے ایس اے این ایس کے شعبہ تحقیق کے سربراہ راب ٹی لی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں سوال اٹھایا ’کیا یہ کہنا کہ ہم نے اے آئی کو ایسا کرنے کا نہیں کہا تھا‘ ذمہ داری کے سوال کو ختم کر دیتا ہے؟‘
یونیورسٹی آف واشنگٹن کے قانون کے پروفیسر ریان کیلو کا خیال ہے کہ اس طرح کے معاملات میں فوجداری مقدمہ کامیاب ہونے کے امکانات کم ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق ’کمپنی یا فرد کا کم از کم حد سے زیادہ لاپرواہ ہونا ثابت کرنا ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہیں ’یقینی طور پر معلوم ہو کہ جرم ہونے والا ہے لیکن اس کے باوجود وہ نظام تیار کریں یا اسے استعمال کرنے کی ہدایت دیں۔‘
ماہرین کے مطابق فوجداری مقدمے کی بجائے دیوانی مقدمے کے امکانات زیادہ ہیں کیونکہ اس میں ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری نسبتاً کم ہوتی ہے۔
ٹوکسن نے وضاحت کی ’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی اے آئی ایجنٹ، جسے کمپنی نے استعمال کے لیے جاری کیا ہو، مکمل طور پر قابو سے باہر نکل جائے اور نقصان پہنچائے تو اے آئی کمپنیاں خود بخود ذمہ دار ہونی چاہییں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’جبکہ کچھ لوگ یہ پسند کریں گے کہ غفلت کا جائزہ لیا جائے اور دیکھا جائے کہ آیا کمپنی واقعی لاپرواہی کی مرتکب ہوئی یا یہ محض ایک ایسا حادثہ تھا جسے روکا نہیں جا سکتا تھا یا جس کی پیش گوئی ممکن نہیں تھی۔‘
ٹوکسن کے مطابق ایسے معاملات میں مصنوعات کی تیاری کے حوالے سے احتیاط کے ایک معیار کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے، جس کی بنیاد پر جج یا جیوری فیصلہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا ’یہ سب کچھ ابھی غیر واضح ہے کیونکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی اے آئی ایجنٹ اپنے محفوظ ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ پر موجود دوسرے لوگوں کے نظام کو ہیک کرے۔‘
ریان کیلو نے خبردار کیا کہ اگر اوپن اے آئی کو کسی مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تو وہ قانونی نظیر نہ ہونے کی دلیل استعمال کر سکتی ہے لیکن مستقبل میں آنے والی کمپنیاں یہ عذر پیش نہیں کر سکیں گی۔
ان کے مطابق یہ ثابت کرنا کہ ایسا واقعہ پہلے سے متوقع تھا، ’اب اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ ہونا شروع ہو چکا ہے۔‘
