مشرقِ وسطیٰ کے مختلف دارالحکومتوں میں قائم امریکی سفارت خانوں نے ہفتے کے روز اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاقائی تنازع میں کسی بھی ’غیر متوقع کشیدگی‘ سے محتاط رہیں اور ضرورت پڑنے پر خطہ چھوڑنے کے لیے تیار رہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ انتباہ بحرین، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی سفارت خانوں کی جانب سے آن لائن جاری کیا گیا۔
یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ’بہت سخت کارروائی‘ کی دھمکی دی تھی۔
ایران اور امریکہ کے درمیان 28 فروری سے جنگ جاری ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کے بعد ایک مختصر عرصے کے لیے حالات نسبتاً پُرسکون رہے، تاہم بعد میں حملوں کے دوبارہ آغاز کے ساتھ یہ جنگ بندی ختم ہو گئی۔
جنگ کے خاتمے کے آثار نظر نہ آنے کے باعث کئی ماہ سے جاری اس تنازع نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔
سکیورٹی الرٹ میں کہا گیا: ’خطے میں موجود امریکی شہریوں کو علاقہ چھوڑنے پر غور کرنا چاہیے یا کشیدگی بڑھنے کی صورت میں روانگی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘
پیغامات میں شہریوں کو پروازوں کی معلومات باقاعدگی سے چیک کرنے اور مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی گئی۔
Middle East: Americans currently in the Middle East should exercise caution and heightened vigilance and should be prepared for flight cancellations, periodic airspace closures, and potential travel disruptions. Some airlines in the region have postponed resumption of earlier… pic.twitter.com/d1ZmzRBBHN
— TravelGov (@TravelGov) August 1, 2026
بیان میں کہا گیا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہری احتیاط اور بلند درجے کی احتیاط اختیار کریں اور پروازوں کی منسوخی، وقتاً فوقتاً فضائی حدود کی بندش اور سفری رکاوٹوں کے لیے تیار رہیں۔‘
اردن میں موجود امریکی شہریوں کو وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کا رخ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی، جنہیں حال ہی میں ایرانی میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ اسرائیل میں امریکی شہریوں کو قریبی بم شیلٹرز کے مقامات معلوم رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔
مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا: ’ایرانی حکومت غیر متوقع رویہ اختیار کر رہی ہے، جیسا کہ اس کے حالیہ فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے، جن کے تحت اس نے بغیر کسی پیشگی انتباہ یا اشتعال کے خطے میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا اور حملے ان علاقوں تک بھی پھیلا دیے جنہیں پہلے نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، مثلاً مصر۔‘
بیروت میں امریکی سفارت خانے نے کہا کہ سفارتی مشن تاحال ’آرڈرڈ ڈیپارچر سٹیٹس‘ پر ہے، یعنی غیر ہنگامی امریکی سرکاری عملے کو لبنان سے باہر منتقل رکھا گیا ہے۔
ایران کا ردِعمل
ایران کی فوج نے ہفتے کے روز واشنگٹن پر خطے میں ’کشیدگی بڑھانے‘ کا الزام عائد کیا۔
ایران کی مرکزی عسکری کمان کے سربراہ علی عبداللہی نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا: ’جو بھی ملک مجرمانہ اور جارح امریکہ کے لیے دفاعی ڈھال بنے گا، وہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جائے گا۔‘
ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے بھی ایرانی بنیادی ڈھانچے پر ممکنہ حملوں کے خلاف خبردار کیا۔
انہوں نے ایکس پر لکھا: ’آپ فوجی مساوات کے ذریعے حساب لگاتے ہیں، لیکن ہم تاریخ کی منطق کے ساتھ جواب دیتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ایران کے بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ان دراڑوں کو بیدار کر دے گا جن پر آپ کے 250 سالہ بالادستی کے نظام کی عمارت قائم ہے۔‘
آبنائے ہرمز اور بحری تجارت
گذشتہ ماہ چند روزہ وقفے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان رات کے وقت حملوں کا تبادلہ دوبارہ شروع ہوا، اگرچہ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کسی نئے حملے کی اطلاع نہیں ملی۔
بدھ کے روز مصر کی ایک بندرگاہ میں لنگر انداز امریکی ملکیت کے ایک گیس بردار جہاز پر ڈرون حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔
مصر اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے تاہم تاحال کسی گروہ پر الزام عائد نہیں کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب ایک برطانوی بحری ایجنسی نے ہفتے کے روز بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک ٹینکر کو ’نامعلوم پرواز کرنے والی چیز‘ نے نشانہ بنایا، ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز پر اثر و رسوخ کے لیے کشمکش میں ہیں۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور جہازوں کو اس آبی گزرگاہ کے استعمال سے قبل اجازت اور ٹرانزٹ فیس ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
بحری تجارت پر نظر رکھنے والی کمپنی کپلر (Kpler) نے جمعے کو کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں ’نمایاں کمی‘ آئی ہے۔
کمپنی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’امریکہ اور ایران کے سرکاری مؤقف میں اختلاف برقرار ہے، اس لیے آپریٹرز ٹریفک کی مقدار، جہازوں کے راستوں اور کسی بھی سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جو آنے والے دنوں میں علاقائی شپنگ راستوں کے خطرات کو تبدیل کر سکتی ہے۔‘
لبنان محاذ
مشرقِ وسطیٰ کی اس جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے خطے بھر میں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
لبنان کے محاذ پر اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے تین جنگجوؤں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ ایک اسرائیلی فوجی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ قریبی جھڑپ میں درمیانے درجے کے زخموں کا شکار ہوا۔
