پاکستانی دفتر خارجہ نے انڈیا میں مظاہرین پر پیلٹ گن کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا استعمال جہاں بھی کیا جائے وہ قابل مذمت ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتے کو جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’چاہے یہ انڈین غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ہو یا انڈیا کے کسی اور حصے میں، ہم اس کی مکمل مذمت کرتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انڈیا نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز کے استعمال کو ایک ہجوم کنٹرول طریقہ کار کے طور پر جواز فراہم کیا ہے، اور یہ تمام واقعات اچھی طرح دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان انڈین غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ جموں و کشمیر اور خود انڈیا میں پیلٹ گنز کے استعمال کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ انڈین غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ایک مخصوص عرصے، خصوصاً 2016 سے 2017-18 کے دوران، اور اس کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں پیلٹ گنز کے استعمال کو نمایاں طور پر اجاگر کیا جاتا رہا ہے، اور غالباً یہ سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔
ان کے مطابق ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ پیلٹ گنز کے استعمال کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی بینائی متاثر ہوئی، جبکہ بہت سے افراد مستقل طور پر نابینا بھی ہوئے۔ اب یہ تمام واقعات تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ معاملہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی 2018 اور 2019 میں جاری ہونے والی دو رپورٹس میں بھی دستاویزی شکل میں موجود ہے۔
’اس کے علاوہ سول سوسائٹی تنظیموں نے بھی اس صورتحال کی مسلسل نگرانی کی، اور میری معلومات کے مطابق متاثرین کی بحالی اور علاج سے متعلق بعض حلقوں نے تفصیلی دستاویزات بھی مرتب کیں۔‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب گذشتہ ماہ نئی دہلی کے جنتر منتر میں سی جے پی کی جانب سے منعقد کیے گئے احتجاج کے دوران بدامنی اور تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے، جو اس وقت شدت اختیار کر گئے جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
انڈیا کے قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے بھی ایک زخمی مظاہرہ کرنے والے سے ہسپتال میں ملاقات کے بعد پولیس پر پیلٹ گنز استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین نے کم از کم چار ایسے کیسز کی تصدیق کی ہے جن میں مظاہرین کو نئی دہلی میں ہونے والے احتجاج کے دوران پیلٹ گنز سے لگنے والے زخموں کا علاج کرانا پڑا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بوائس نے کہا کہ بھارتی پولیس کی جانب سے استعمال کیا گیا ہتھیار ’12 گیج پمپ ایکشن شاٹ گن‘ تھا۔
انہوں نے کہا، “تصاویر میں نظر آنے والے زخم یقینی طور پر پیلٹ گن سے لگنے والے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ برڈ شاٹ سے ہونے والی چوٹیں ’تباہ کن اور ممکنہ طور پر جان لیوا‘ ثابت ہو سکتی ہیں۔
آرمامنٹ ریسرچ سروسز (ARES) کے ڈائریکٹر این آر جینزن جونز نے کہا کہ احتجاج کے دوران لگنے والے زخموں کی تصاویر ’برڈ شاٹ کے استعمال سے بھرپور مطابقت رکھتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کی چوٹیں زندگی بھر کے لیے معذوری کا سبب بن سکتی ہیں اور بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہ جسم میں زہریلے سیسے کے ذرات بھی چھوڑ دیتی ہیں، جنہیں بعض اوقات محفوظ طریقے سے نکالنا مشکل ہوتا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرنے والے دو افراد نے بتایا کہ وہ 20 جولائی کو کناٹ پلیس میں زخمی ہوئے تھے۔
رپورٹ میں ایک سینئر عہدیدار کے بیان کا بھی حوالہ دیا گیا، جن کے مطابق زخمیوں کے زخم ’پیلٹ نما چھوٹے ذرات‘ کی وجہ سے تھے۔
