پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور کامن ویلتھ گیمز کے دفاعی چیمپیئن ارشد ندیم مردوں کے جیولن تھرو فائنل میں ابتدائی تین راؤنڈز کے بعد ٹاپ آٹھ کھلاڑیوں میں جگہ نہ بنا سکے، جس کے باعث وہ میڈل کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔
ارشد ندیم سے میڈل کی امید لگائے بیٹھے ان کے مداح اس کارکردگی پر مایوس نظر آئے، جس کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی کیا۔ تاہم جہاں کچھ صارفین نے ارشد کی کارکردگی پر تنقید کی، وہیں کئی لوگوں نے اسے کھیل کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
رباب نامی صارف نے لکھا، ’یہ صرف ایک کھیل ہے، وہ ایک ایتھلیٹ ہے۔ ہر کھلاڑی کے اچھے اور برے دن آتے ہیں۔ اس شخص نے مسلسل خود کو بہتر بنانے کے لیے محنت کی ہے، آج اس کا دن اچھا نہیں تھا۔ امید ہے کہ وہ اس سے نکل کر دوبارہ مضبوط واپسی کرے گا۔‘
Arshad… What have you done to yourself.
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) July 31, 2026
دوسری جانب شفیق نامی صارف نے ارشد ندیم اور انڈیا کے نیرج چوپڑا دونوں کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اپنی ٹکٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ’ارشد اور چوپڑا جیسے دو بڑے حریفوں کو دیکھنے کے لیے ٹکٹ پر 90 پاؤنڈ خرچ کیے، لیکن یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ ان کی تھرو کتنی خراب رہی۔’
ایک اور صارف علیزے نے تبصرہ کیا، ’شہرت ان پر حاوی ہو گئی، وہ اسے سنبھال نہیں سکے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ارشد ندیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ’ایتھلیٹس ہمیشہ فاتح نہیں رہ سکتے۔ ارشد اپنی عروج کی عمر گزار چکے ہیں، لیکن پاکستان ایتھلیٹکس کے لیے انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔ ہمیں ان پر ہمیشہ فخر رہے گا۔ جیتو یا ہارو، ہمیں تم پر فخر ہے۔‘
ارشد ندیم نے فائنل میں 12 کھلاڑیوں کے درمیان نویں پوزیشن حاصل کی۔ ان کی بہترین تھرو 77.41 میٹر رہی، جبکہ تین کوششوں میں سے ایک فاؤل قرار دی گئی۔ ان کی آخری تھرو 75.39 میٹر تھی، جو انہیں ٹاپ آٹھ میں شامل کرنے کے لیے کافی نہ ہو سکی۔
