امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو حماس کو ’مکمل طور پر غیر مسلح‘ کرنے کے ایک معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے غزہ میں نئی فلسطینی حکومت کی تشکیل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جبکہ فلسطینی تنظیم نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
حماس کو غیر مسلح کرنے کا حساس معاملہ اکتوبر 2025 سے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان نافذ جنگ بندی معاہدے کو آگے بڑھانے میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک رہا ہے۔
جنگ بندی کے باوجود غزہ میں روزانہ تشدد کا سلسلہ جاری ہے، جہاں اسرائیلی فوج کے بقول حماس کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے لکھا: ’آج بورڈ آف پیس نے غزہ میں حماس اور دیگر تمام مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا ایک تاریخی معاہدہ طے کیا ہے۔ یہ دیرپا امن اور سلامتی کی جانب ایک غیر معمولی قدم ہے۔‘
امریکی صدر کے مطابق حماس کو غیر مسلح کرنے کا عمل مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا: ’جیسے جیسے غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہو گا، اسرائیلی افواج واپس ہٹیں گی اور بین الاقوامی استحکام فورس ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر غزہ کی ذمہ داری سنبھالے گی۔‘
دوسری جانب حماس کے سینیئر عہدیداروں نے جمعے کو اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے طے پانے والے معاہدے میں گروپ کے ہتھیاروں اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا سے متعلق شقیں شامل ہیں۔
ایک حماس عہدیدار نے کہا: ’ہتھیاروں کے معاملے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کی پٹی سے (اسرائیلی افواج کے) مرحلہ وار انخلا پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔‘
عہدیدار نے مزید کہا کہ اسلامی تحریک کو اب توقع ہے کہ ثالث اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اسرائیل معاہدے کی شرائط پر عمل کرے۔
گروپ کی مذاکراتی ٹیم کے رکن غازی حمد نے کہا کہ تحریک ’غزہ کی پٹی میں اپنے عوام کی خاطر، انہیں قتل اور بے دخلی سے بچانے کے لیے رعایتیں دے رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ گروپ کے ہتھیاروں کا معاملہ اسرائیلی انخلا، قومی کمیٹی کی تعیناتی اور علاقے میں تعمیر نو کے کام سے منسلک ہے۔
بقول غازی حمد: ’اسرائیل غیر مسلح کرنے کے معاملے میں مداخلت نہیں کرے گا۔ قومی کمیٹی ہی وہ ادارہ ہو گا، جو یہ ذمہ داری انجام دے گا۔‘
سینیئر حماس عہدیدار کے مطابق: ’غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی (این سی اے جی) طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق ہتھیاروں کی فہرست سازی اور انہیں محفوظ رکھنے کا انتظام اور عمل درآمد کرے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’غزہ میں ہتھیار اپنے پاس رکھنے، محفوظ کرنے یا ان پر کنٹرول رکھنے کا اختیار صرف قومی کمیٹی کو حاصل ہو گا۔‘
بورڈ آف پیس کی جانب سے قائم کی گئی غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی ابھی تک غزہ کی پٹی میں داخل نہیں ہوئی۔
’طویل اور مشکل‘ مذاکرات
غازی حمد نے کہا کہ یہ معاہدہ تقریباً چھ ماہ قبل شروع ہونے والے ’طویل اور مشکل‘ مذاکرات کے بعد طے پایا۔
انہوں نے اے ایف پی سے کہا: ’یہ معاہدہ جنگ کے خاتمے، غزہ کی پٹی میں قومی کمیٹی کے داخلے، غزہ سے اسرائیلی انخلا، تعمیر نو اور بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی جیسے معاملات کا احاطہ کرتا ہے۔‘
بقول غازی حمد نے کہا: ’یہ ایک جامع فریم ورک ہے جس کے تمام اجزا کا ایک دوسرے سے جڑا رہنا ضروری ہے۔‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ دیگر مسلح گروہوں کو بھی غیر مسلح کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حماس اب ثالثوں کے ساتھ عمل درآمد کی تفصیلات پر بات کرے گی اور معاہدے پر عمل کے لیے ٹائم لائن طے کرے گی۔
’اس عمل میں تقریباً 14 دن لگیں گے، یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ ہمیں ہر تفصیل پر اتفاق کرنا ہو گا کہ معاہدے پر کیسے عمل ہو گا، کب عمل ہو گا اور اس کے نفاذ کا طریقہ کار کیا ہو گا۔ آئندہ دنوں میں یہی عمل ہو گا۔‘
حمد نے مزید کہا: ’معاہدے میں ایک واضح شق موجود ہے کہ اسرائیل اپنے وعدوں پر عمل کرنے اور انہیں نافذ کرنے کا پابند ہو گا۔ اگر اسرائیل معاہدے پر عمل نہیں کرتا تو ہم بھی نہیں کریں گے۔‘
اس ماہ کے آغاز میں حماس نے اس ادارے کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا جو تقریباً دو دہائیوں سے غزہ کا انتظام چلا رہا تھا، جس کے بعد غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی (این سی اے جی) کے لیے علاقے میں سول انتظام سنبھالنے کی راہ ہموار ہوئی، جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد آباد ہیں۔
یہ اقدام حماس کی جانب سے ایک اہم سیاسی تبدیلی کی علامت تھا، جو 2007 میں گذشتہ برس ہونے والے قانون ساز انتخابات میں کامیابی کے بعد غزہ پر حکومت کر رہی تھی۔
دوسری جانب حماس کے سینیئر عہدیدار نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ گروپ کے ہتھیاروں کی فہرست سازی ’غزہ میں اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے ساتھ ساتھ ہو گی، جس کا اختتام مکمل انخلا پر ہو گا۔‘
10 اکتوبر 2025 سے جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد اسرائیلی افواج نے غزہ کی پٹی میں اپنے زیرِ کنٹرول علاقے کو مزید وسعت دی ہے اور اس وقت وہ علاقے کے 60 فیصد سے زیادہ حصے پر قابض ہیں۔
