سعودی عرب نے جمعرات کو ایک کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر کے خطے میں بین الاقوامی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کا تحفظ کرنا ہے۔
یہ اقدام یمن میں حوثیوں کی جانب سے حملوں کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے بحری جہازوں پر حملے کر کے دنیا کے مصروف ترین تجارتی راستوں میں سے ایک کو متاثر کیا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کے مطابق 43 ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے ایک بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کی جہاں اس مجوزہ اتحاد پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
منصوبے کے تحت سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور قائد ملک ہوگا اور اس کا ہیڈکوارٹر بھی مملکت میں قائم کیا جائے گا۔
سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ اتحاد بحری سلامتی کو مضبوط بنائے گا، جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائے گا، عالمی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل کی لائنوں کو محفوظ کرے گا اور آبنائے باب المندب اور خلیجِ عدن میں مشترکہ بحری مفادات کا تحفظ کرے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان، کویت، بحرین، قطر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائجیریہ، صومالیہ، ترکی، مصر، سوڈان اور جبوتی سمیت 14 ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس مجوزہ اتحاد کی حمایت کی تاہم خلیجی عرب ممالک میں سے عمان اور متحدہ عرب امارات ان ممالک میں شامل نہیں تھے جنہوں نے اس اعلامیے کی تائید کی۔
اجلاس میں شریک دیگر ممالک نے بھی اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا، تاہم وہ مشترکہ اعلامیے میں شمولیت کے لیے درکار اپنی اندرونی قومی منظوریوں کا عمل مکمل کر رہے ہیں۔
اس اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اتحاد میں شمولیت کے لیے دروازہ اِن ممالک دیگر دلچسپی رکھنے والے ممالک کے لیے بھی کھلا رہے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک روز قبل ذرائع نے روئٹرز کو بتایا تھا کہ سعودی عرب بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں سے جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک عالمی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادھر حوثیوں نے 20 جولائی کو کہا تھا کہ وہ بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی نافذ کریں گے، اور اس کے بعد انہوں نے سعودی مفادات سے منسلک جہازوں پر کئی حملوں کا دعویٰ بھی کیا۔
بحیرۂ احمر میں کشیدگی دراصل ایران جنگ کا ایک نیا محاذ ہے، جہاں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر حملوں سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والی آبنائے باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے۔
یورپی یونین نے 2024 میں بحیرۂ احمر میں ایک بحری مشن کا آغاز کیا تھا تاکہ جہاز رانی کی آزادی کو بحال اور محفوظ بنایا جا سکے۔
