پشاور: ڈاؤن سنڈروم سے متاثر محمد بشار جرمنی میں برونز میڈل تک کیسے پہنچے؟

پشاور کے محمد بشار کے لیے روزانہ دو گھنٹے کی ٹریننگ معمول کا حصہ ہے۔ گرمی ہو، بارش ہو یا سردی، وہ پشاور کے قیوم سپورٹس کمپلیکس کے ٹریک پر پہنچتے ہیں، جہاں ان کی نظریں اپنی اگلی دوڑ پر ہوتی ہیں۔

حال ہی میں جرمنی میں ہونے والے سپیشل اولمپکس ورلڈ گیمز میں محمد بشار نے 50 میٹر دوڑ میں پاکستان کے لیے برونز میڈل جیتا، جبکہ لانگ جمپ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔

 لیکن ان کی کہانی صرف ایک تمغے کی نہیں، بلکہ اس سوال کی بھی ہے کہ پاکستان میں ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کے لیے کھیل کے میدان میں کتنے مواقع موجود ہیں۔

ٹریک تک پہنچنے کا سفر

محمد بشار ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوئے۔ یہ ایک جینیاتی کیفیت ہے جو انسان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کو مختلف انداز سے متاثر کر سکتی ہے۔

 تاہم ماہرین کے مطابق بروقت تربیت، تعلیم اور سماجی معاونت کے ذریعے ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔

محمد بشار کے ایتھلیٹکس کوچ عدنان خان کے مطابق، انہوں نے 2021 میں بشار کو ٹریننگ دینا شروع کی۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ابتدائی مہینوں میں بشار کے ساتھ کام کرنا آسان نہیں تھا۔

’شروع میں ان کی توجہ برقرار رکھنا، ٹریننگ کے لیے آمادہ کرنا اور معمول بنانا سب سے بڑا چیلنج تھا، لیکن وقت کے ساتھ ان میں غیر معمولی تبدیلی آئی۔ آج وہ اپنی ٹریننگ کو سمجھتے ہیں اور خود بھی اس کا حصہ بنتے ہیں۔‘

عدنان خان کے مطابق بشار نے 2022 میں قومی سطح پر سلور میڈل جیتا، جس کے بعد انہیں اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں تربیتی کیمپوں میں شرکت کا موقع ملا، اور پھر جرمنی میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

ان کا کہنا ہے کہ برانز میڈل محض آغاز ہے اور اب ان کی نظریں اگلے مقابلوں پر ہیں۔

ہم نے کھیل کا راستہ چنا

محمد بشار کی والدہ بتاتی ہیں کہ بیٹے کی پیدائش کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہ ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔

 ان کے مطابق ابتدا ہی سے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بشار کو گھر تک محدود رکھنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں کے مطابق مواقع فراہم کریں گی۔

’ہم نے دیکھا کہ بہت سے ایسے بچے ہیں جو اپنی روزمرہ زندگی میں بھی دوسروں کے محتاج رہتے ہیں، لیکن ہم چاہتے تھے کہ بشار زیادہ خودمختار بنیں۔ اسی لیے ہم نے تعلیم کے ساتھ کھیل کی طرف بھی توجہ دی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ٹریننگ کا عمل آسان نہیں تھا۔

’کبھی انہیں منانا پڑتا تھا، کبھی راستے بھر باتیں کرنی پڑتی تھیں۔ لیکن آہستہ آہستہ کھیل ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنتا گیا۔‘

ان کے مطابق جرمنی میں مقابلوں میں شرکت کے بعد بشار کے اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

پاکستان میں صورتِ حال

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ڈاؤن سنڈروم دنیا بھر میں سب سے عام کروموسومی کیفیتوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی نشوونما اور زندگی کا معیار بروقت طبی، تعلیمی اور سماجی معاونت سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی درست قومی تعداد دستیاب نہیں، تاہم صحت اور معذوری کے شعبے میں کام کرنے والی تنظیمیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ابتدائی تشخیص، بحالی اور کھیلوں تک رسائی کی سہولیات اب بھی محدود ہیں۔

عدنان خان کے مطابق پاکستان میں سہولیات سے زیادہ مسئلہ آگاہی کا ہے۔

’کئی خاندان ایسے بچوں کو کھیلوں میں لانے سے ہچکچاتے ہیں، حالانکہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی ان کے اعتماد اور روزمرہ زندگی دونوں میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔‘

محمد بشار اب اپنی اگلی بین الاقوامی تیاریوں میں مصروف ہیں، جبکہ ان کے کوچ کا کہنا ہے کہ اگر خصوصی ایتھلیٹس کو مسلسل تربیت اور مواقع میسر آئیں تو پاکستان مزید ایسے کھلاڑی عالمی سطح پر متعارف کرا سکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *