شام ڈھلتے ہی کراچی کے مصروف ترین علاقے صدر میں واقع برنس گارڈن کا منظر بدلنے لگتا ہے۔ صدیوں پرانے برگد، نیم کے درختوں کے سائے میں بزرگ چہل قدمی کرتے ہیں، بچے کھیلتے ہیں اور پرندوں کی آوازیں شہر کے شور میں بھی اس باغ کو ایک الگ دنیا کا احساس دلاتی ہیں۔
روزانہ ہزاروں افراد اس تاریخی باغ کے سامنے سے گزرتے ہیں، مگر کم ہی لوگ جانتے ہیں کہ یہ صرف ایک عوامی پارک نہیں بلکہ کراچی کی ابتدائی شہری تاریخ، ٹالپور حکمرانوں، برطانوی راج، شہر کے قدیم آبی نظام اور نوآبادیاتی دور کی کئی داستانوں کا خاموش امین بھی ہے۔
اس باغ کے نام کے ساتھ ایک سوال ہمیشہ جڑا رہا ہے کہ آخر ڈاکٹر جیمز برنس کون تھے؟ اور ان کے نام پر کراچی کا یہ تاریخی باغ کیوں منسوب کیا گیا؟
ایک ڈاکٹر… یا برطانوی جاسوس؟
برنس گارڈن کی تاریخ کا سب سے دلچسپ اور متنازع کردار ڈاکٹر جیمز برنس ہیں، جن کے بارے میں آج بھی مؤرخین کی رائے یکساں نہیں۔
کراچی کی تاریخ پر دو کتابوں کے مصنف اور محقق اقبال رحمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 19ویں صدی کے آغاز میں جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سندھ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی تھی، اس وقت الیگزینڈر برنس سندھ میں برطانوی حکومت کے سیاسی نمائندے تھے۔
ان کے مطابق: ’ایک معروف تاریخی روایت یہ ہے کہ ٹالپور حکمران خاندان کے میر مراد علی ٹالپور شدید بیمار ہوئے تو الیگزینڈر برنس نے اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر جیمز برنس، جو بمبئی میں سرجن تھے، کو سندھ بلوایا۔
’ڈاکٹر جیمز برنس نے ان کا علاج کیا، جس کے بعد انہیں ٹالپور دربار تک رسائی حاصل ہوئی اور برنس خاندان کے مقامی حکمرانوں سے تعلقات مضبوط ہوئے۔‘
اقبال رحمان کے مطابق بعد ازاں برطانوی دور میں برنس خاندان کے نام سے کراچی میں ایک وسیع قطعۂ اراضی عوامی باغ کے لیے مختص کیا گیا، جو آگے چل کر برنس گارڈن کہلایا۔
تاہم ڈاکٹر جیمز برنس کی شخصیت پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔
بعض مؤرخین انہیں ایک ماہر معالج اور انسان دوست شخصیت قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض تاریخ دانوں کے مطابق وہ برطانوی حکومت کے لیے معلومات جمع کرنے کا کردار بھی ادا کرتے تھے۔
اسی بنا پر بعض تاریخی حوالوں میں انہیں برطانوی جاسوس بھی قرار دیا جاتا ہے، اگرچہ اس حوالے سے مؤرخین کے درمیان اتفاقِ رائے موجود نہیں۔
جب برنس گارڈن شہر سے باہر ہوا کرتا تھا
آج برنس گارڈن کراچی کے عین وسط میں واقع ہے، مگر اقبال رحمان کے مطابق ایک وقت تھا جب یہ باغ قدیم فصیل بند کراچی سے باہر شمار ہوتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ شام کے وقت میتھا در اور کھارا در کے دروازے بند ہونے سے پہلے نقارہ بجایا جاتا تھا تاکہ شہر سے باہر موجود لوگ واپس اندر آ جائیں۔
بقول اقبال رحمان: ’اسی زمانے میں برنس گارڈن صرف سیر و تفریح کا مقام نہیں تھا بلکہ خیمہ زنی، میل ملاقات اور شام گزارنے کی ایک معروف جگہ بھی تھا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ اس وقت باغ کا رقبہ موجودہ رقبے سے کئی گنا زیادہ تھا۔ آج جہاں نیشنل میوزیم، اطراف کی سڑکیں، تجارتی عمارتیں اور ٹاور موجود ہیں، وہ سب کبھی اسی باغ کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔
’اسی علاقے میں کراچی کے معروف تاجر بھوجومل سیٹھ اور آتمارام پریتم داس سیٹھ کی رہائش گاہیں بھی تھیں، جبکہ برطانوی دور میں یہی علاقہ شہر کی سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن گیا تھا۔‘
کیا باغ اس سے بھی پرانا ہے؟
برنس گارڈن کی مرکزی دیوار پر آج بھی 1927 درج ہے، جسے دیکھ کر اکثر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ باغ اسی سال تعمیر ہوا۔
تاہم برنس گارڈن پر تفصیلی تحقیق کرنے والے صحافی سلمان پیرزادہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔
بقول سلمان پیرزادہ: ’غالب امکان یہی ہے کہ 1927 باغ کی اصل بنیاد کا سال نہیں بلکہ بعد میں ہونے والی تعمیر، بحالی یا توسیع کی نشانی ہے، کیونکہ تاریخی ریکارڈ اس باغ کے وجود کو اس تاریخ سے کئی دہائیاں پہلے بھی ثابت کرتے ہیں۔‘
کراچی کے پانی کا خاموش محافظ
سلمان پیرزادہ کے مطابق برنس گارڈن صرف خوبصورتی کی علامت نہیں تھا بلکہ کراچی کے ابتدائی آبی نظام کا بھی ایک اہم حصہ تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ باغ کے نیچے زیرِ زمین پانی ذخیرہ کرنے کے بڑے ٹینک موجود تھے، جہاں سے صدر اور اس سے ملحقہ علاقوں کو پانی فراہم کیا جاتا تھا۔
’امکان ہے کہ یہ تاریخی آبی ذخائر آج بھی زمین کے نیچے موجود ہوں، اگرچہ ان پر اب تک کوئی جامع آثارِ قدیمہ یا تکنیکی تحقیق نہیں کی گئی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ باغ میں موجود نوآبادیاتی طرز کا بینڈ سٹینڈ آج بھی اپنی اصل شناخت کسی حد تک برقرار رکھے ہوئے ہے، اگرچہ وقتاً فوقتاً ہونے والی مرمت نے اس کے اصل حسن کو متاثر کیا ہے۔
ان کے مطابق: ’باغ میں ایک دیوہیکل اور صدیوں پرانا درخت اب بھی موجود ہے، جس کا تنا وقت کے بے رحم سفر کا خاموش گواہ محسوس ہوتا ہے۔ اسی طرح باغ میں موجود کئی تاریخی کنویں وقت کے ساتھ ختم ہو چکے ہیں، تاہم باغبان آج بھی ایک ایسی جگہ کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں کبھی ایک قدیم کنواں موجود تھا۔‘
تاریخ اب بھی سانس لے رہی ہے
وقت کے ساتھ برنس گارڈن کا بڑا حصہ شہری توسیع، نئی سڑکوں، سرکاری عمارتوں اور ترقیاتی منصوبوں کی نذر ہو گیا، مگر اس کے باوجود یہ باغ آج بھی کراچی کی نوآبادیاتی تاریخ، قدیم شہری منصوبہ بندی اور ثقافتی ورثے کی ایک اہم علامت سمجھا جاتا ہے۔
شاید اسی لیے برنس گارڈن صرف ایک پارک نہیں، بلکہ ایک ایسی کھلی تاریخ کی کتاب ہے جس کے صدیوں پرانے درخت، خاموش بینڈ سٹینڈ، مٹتے ہوئے کنویں اور زمین کے نیچے مدفون آبی ذخائر آج بھی ماضی کی ان کہی داستانیں سناتے ہیں۔
یہاں آنے والا ہر شخص چند لمحوں کی سیر تو کرتا ہے، مگر اگر ذرا ٹھہر کر دیکھے تو محسوس کرتا ہے کہ کراچی کی دو صدیوں پرانی تاریخ آج بھی اسی باغ کی پگڈنڈیوں پر خاموشی سے سانس لے رہی ہے۔
