پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی عمل جاری ہے۔ ایک مرحلہ مکمل ہوا باقی دو بھی جلد ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ نئی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج کیا ہو گا؟
اس سوال کے ایک سے زیادہ جوابات ہو سکتے ہیں لیکن میرے نزدیک سب سے بڑا چیلنج معاشرے اور طرز حکومت کے بیچ اس خلا کو بھرنا ہو گا جس کی وجہ سے کشمیر ایکشن کمیٹی جیسی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔
یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ کشمیر میں جاری حالیہ شورش کے پیچھے انڈیا ہے۔ یقینا بھارت ہو گا اور اس کے بہت سارے شواہد بھی ہوں گے لیکن یہ ادھورا سچ ہے۔
پورا سچ یہ ہے کہ یہ ہمارے اپنےاندر کا وہ خلا ہوتا ہے جس سے فالٹ لائنز جنم لیتی ہیں ۔ دشمن پھر ان فالٹ لائنز کواستعمال کرتا ہے۔ ہمیں ان فالٹ لائنز کو بھی بھرنا ہو گا جہاں سے دشمن کو خام مال ملتا ہے۔
یاد رہے کہ دشمن خام مال دلی سے نہیں بھیجتا، یہ خام مال اسے ہمارے ہی معاشرے سے ملتا ہے۔ ہمیں سوچنا ہو گا کہ خام مال کی اتنی ارزاں اور آسان فراہمی کیوں ہو رہی ہے؟ مسئلے کی تشخیص کے بعد یہ سلسلہ بند کرنا ہوگا اور یہ ہم اپنی گڈ گورننس سے ہی بند کر سکتے ہیں۔
جہاں پانی سر سے اونچا ہونے لگے وہاں بلاشبہ کارروائی ضروری ہے۔ دہشت گردی کو کچلنے کے لیے سخت ایکشن کسی اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے بغیر کیا جائے۔ مظاہرین اگر اسلحہ سے لیس ہوں، جیسا کہ وزیر اطلاعات کشمیر نے اعلی پولیس افسران کے ساتھ پریس کانفرنس میں بتایا ہے تو وہاں انتظامی قوت کا استعمال ضروری ہوتا ہے لیکن یہ ناکافی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے سماج میں موجود تمام فالٹ لائنز کو اچھی طرز حکومت سے بھر دیا جائے۔
دہشت گردوں اور مسلح گروہوں سے نمٹنا فوج ، پولیس اور دیگر اداروں کا کام ہے لیکن دہشت گردی کو جن فالٹ لائنز سے خام مال ملتا ہے ان فالٹ لائنز کو بھرنا سول حکومتوں کا کام ہے۔
چنانچہ کشمیر کی نئی حکومت کا بنیادی کام یہ ہی ہے کہ وہ اپنا طرز حکومت اتنا ذمہ دارانہ اور اتنا بہتر رکھے کہ وہ سماج میں مرہم کا کام کرے۔ نوجوانوں کو انگیج کرے۔ ان کے مسائل سنے اور حل کرے۔ انہیں شراکت اقتدار کا احساس دلائے یہاں تک کہ گڈ گورننس کے ان عوام دوست مظاہر سے کشمیر میں موجود فالٹ لائنز بھر جائیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جمہوریت کی افادیت کیا ہوتی ہے؟ اس کی افادیت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کو جوڑے رکھتی ہے اور عوام کو ہر دم ایک اونرشپ (ملکیت) کا احساس رہتا ہے کہ یہ ان کی اپنی حکومت ہے۔ سیاست عوام کی نباض ہوتی ہے۔ اہل سیاست کا ہاتھ عوام کی نبض پر پوتا ہے۔ وہ ان کے احساسات اور جائز خواہشات سے جڑی ہوتی ہے۔ مثالی پرفارمنس نہ بھی تب بھی حکومتوں کا عوام سے ایک تعلق خاطر ضرور ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہوا ہے کہ معاشرہ آگے بڑھ گیا ہے اور اہل سیاست پیچھے رہ گئے ہیں۔
کشمیر کی سیاست عوام سے دور ہوتی گئی۔ سیاست کے دروازے صرف اشرافیہ کے لیے کھلے ہیں۔ عام آدمی ان دروازوں سے داخل ہی نہیں ہو سکتا۔ عام آدمی کے لیے جب تک سیاسی جماعتوں کے دروازے نہیں کھلیں گے سماج اور سیاست میں موجود دوری کم نہیں ہو گی۔ سیاست کو روایتی جوڑ توڑ اور حساب سود وزیاں سے بالاتر ہو کر سماج سے قربت اختیار کرنا ہو گا اور نوجوانوں کے لیے سیاسی مناصب تک پہنچنے کے امکانات کو بڑھانا ہو گا۔
جوڑ توڑ کی سیاست نے سہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ نہ کوئی رومان باقی ہے نہ سیاست کوئی خواب دکھا پا رہی ہے۔ ایک زمانے میں کشمیر کی سیاست میں رومان ہوا کرتا تھا۔ عرصہ ہوا، وہ قصہ ماضی ہو چکا۔ اب نہ کسی کے پاس کوئی خواب ہے نہ رومان ہے۔
رومان کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ لوگوں کا جذباتی استحصال کرتے ہوئے انہیں جھوٹے خوابوں کی دنیا میں رکھا جائے۔ سیاست کا رومان حقیقت پسندانہ بھی ہو سکتا ہے۔
آخر عوام کو اس سیاست سے جوڑے رکھنا ہے تو اس کی کوئی معقول وجہ تو ہونی چاہیے۔ نئی نسل کے پاس نئے تقاضے ہیں۔ سوششل میڈیا نے جمہوری عمل سے مایوسی جب بڑھنے لگتی ہے تو عوام لاتعلق ہو جاتے ہیں، پھر خلا پیدا ہوتا ہے۔ خلا میں پھر فالٹ لائنز ابھرتی ہیں اور دشمن ان فالٹ لائنز کو استعمال کرتا ہے۔ وہ یہاں سے خام مال تلاش کرتا ہے۔
اچھا ہوا کہ الیکشن ہو رہے ہیں۔ معاملات ایوانوں میں ہی طے ہوتے ہیں سڑکوں پر نہیں۔
اب اس انتخابی عمل اور جمہوریت، ہر دو کا بھرم آئندہ حکومت کی کارکردگی سے مشروط ہو گا۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

