پاکستان اور کویت نے بدھ کو تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، افرادی قوت، دفاع اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ اعلیٰ سطحی تبادلوں کے ذریعے ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
دفتر خارجہ نے یہ بیان نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے وفود کی سطح کے مذاکرات کے بعد جاری کیا۔
مذاکرات میں دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ طویل عرصے سے قائم شراکت داری کو دفاعی تعاون سے آگے بڑھاتے ہوئے وسیع تر اقتصادی تعاون تک وسعت دی جائے گی۔
بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں علاقائی امور پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
’دونوں فریقوں نے پاکستان اور کویت کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، افرادی قوت، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، کان کنی اور معدنیات، دفاع اور مجموعی اقتصادی شراکت داری میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا۔‘
بیان کے مطابق ’دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی روابط اور باقاعدہ اعلیٰ سطحی تبادلوں پر اتفاق کیا۔‘
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب چند دن قبل کویت نے پاکستان کے ساتھ پانچ سالہ دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کی ہے، جس کے تحت فوجی تربیت، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، لاجسٹکس، دفاعی ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور مشترکہ فوجی مشقوں میں تعاون کے لیے ایک فریم ورک قائم ہوا ہے۔
یہ معاہدہ، جس پر اصل میں 2023 میں دستخط کیے گئے تھے، فوجی سازوسامان کی تیاری میں تعاون کی بھی گنجائش فراہم کرتا ہے اور اس پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی کے قیام کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
اس معاہدے کی توثیق پاکستان اور کویت کے سول اور عسکری حکام کے درمیان کئی ماہ تک جاری اعلیٰ سطحی رابطوں کے بعد عمل میں آئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے دوران کویت کو حالیہ علاقائی تنازعات میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
H.E. Sheikh Jarrah Jaber Al-Ahmad Al-Sabah, Minister of Foreign Affairs of the State of Kuwait, departed Islamabad today following the successful conclusion of his official visit to Pakistan.
Additional Secretary (Middle East), Mr. Zahid Hussain, saw off the distinguished guest… pic.twitter.com/qiY1mJB8b9
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 29, 2026
دوطرفہ تعاون کے علاوہ دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کی کوششوں میں پاکستان ایک اہم سفارتی رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
پاکستان کا سفارتی کردار اس وقت مزید نمایاں ہوا جب اس نے اپریل میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان غیر معمولی مذاکرات کی میزبانی کی، جن کے نتیجے میں جون میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔
اس عبوری معاہدے میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے اور وسیع تر مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
اس کے بعد سوئٹزرلینڈ کے برگن سٹاک میں اعلیٰ سطحی اور تکنیکی مذاکرات ہوئے، جہاں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکی اور ایرانی نمائندوں نے حتمی تصفیے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ منظور کیا۔
اس روڈ میپ میں پابندیوں، ایران کے جوہری پروگرام اور خلیج میں سمندری سلامتی جیسے امور شامل تھے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم، اس ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ حملوں کے آغاز کے بعد پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والی بیشتر پیش رفت متاثر ہوگئی۔
تازہ جھڑپوں میں ایران کی جانب سے خلیج میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں جبکہ امریکہ نے جواباً ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے اور حال ہی میں سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا، جس سے علاقائی تنازع مزید وسیع ہو گیا۔
ان پیش رفتوں کے باوجود اسلام آباد نے سعودی عرب، عمان، کویت، چین اور قطر سمیت علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکراتی عمل جاری رکھا جا سکے اور مزید کشیدگی کو روکا جا سکے۔
پاکستان نے ایرانی حکام کے ساتھ بھی رابطے برقرار رکھے ہیں تاکہ سابقہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ثالثی کے عمل کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ’دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور، خصوصاً مشرق وسطیٰ اور فلسطین کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ’کویت کے وزیر خارجہ نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو بھی سراہا۔‘
