ٹرمپ کی تقاریر پر شرط لگا کر ایک لاکھ ڈالر جیتنے والا وائٹ ہاؤس اہلکار ملازمت سے فارغ

طویل عرصے تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیلی پرامپٹر چلانے والا اہلکار اب وفاقی حکومت کا ملازم نہیں رہا کیونکہ وفاقی تفتیش کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اہلکار نے پیش گوئی کرنے والی مارکیٹ ’کالشی‘ (Kalshi) پر صدر کی تقاریر سے متعلق شرطیں لگا کر ایک لاکھ ڈالر سے زائد کمائے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ تقریباً ایک دہائی سے ٹرمپ کے ساتھ سفر کرنے اور کام کرنے والے گیبریئل پیریز ’اب وفاقی حکومت میں ملازم نہیں ہیں۔‘ تاہم عہدیدار نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ انہیں برطرف کیا گیا یا انہوں نے استعفیٰ دیا۔

گیبریئل پیریز ٹرمپ کی دوسری مدت انتظامیہ میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے معاونین میں شامل تھے۔ کانگریس کو جمع کرائی گئی وائٹ ہاؤس کی ایک رپورٹ کے مطابق وہ ’صدر کے ڈپٹی اسسٹنٹ اور تکنیکی مشیر‘ کے طور پر سالانہ 1 لاکھ 75 ہزار ڈالر تنخواہ حاصل کر رہے تھے۔

اس ماہ کے آغاز میں انہیں بغیر تنخواہ کے انتظامی رخصت پر بھیج دیا گیا تھا، جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ کالشی نے اندرونی تحقیقات کے بعد ممکنہ اندرونی تجارت (Insider Trading) کے معاملے کو کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن (سی ایفسی ٹی) کے سپرد کر دیا ہے۔

گیبریئل پیریز پر الزام ہے کہ وہ صدر کی تقاریر سے پہلے حاصل ہونے والی معلومات استعمال کرتے ہوئے اس بات پر شرطیں لگاتے تھے کہ ٹرمپ اپنی تقریر میں مخصوص الفاظ یا جملے ادا کریں گے یا نہیں اور اس طرح انہوں نے کالشی سے ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ جیت لیے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے اس ماہ کے آغاز میں صحافیوں کو بتایا کہ گیبریئل پیریز کو بغیر تنخواہ کے رخصت پر بھیجنے کا فیصلہ خود ٹرمپ نے کیا تھا۔ انہوں نے ان الزامات کو ’انتہائی افسوس ناک اور صاف طور پر باعثِ شرم‘ قرار دیا۔

گیبریئل پیریز، جو 2016 کی صدارتی انتخابی مہم سے ٹرمپ کے ساتھ کام کر رہے تھے، ان چند اعلیٰ معاونین میں شامل تھے، جو صدر کی تقریر نشر ہونے سے پہلے دیکھتے تھے۔

 ٹرمپ نے 2024 میں ریاست نیواڈا کے شہر رینو میں انتخابی تقریب کے دوران کہا تھا: ’میرے پاس ایک آدمی ہے، گیب۔ وہ بہترین ہے۔ میرے پاس کچھ بہت خراب لوگ بھی رہے، لیکن گیب بہترین ہے۔‘

اے بی سی نیوز کے مطابق، جس نے سب سے پہلے اس تحقیقات کی خبر دی، گیبریئل پیریز نے فروری میں ٹرمپ کے سٹیٹ آف دی یونین خطاب اور اگلے تین ماہ کے دوران ایک درجن سے زائد دیگر تقریبات پر شرطیں لگائیں، جن میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب اور میڈل آف آنر کی تقریب بھی شامل تھی۔

کالشی کے شعبۂ نگرانی کے سربراہ بابی ڈی نالٹ نے اس ماہ کے آغاز میں ایک بیان میں کہا کہ کمپنی کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے ’فوری طور پر ان مشتبہ لین دین کی نشاندہی کی اور انہیں وفاقی تفتیش کاروں کے حوالے کر دیا‘، جبکہ کمپنی ’ریگولیٹرز کے ساتھ مکمل تعاون اور معاونت کر رہی ہے۔‘

کیرولائن لیویٹ نے صحافیوں سے کہا: ’میرے خیال میں یہ معاملہ بالکل اسی طرح آگے بڑھا جیسے بڑھنا چاہیے تھا۔ کالشی نے مشتبہ سرگرمی سے متعلق کمیشن کو آگاہ کیا، انہوں نے تحقیقات کی، متعلقہ فرد کی شناخت کی اور اب وہ وائٹ ہاؤس میں مزید کام نہیں کریں گے۔‘

اطلاعات کے مطابق مین ہیٹن میں وفاقی استغاثہ نے فوجداری تحقیقات شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم ریگولیٹرز نے مبینہ طور پر گیبریئل پیریز کے ساتھ ایک تصفیہ طے کر لیا ہے، جس کے تحت انہیں اپنی حاصل کردہ رقم واپس کرنا ہوگی اور آئندہ اس نوعیت کی شرطیں لگانے سے باز رہنا ہوگا۔

ناقدین کو خدشہ ہے کہ حکومتی ملازمین حساس اور غیر عوامی معلومات تک اپنی رسائی استعمال کر کے عالمی مالیاتی منڈیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر عالمی سیاست کی سمت بھی متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ پیش گوئی کی ویب سائٹس نے اس عمل کو مزید آسان بنا دیا ہے۔

قانون ساز اور کئی ریاستی اسمبلیاں اس بات پر غور کر رہی ہیں کہ حکومتی عہدیداروں کے لیے پولی مارکیٹ (Polymarket) اور کالشی جیسی ویب سائٹس کے استعمال پر پابندیاں عائد کی جائیں۔

دوسری جانب، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سے متعلق مشتبہ شرط بازی میں اضافے کے بعد وائٹ ہاؤس نے اپنے عملے کو اس نوعیت کی لین دین سے خبردار بھی کیا ہے۔

وفاقی اخلاقی ضوابط پہلے ہی سرکاری ملازمین کو سرکاری املاک پر جوا کھیلنے سے روکتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس مینجمنٹ آفس نے مارچ میں تمام عملے کو ایک یادداشت بھیجی تھی، جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ غیر عوامی معلومات کو ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

یہ انتباہ اس وقت جاری کیا گیا جب شرط بازی کی ویب سائٹس پر کئی مشتبہ اور غیر معمولی طور پر بروقت سرگرمیاں سامنے آئیں، جن میں امریکی فوج کے ایک اہلکار پر یہ الزام بھی شامل تھا کہ اس نے معزول وینزویلا کے رہنما نکولس مادورو کی گرفتاری سے متعلق خفیہ معلومات استعمال کرتے ہوئے پولی مارکیٹ پر چار لاکھ ڈالر سے زائد کمائے۔

اہلکار گینن کین وان ڈائیک پر کموڈیٹی ایکسچینج ایکٹ کی خلاف ورزی کے تین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال قید ہے۔ اس کے علاوہ ان پر وائر فراڈ اور غیر قانونی مالی لین دین کا بھی ایک ایک الزام عائد کیا گیا ہے۔

وفاقی استغاثہ کے مطابق اس سے پہلے کہ ٹرمپ جنوری میں مادورو کی گرفتاری کا اعلان کرتے، گینن کین وان ڈائیک نے خفیہ معلومات تک رسائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پیش گوئی کی منڈی میں 33 ہزار ڈالر سے زائد کی شرطیں لگائیں،

اپریل میں کالشی نے اعلان کیا تھا کہ کانگریس کے انتخابات میں حصہ لینے والے تین امیدواروں نے اپنی ہی انتخابی دوڑ کے نتائج پر شرطیں لگائیں۔ کمپنی نے ٹیکساس میں رپبلکن پرائمری کے امیدوار ایزکیل اینریکیز، مینیسوٹا سے ایوانِ نمائندگان کی نشست کے لیے انتخاب لڑنے والے ڈیموکریٹ ریاستی سینیٹر میٹ کلین اور ورجینیا کے سینیٹ انتخاب میں آزاد امیدوار مارک موران پر جرمانہ عائد کیا اور انہیں معطل کر دیا۔

دوسری جانب صدر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل نے بھی اپنی پیش گوئی کی منڈی شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کالشی اور پولی مارکیٹ جیسی کمپنیوں کو کام کرنے سے روکتی ہے تو امریکہ ’دنیا سے پیچھے رہ جائے گا۔‘

انہوں نے اپریل میں صحافیوں سے کہا: ’بدقسمتی سے پوری دنیا کسی حد تک ایک جوئے خانے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آپ یورپ سمیت دنیا بھر میں دیکھیں، ہر جگہ اس طرح کی شرط بازی ہو رہی ہے۔ میں ذاتی طور پر کبھی بھی اس کا زیادہ حامی نہیں رہا۔ تصوراتی طور پر مجھے یہ پسند نہیں، لیکن حقیقت یہی ہے۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *