پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج کا سلسلہ جاری

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر ہے۔

پہلے مرحلے کے تحت 27 جولائی کو میرپور، کوٹلی اور بھمبر ڈویژن کے 13 انتخابی حلقوں میں پیر کو ووٹنگ ہوئی، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق میرپور ڈویژن کے بیشتر حلقوں کے نتائج موصول ہو چکے ہیں، تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن نے ابھی تک تمام نتائج کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔

یہ انتخابات پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی نئی مدت کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کی مجموعی طور پر 53 نشستیں ہیں، جن میں سے 45 نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوتے ہیں جبکہ باقی نشستیں خواتین، علما و مشائخ، اوورسیز کشمیریوں اور ٹیکنو کریٹس سمیت مخصوص طبقات کے لیے مختص ہیں۔

الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کو مرحلہ وار مکمل کرنے کا شیڈول جاری کیا ہے تاکہ مختلف ڈویژنز میں سکیورٹی، انتظامی امور اور انتخابی انتظامات کو مؤثر انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔

ابتدائی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے پہلے مرحلے میں برتری حاصل کی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی متعدد حلقوں میں سخت مقابلہ کرتی نظر آئی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم انتخابی تصویر دوسرے اور تیسرے مرحلے کے نتائج کے بعد ہی مکمل طور پر واضح ہو سکے گی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی نتائج کے مطابق حلقہ ایل اے-1 سے مسلم لیگ (ن) کے اظہر صادق 15,427 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد افسر شاہد 9,832 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ ایل اے-3 میرپور سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری یاسر سلطان 12,590 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد سعید 11,081 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ ایل اے-4 میرپور میں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری رخسار 22,376 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے صہیب ارشد 15,851 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔

الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق انتخابات کے باقی دو مراحل آئندہ ہفتوں میں منعقد ہوں گے، جن میں مظفرآباد، پونچھ اور دیگر اضلاع کے حلقوں میں پولنگ ہو گی۔

ان مراحل کی تکمیل کے بعد تمام نشستوں کے نتائج مرتب کیے جائیں گے، جس کے بعد کامیاب امیدواروں کا باضابطہ اعلان اور نئی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کا عمل شروع ہوگا۔

سیاسی جماعتوں کی نظریں اب اگلے مراحل پر مرکوز ہیں، کیونکہ انہی نتائج کی بنیاد پر یہ طے ہوگا کہ نئی قانون ساز اسمبلی میں کس جماعت کو حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت حاصل ہوتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *