آخر ہم کس گھن چکر میں پھنس گئے ہیں؟

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہر روز کا تعین اب محض ایک معاشی معاملہ نہیں رہا، بلکہ عام آدمی کے لیے ایک مستقل ذہنی آزمائش بن چکا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر روز ایک نیا فارمولہ، ایک نئی توجیہ اور قیمتوں میں اضافے کی ایک نئی لہر سامنے آ جاتی ہے۔ کمی اگر کبھی ہوئی بھی ہے تو معمولی اور عارضی، جبکہ اضافے کا رجحان تقریباً مستقل دکھائی دیتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی حالات بھی اب واضح سمت اختیار کرتے نظر نہیں آتے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری تناؤ کے بعد اگرچہ براہِ راست حملوں میں عارضی اور غیر اعلانیہ تعطل سامنے آیا ہے مگر صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اسی غیر یقینی کیفیت کے زیرِ اثر اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ لیکن پاکستان میں قیمتوں کے تعین کا رجحان دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عالمی منڈی کی سمت خواہ کوئی بھی ہو، مقامی صارف کے حصے میں اکثر اضافہ ہی آتا ہے۔

جب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو یہ دلیل دی جاتی ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ مگر جب عالمی منڈی میں نرخ نیچے آتے ہیں تو اچانک کئی دوسرے عوامل اہم ہو جاتے ہیں۔ کبھی روپے کی قدر میں کمی کا حوالہ دیا جاتا ہے، کبھی پٹرولیم لیوی کا، کبھی ٹیکسوں کا بوجھ اور کبھی درآمدی اخراجات کا۔ نتیجہ یہ کہ مہنگائی کی وضاحت کے لیے دلائل کی کمی نہیں ہوتی، لیکن ریلیف دینے کی گنجائش کم ہی دکھائی دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پٹرول صرف گاڑیوں کے لیے ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کی دھڑکن ہے۔ اس کی قیمت میں معمولی سا اضافہ بھی معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تعمیراتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، کاروباری اخراجات اوپر جاتے ہیں اور بالآخر اس کا بوجھ عام صارف کی جیب پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یوں پٹرول کی قیمت صرف ایک شے کی قیمت نہیں بڑھاتی بلکہ زندگی کے مجموعی اخراجات میں اضافہ کر دیتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی لیے عوام کے ذہن میں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: اگر عالمی منڈی نسبتاً مستحکم ہے، اگر جنگی خطرات میں وقتی کمی آئی ہے، اگر خام تیل کی قیمتوں میں پہلے جیسا دباؤ نہیں رہا تو پھر ملکی سطح پر مہنگائی کا بوجھ کیوں برقرار ہے؟ آخر وہ کون سا معاشی نظام ہے جس میں اضافے کے اثرات فوری طور پر منتقل ہو جاتے ہیں، مگر کمی کے فوائد عوام تک پہنچنے میں غیر معمولی تاخیر کا شکار رہتے ہیں؟

درحقیقت مسئلہ صرف پٹرول کی قیمت نہیں، اعتماد کے بحران کا بھی ہے۔

بلاشبہ حکومت کے اپنے مالی تقاضے ہیں۔ قرضوں کا دباؤ ہے، محصولات بڑھانے کی ضرورت ہے، بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدے ہیں اور بجٹ اہداف بھی پورے کرنے ہیں۔ یہ تمام عوامل اپنی جگہ اہم اور حقیقی ہیں۔

تاہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان تمام پالیسیوں کی آخری قیمت ایک عام شہری ادا کرتا ہے؛ وہ شہری جس کی آمدنی محدود ہے، جس کی تنخواہ سال میں ایک بار بڑھتی ہے یا بعض اوقات برسوں جمود کا شکار رہتی ہے، مگر جس کے اخراجات ہر چند ہفتوں بعد بڑھ جاتے ہیں۔

پاکستانی عوام آج ایک عجیب معاشی دوراہے پر کھڑے ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو تو قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، حالات معمول پر آئیں تو بھی خاطر خواہ ریلیف نظر نہیں آتا۔ بین الاقوامی عوامل اضافے کی توجیہ بن جاتے ہیں، مگر کمی کی بنیاد کم ہی بنتے ہیں۔ یہی تاثر عوامی بے چینی کو جنم دیتا ہے۔

معاشی پالیسیوں میں شفافیت اور وضاحت ناگزیر ہے۔ اگر قیمتوں میں اضافے کی وجوہات تفصیل سے بیان کی جا سکتی ہیں تو قیمتوں میں کمی نہ ہونے کے اسباب بھی اسی وضاحت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھے جانے چاہییں۔

اعتماد اسی وقت بحال ہوگا جب لوگوں کو محسوس ہوگا کہ ریاست صرف مالی بوجھ منتقل نہیں کر رہی بلکہ جہاں ممکن ہو وہاں ریلیف فراہم کرنے کی بھی سنجیدہ کوشش کر رہی ہے۔

بصورت دیگر ہر نئی قیمت، ہر نیا نوٹیفکیشن اور ہر روز آنے والا ہر نیا اعلان عوام کے ذہن میں یہی سوال تازہ کرتا رہے گا: آخر ہم کس گھن چکر میں پھنس گئے ہیں؟

ایک ایسا گھن چکر جس میں عالمی حالات بدلتے رہتے ہیں، جنگوں کی شدت کم یا زیادہ ہوتی رہتی ہے، منڈیاں اوپر نیچے جاتی رہتی ہیں، مگر عام آدمی کو محسوس ہونے والی مہنگائی کا رخ شاید ہی کبھی تبدیل ہوتا ہو۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *