وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو کوئٹہ میں کہا ہے کہ بلوچستان پولیس اور انسداد دہشت گردی فورس کی پیشہ ورانہ استعداد کار کو مزید بہتر بنایا جائے گا، جبکہ صوبے میں جاری سکیورٹی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 13 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں مختلف دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن العزم جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ آپریشن کے دوران اب تک 13 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بنانے کا سامان بھی برآمد ہوا ہے۔
یہ کارروائیاں مستونگ میں حالیہ تین دہشت گرد حملوں کے بعد شروع کی گئیں، جن میں ایک جج اور ان کے سکیورٹی گارڈ سمیت 10 شہری جان سے گئے تھے۔ ان حملوں کے بعد ضلع کے بعض علاقوں میں جزوی کرفیو بھی نافذ کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں کی مشترکہ صدارت میں بلوچستان میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں بلوچستان میں انسداد دہشت گردی فورس اور پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ صوبائی پولیس کو مضبوط بنانے کے لیے پہلے سے کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد تیز کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں درکار وسائل کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اجلاس کو صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، جاری سکیورٹی اقدامات اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امن کی بحالی کے لیے تیار کیے گئے ماسٹر پلان پر فوری اور مؤثر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ امن و امان کی حکمت عملی مرتب کرتے ہوئے بلوچستان پولیس کے سابق سربراہان کے تجربات اور مشاورت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔
ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر انٹیلی جنس اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے، جبکہ وفاقی اور بلوچستان حکومت امن کے قیام کے لیے مکمل یکجہتی اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت ہر محاذ پر ایک قدم آگے رہے گی اور کسی دباؤ میں نہیں آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے گی اور دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی جائے گی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، مثبت سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، جبکہ میرٹ کے فروغ کے ذریعے نوجوانوں کا اعتماد بحال کر کے انہیں مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ امن، ترقی اور خوشحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے بلوچستان میں دونوں محاذوں پر بیک وقت پیش رفت یقینی بنائی جائے گی۔ ان کے مطابق وفاق کے تعاون سے صوبے میں امن و امان کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں پر مزید تیزی سے عمل درآمد کیا جائے گا۔
بلوچستان، جو ایران اور افغانستان سے ملحق پاکستان کا سب سے بڑا مگر کم ترقی یافتہ صوبہ ہے، کئی برسوں سے علیحدگی پسند مسلح گروہوں کی شورش کا شکار ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں ان حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ملک کے شمال مغرب میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔
پاکستانی حکام متعدد بار الزام عائد کر چکے ہیں کہ انڈیا پاکستان میں سرگرم شدت پسندوں کی معاونت کرتا ہے، جبکہ افغانستان انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرتا ہے۔ تاہم نئی دہلی اور کابل ان الزامات کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں۔
